کہانی
پر کیف رات اپنے تبسم میں غم لیے
پسماندگان زیست پر نوحہ کناں رہی
میں حزن بے کراں تھا یا سیل غم حیات
ہر پل مری نگاہ میں اک روشنی رہی!
وہ روشنی کہ جس سے مرااسم زندہ تھا
وہ روشنی بسر کے کسی سے مری رہی!
عہد وفا سے
ناتہ مراٹوٹ بھی چکا
لیکن وہ رفتگی ہے کہ یوں سوچتا ہوں میں
میری کہانی اس کو اگر یاد بھی نہ ہو
میری پرستشوں کی نہیں انتہا کوئی
اس کے سلگتے سانس مری دھڑکنوں میں ہیں !
جب رات بھیگنے لگی
میں سوگوار تھا!
تب چاندنی نے جھوم کے مجھ سے کہا چلو!
ان بستیوں میں چلتی ہواؤں کے درمیان
جن کا ہر ایک کو چہ لب بام حشر ہے
جن کے ہر ایک خیمے یہ لکھا ہے میرا نام !
نا آشنا ہوائیں ہیں برق نگاہ حسن
ان کی عنائتوں سے ہرے پیڑ جل گئے
ندی کا بہتا پانی بھی
شعلہ نفس ہوا!
جی جگمگا اٹھا تھا، جگر جھلملا اٹھا
میرے گماں میں کوند گئی برق شبنمی
اس کا جمال اپنی بقا کا بھرم لیے
ہر پل مرے خیال سے بچتا رہا کہ میں
ارض بہار عشق کا مالک تھا، پراسے
محکوم ہو کے مجھ سے محبت نہ ہوسکی !
میرے لہو سے کرب کی چنگاریاں اٹھیں
مجھ کومری تمنانے
مغموم کر دیا!
محکوم ہو کے میں بھی سفر پر نکل پڑا
محکوم ان اداؤں کا جن کو نہیں ثبات
چتون نے اس کی میرے کھلونوں کو تو ڑ کر
مجھ کو بلکتا چھوڑ دیا مثل بندگی!
میرے کھلونے اس کی عنایات ہی تو تھے
وہ میری خستہ زیست کا حاصل نہ بن سکے
کہنے کومنزلوں پر پہنچنے کا بھید تھے
اس کو تو اپنی راہ کی قندیل مل گئی
کس کام کی تھی میری وہ غمخوار روشنی
جس کا سراغ میرے لیے زندگی بنا!
کہنے کو منتظر ہوں
اگر لوٹ بھی وہ آۓ
آنکھوں کے آئینوں میں بصارت نہیں رہی !
ڈاکٹر سعادت سعید
مجموعہ :من ہرن
Comments
Post a Comment