Skip to main content

ٹی ایس ایلیٹ کے تنقیدی نظریات||T.S Eliot||مغربی نقاد اردو

  

ٹی ایس ایلیٹ

مضمون کا گزشتہ حصہ یہاں پڑھیں 

ٹی ایس ایلیٹ کے تنقیدی نظریات||T.S Eliot||مغربی نقاد اردو


شاعری کا تجزیہ یوں کرنا کہ اس میں اتنے حصے نفسیاتی بصیرت ، اتنے حصے تاریخی صداقت اتنے حصے صوتی خوشگواری ، اتنے حصے مصنف کی شخصیت اور اسی طرح اور عناصر ہوتے ہیں، ہمارے زمانے کی ایک دماغی تفریح ہے ۔ لیکن اس سے یہ مرکز ی سوال حل نہیں ہوتا کہ شاعری بذات خود کیا چیز ہے اور اس کی امتیازی سیرت کیا ہے؟ بیسویں صدی میں نقادوں کے ایک ممتاز گروہ نے اپنے آپ کو ضمنی مباحثوں سے مخلی باالطبع کر کے اس امر کے تعین کی کوشش کی ہے کہ شاعری میں وہ کون سی بات ہوتی ہے جو کسی اور ذہنی تخلیق میں نہیں ہوتی ۔ مثلا ان نقادوں کی رائے میں شاعری شخصیت کا اظہارنہیں ہوتی اور نہ قوی جذبات کا ایک اضطراری طغیان ہوتی ہے، جور و مانی نقادوں اور شاعروں کے بنیادی عقائد تھے ۔ ٹی ایس ایلیٹ کہتا ہے:

''شاعری جذبات کو ڈھیل دینے کا نام نہیں ۔ وہ تو جذبات سے ایک طرح
 کا فرار ہے۔ وہ شخصیت کا اظہا نہیں بلکہ اس سے گریز ہے ۔''

 اس کی تصریح وہ ذیل کے الفاظ میں کرتا ہے:

 ’’ شاعر کے یہاں شخصیت کی قسم کی کوئی چیز نہیں ہوتی جس کا وہ اظہار

 کرے۔اس کے پاس تو محض ایک وسیلہ اظہار ہوتا ہے ۔ اس وسیلۂ اظہار

 میں تاثرات اور تجربات عجیب وغریب اور غیر متوقع صورتوں میں جمع

ہوجاتے ہیں ۔ وہ تاثرات و تجربات جو شاعر کے لے بہ حیثیت ایک انسان

 کے اہمیت رکھتے ہیں ،ممکن ہے کہ شاعر کی شخصیت میں ان کا کوئی بڑا حصہ نہ ہو۔ ''

یہ نقطہ نگاہ رچرڈز کے نقطہ نگاہ کی عین ضد ہے ۔رچرڈز کا طریقہ افلاطونی ہے ، جس کی سڈنی اور شیلے نے بھی تقلید کی ،یعنی وہ طریقہ جو شاعری کو ایک ایسے معیار پر پرکھتا ہے جو زندگی پر بہ حیثیت مجموعی عائد ہوتا ہے ۔افلاطون اور اس کے مقلد ین میں فرق یہ ہے کہ جہاں افلاطون نے اپنے عام معیار زندگی کا اطلاق شاعری پر کر کے یہ دیکھا کہ شاعری اس پر پوری نہیں اترتی ، وہاں اس کے مقلدین نے ایک مختلف معیار پر شاعری کو پرکھا جس پر وہ پوری اتری۔ارسطو کا طریقہ یہ ہے کہ شاعری کی قدر یں خود اس کے اندر ڈھونڈی جائیں ، اگر چہ یہ بجا ہے کہ بالآخران قدروں کو عام قدروں کے ایک معیاری نظام سے متعلق کرنا ضروری ہوتا ہے ۔موجودہ دور کی تنقید زیادہ تر ارسطو کے مسلک پر گامزن ہے ۔


آج کے مطالعے کے لیے ایک ورق مزید پڑھیں

  1. اردو غزلیات کا بہترین انتخاب  ہر شعر آپ کے دل کے قریب تر 
  2. اشفاق احمد ورک کی مزاحیہ  تحریریں اور خاکے ضرور ملاحظہ فرمائیں
  3. جدید اردو نظم کے خوب صورت نقوش آپ کے ذوق کی نظر
  4. اسد محمد خان کے بہترین اور لازوال افسانے [کیا آپ مختصر کہانیوں سے رغبت رکھتے ہیں؟]
  5. پنجابی شاعری کا کڑا انتخاب ہمارے ساتھ  ملاحظہ فرماِئیں
  6. علامہ اقبال کی فکر  کو سمجھیں منتخب لیکچرز کی مختصر رپورٹ
  7. اردو کی بہترین مزاحیہ شاعری ملاحظہ فرمائیں۔۔

Comments

Popular posts from this blog

حسن تعلیل||صنعت حسن تعلیل کی مثالیں||اردو کی اہم صنعتیں||urdu ki mashhoor sanatain

  حسن تعلیل اردو لیکچرر کے لیے معاون مواد پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں تعلیل عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے علت یا  وجہ بیان کرنا یا توجیح پیش کرنا ‘’حسن تعلیل شعری صنعت ہے جس میں شاعر کسی واقعے کی اصل منطقی ،جغرافیائی یا سائنسی  وجہ کو نظر انداز کر کے  تخیلاتی جذباتی اور عین شاعرانہ وجہ بیان کرتا ہے ‘’     مثال بے سبب زلزلہ عالم میں نہیں آتا ہے کوئی   بے تاب تہ خاک   تڑپتا      ہو    گا زلزلے کی سائنسی وجہ تو زیر زمیں پلیٹس کے اندر تبدیلی یا ٹکراو کو سمجھا جاتا ہے لیکن  شاعر نے تخیلاتی سطح پہ اس کی شاعرانہ وجہ کسی عاشق کا زیر زمیں تڑپنا بتائی ہے   سب کہاں ؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں غالب نے اس شعر  گل و لالہ کا نمایاں ہونے کی وجہ زیر زمیں پنہاں ہونے والے خوبصورت چہروں کو بیان کیا ہے  امید ہے آپ حسن تعلیل سے آگاہ ہو چکے ہیں مزید مثالوں اور مشق کے لیے یہاں دبائیں

کہانی از ڈاکٹر سعادت سعید

 کہانی پر کیف رات اپنے تبسم میں غم لیے  پسماندگان زیست پر نوحہ کناں رہی  میں حزن بے کراں تھا یا سیل غم حیات  ہر پل مری نگاہ میں اک روشنی رہی!  وہ روشنی کہ جس سے مرااسم زندہ تھا  وہ روشنی بسر کے کسی سے مری رہی! عہد وفا سے ناتہ مراٹوٹ بھی چکا لیکن وہ رفتگی ہے کہ یوں سوچتا ہوں میں  میری کہانی اس کو اگر یاد بھی نہ ہو میری پرستشوں کی نہیں انتہا کوئی  اس کے سلگتے سانس مری دھڑکنوں میں ہیں ! جب رات بھیگنے لگی میں سوگوار تھا!   تب چاندنی نے جھوم کے مجھ سے کہا چلو!  ان بستیوں میں چلتی ہواؤں کے درمیان  جن کا ہر ایک کو چہ لب بام حشر ہے  جن کے ہر ایک خیمے یہ لکھا ہے میرا نام !  نا آشنا ہوائیں ہیں برق نگاہ حسن  ان کی عنائتوں سے ہرے پیڑ جل گئے  ندی کا بہتا پانی بھی  شعلہ نفس ہوا! جی جگمگا اٹھا تھا، جگر جھلملا اٹھا  میرے گماں میں کوند گئی برق شبنمی اس کا جمال اپنی بقا کا بھرم لیے ہر پل مرے خیال سے بچتا رہا کہ میں ارض بہار عشق کا مالک تھا، پراسے محکوم ہو کے مجھ سے محبت نہ ہوسکی ! میرے لہو سے کرب کی چنگاریاں اٹھیں ...

لطائف اقبال/اردو لطیفے||اردو طنزو مزاح||Allama Muhammad Iqabal

لطائف اقبال علامہ اقبال۔۔۔۔۔ساقی نامہ   مغرب کے اہل سیاست اقبال کی نظر میں کیمرج کے زمانہ میں چند ہم عصروں سے مذہب پر بحث چھڑ گئی۔ایک صاحب پوچھنے لگے مسٹر اقبال یہ کیا بات ہے کہ جتنے پیغمبر اور بانیان مذہب دنیا میں آئے وہ بلا استثنا ایشیا میں مبعوث ہوئے۔یورپ میں ایک بھی نبی مبعوث نہیں ہوا؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا۔بھئی شروع شروع میں اللہ میاں اور شیطان نے اپنا اپنا پیترا جما لیا۔اللہ میاں نے ایشیا کو پسند کیا اور شیطان نے یورپ کو۔۔۔اس لیے پیغمبر جو اللہ میاں کی طرف سے آئے ہیں ایشیا میں مبعوث ہوئے ۔وہ صاحب بول اٹھے تو پھر شیطان کے پیغمبر کیا ہوئے ۔انھوں نے جواب دیا:''یہ تمھارے میکائیولی اور مشہور اہل سیاست اس کے رسول ہیں ۔'' [اس پر خوب قہقہہ پڑا ] دنیا میں جنت دوسری گول میز کانفرنس کے زمانے میں انگلینڈ کی مشہور سیاح خاتون مس روزیتا فوریس نے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات  کا شوق ظاہر کیا۔چناں چہ مس صاحبہ نے انھیں اپنے ہاں مدعو کیا۔یہ خاتون شمالی افریقہ اور  اسلامی ممالک میں بہت زیادہ پھری تھیں اور ان پراس سیاحت کا بہت اچھا اثر پڑا تھا۔ڈاکٹر صاحب کے خیال میں ان کا محل جو لندن م...