غزل
کڑی کڑی سے جڑے
ایک سلسلہ ہو جائے
یہ دل ملے جو نظر سے تو کیا سے کیا ہو جاۓ
میں شش جہت میں
سراپا سرا ے حیرت ہوں
مجھے جو غور سے دیکھے ، وہ آئنہ ہو جاۓ
میرے جہان کی
رونق تیری نظر تک ہے
تیری نگاہ بدلتے
ہی جانے کیا ہو جائے
ابھی میں حالت
جولانی جنوں میں نہیں
ابھی حجاب کو
موقع ہے آپ وا ہو جاۓ
غضب کا زنگ ہے یک
سطح شیشہ دل پر
عجب نہیں ، یہ کوئی دن میں آئنہ ہو جائے

Comments
Post a Comment