Skip to main content

اصناف نثر||افسانوی ادب کی مشہور اصناف||ناول کیا ہے|داستان کیا ہے|ڈراما کیا ہے||افسانہ کیا ہے||Asnaf e nasr||Nasri Asnaf

  

اصناف نثر

اصناف نثر||افسانوی ادب کی مشہور اصناف||ناول کیا ہے|داستان کیا ہے|ڈراما کیا ہے||افسانہ کیا ہے||Asnaf e nasr||Nasri Asnaf


اصناف نظم پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں

''نثر '' عربی زبان کا لفظ ہے  جس  کے لغوی معنی ہیں  '' پراگندہ یا بکھرا ہوا '' اصطلاح میں یہ لفظ '' نظم '' کے متضادکے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

اصناف نثر کو مزاج کے حوالے سے دو حصوں میں منقسم کیا جاتا ہے  جو کہ ذیل میں دیے گئے ہیں :-

افسانوی ادب(Fiction  )

اس کی چار اقسام ہیں :

v  داستان

v  ناول

v  ڈراما

v  افسانہ

v  فینٹسی [بحوالہ اصناف نظم و نثر ] ڈاکٹر محمد علی و اشفاق احمد ورک


غیر افسانوی ادب


غیر افسانوی ادب میں فکشن کے علاوہ ہر طرح کی نثری تحریریں شامل ہیں:

v  مضمون

v  مقالہ

v  انشائیہ

v  سوانح

v  آپ بیتی

v  مکتوب

v  خاکہ

v  تبصرہ

v  سفر نامہ

v  طنزومزاح

 

داستان

کہنے کی چیز کو کہانی کہتے ہیں ۔کہانی کا مترادف لفظ  قصہ یا حکایت ہے اور داستان قصہ کہانی کی قدیم ترین قسم ہے ۔

''ناقدین کے نزدیک داستان اس  طویل فرضی قصے کا نام ہے،جس کی فضا

طلسماتی ،رومانی اور تصوراتی ،واقعات و کردار غیر فطری اور مثالی ،جب کہ

ماحول تخیلاتی ہوتا ہے ۔''

داستان میں جنوں ،پریوں ،دیو ،چڑیلوں ،اڑن کھٹولوں،جادوئی قالینوںاور مافوق الفطرت عناصر سے واسطہ پڑتا ہے  داستان گوئی ایک باقاعدہ فن کی صورت میں رائج رہی اور  یہ عربی و فارسی سے اردو میں منتقل ہوئی ۔برصغیر میں داستان لکھنے کا آغاز دکن سے ہوا اور برصغیر کے طول و عرض میں پھیل گیا۔

اردو کی پہلی باقاعدہ داستان  ملا وجہی کی ''سب رس'' قرار پاتی ہے  جو ۱۶۳۵ء میں  لکھی گئی ۔اس کے بعد عیسوی خان بہادر کی ''قصہ مہر افروز دلبر '' ہے  جو ۱۷۳۰ء میں تصنیف ہوئی۔اٹھارویں صدی کی ایک اور اہم داستان دلی کے نابینا بادشاہ  شاہ عالم ثانی کی ''عجائب القصص'' ہے جو ۱۷۹۲،۹۳ء میں لکھی گئی تھی ۔

داستان لکھنے کی روایت کو ''فورٹ ولیم کالج '' نے بام عروج بخشا اور اس ادارے نے اردو کی مشہور داستانوں کو اپنی سرپرستی میں لکھوایا۔

ناول

ناول اطالوی زبان کا لفظ ہے  جس کے معنی '' نیا ،انوکھا یا نرالا '' کے ہیں ۔داستان کے برعکس ناول کی بنیاد حقیقت اور فطرت پر اٹھائی جاتی ہے  بلکہ '' ناول  نگار زندگی کے مختلف پہلووں کا بغور مشاہدہ کر کے   اپنے مشاہدات و تجربات  کو ایک خاص ترتیب اور سلیقے  کے ساتھ کہانی کے انداز میں بیان کرتا ہے''اس طرح ناول انسانی کی پوری زندگی اور سماجی بنت  کا احاطہ کرتا ہے ۔ناول کے عناصر میں پلاٹ ،کردار ،مکالمہ ،منظر نگاری ،انداز فکر  اہمیت کے حامل ہیں اس کے علاوہ مزاح کا عنصر بھی مل جاتا ہے ۔

ناول کی کئی اقسام ہیں چند مشہور اور اہم قسموں میں اصلاحی ناول،سوانحی ناول ،دستاویزی ناول ،جاسوسی ناول اور تاریخی ناول کے نام آتے ہیں۔

اردو کا پہلا ناول '' مراۃالعروس '' ہے  جو ڈپٹی نذیر احمد نے ۱۸۶۹ء میں طبع کروایا لیکن بعض نقاد اسے ناول نہیں سمجھتے  لیکن پھر بھی اسے پہلی کڑی ضرور سمجھا جاتا ہے اور پہلی مثال ہونے کی وجہ سے اسے کئی بنیادوں پہ استثنا بھی دینا ہو گا۔

اردو ناول کی روایت خاصی طویل ہے جہاں دنیائے فن وادب کے بڑے بڑے  مینار کھڑے ہیں اور یہ فن مزید پختگی کی طرف محو سفر ہے۔

افسانہ (Short Story)

جیسا کہ اس کے انگریزی نام سے ظاہر ہے  افسانہ  مختصر تحریر کا نام ہے  جس میں کسی خاص واقعے ،کردار یا لمحے کی جھلک دکھائی جاتی ہے ۔

افسانے کی سب سے اہم خصوصیت ''وحدت تاثر'' ہے   یعنی زندگی کا  کوئی ایک پہلو ،مسئلہ یا نظریہ بیان ہو ۔

وحدت زمان و مکان اور اختصار بھی اس کی اہم خصوصیت ہے ۔

اردو کا پہلا افسانہ نگار  راشدالخیری کو سمجھا جاتا ہے  اور ان کے افسانے '' نصیر اور خدیجہ '' کو پہلا افسانہ جب کہ باقاعدہ افسانہ نگار منشی پریم چند کو سمجھا جاتا ہے ۔سجاد حیدر یلدرم کا نام بھی ابتدائی افسانہ نگاروں میں شمار ہوتا ہے لیکن خود ان کے بقول ان کا افسانہ طبع زاد نہیں بلکہ ترک  افسانے کے آزاد تراجم ہیں ۔

 افسانہ اردو ادب کی خوش قسمت صنف ہے جس کو ادیبوں نے بڑی تعداد میں اپنے اظہار رائے کا ذریعہ بنایا  اور آج بھی افسانہ اپنا وجود اور قاری پر سحر طاری کیے ہوئے ہے ۔۔۔۔۔ترقی پسند تحریک نے افسانے کو بام عروج بخشا ۔

ڈراما

ڈراما یونانی زبان کے لفظ ڈراو(Drau) سے مشتق ہے  جس کے معنی ہیں ''عمل کر کے دکھانا ،ناٹک ،سوانگ ،تمثیل ،رہس  اور اوپیرا  کے ہیں۔ڈراما میں نقالی حقیقت کے قریب ہونی چاہیے اور یہ کہانی بیان کرنے کے بجائے کر کے دکھانے کا عمل ہے ۔

تاثر کے لحاظ سےڈرامے  کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے :۔

المیہ ( Tragedy):درد ناک واقعات سے ترتیب دیا گیا ڈراما جس رحم اور دردمندی کے جذبات  کو ابھارا جاتا ہے۔

 طربیہ(Comedy):خوش گوار واقعات سے ترتیب دیا گیا  جس کا عمومی مقصدتفریح ہوتا ہے

اس کے علاوہ

سوانگ(Farce) : سوانگ میں ادنیٰ مذاق اور مبالغہ آمیز بذلہ سنجی اور ظرافت کااظہار ہوتا ہے ۔۔۔۔

میلو ڈراما(Melodrama):میلو  یونانی لفظ سے لیا گیا ہے جس کے معنی ''گیت '' کے ہیں  چناں چہ اس ڈرامے میں گیت ہی زیادہ تر ہوتے ہیں  میلو ڈراما میں جذبات نویسی پر زور دیا جاتا ہے ۔۔

ڈریم(Dram):ڈریم کا مفہوم وسیع ہے اس میں تہذیب و ثقافت اور معاشرت سے متعلق زندگی کے مختلف النوع مسائل کو  پیش کیا جات ہے  اس میں آفاقی تاثرات پیش کیے جاتے ہیں

مخلوط ڈراما:اس قسم کے ڈراما میں ہر نوع کے ڈرامے کے ملے جلے خواص پائے جاتے ہیں

یک بابی ڈراما(One Act Play): تکنیک کے اعتبار سے یہ ڈراما کی اہم قسم ہے ۔اس میں ایک ہی باب میں تمام ڈراما مکمل ہو جاتا ہے  یہ مختصر ڈراما ہوتا ہے اور جدید اور مصروف زندگی میں انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اسے ''ایکانکی'' ڈراما بھی کہتے ہیں

نشری ڈراما:نشری ڈراما ریڈیو سے نشر ہوتا ہے اسے ریڈیائی ڈراما بھی کہتے ہیں  یہ آواز کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے اور کانوں سے سنا جا سکتا ہے۔۔۔۔

 

ڈرامے کے عناصر میں سٹیج ،پلاٹ،کردار ،مکالمہ اور موسیقی ہیں اس کے علاوہ تماشائی اس کی اہم ضرورت ہیں۔

خواص کے لیے نواب واجد علی شاہ  جو اختر تخلص کرتے تھے نے ''رادھا کنہیا '' کے نام سے ایک ناٹک لکھا جو عوامی پیش کش کے لیے تو نہ تھا لیکن اپنے سن اشاعت ۱۸۴۲ء کی وجہ سے اردو کا پہلا ڈراما تصور کیا جاتا ہے ۔

اس کے ساتھ اردو کا پہلا باقاعدہ عوامی ڈراما ۱۸۵۲ء میں امانت لکھنوی نے ''اندر سبھا'' کے نام سے لکھا ۔۔۔۔

آغا حشر کاشمیری نے اردو ڈرامے کو بام عروج بخشا انھیں انڈین شیکسپئیر بھی کہا جاتا ہے ۔۔۔ان کے مشہور ڈرامے رستم و سہراب ،اسیر حرص،ترکی حور اور یہودی کی لڑکی  وغیرہ ہیں جب کہ سید امتیاز علی تاج نے ۱۹۲۲ء میں مشہور ڈراما '' انارکلی '' لکھ کے جہاں اس کے کردار امر کر دیے وہیں جدید ڈراما کی بنا بھی ڈال دی ۔

جدید دور کے ڈراما نگاروں میں میرزا ادیب کا نام سب سے نمایا ں ہے  ان کے متعدد مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔۔۔۔

فینٹسی

''فینٹسی کسی ایسی تخیلاتی تحریر کو کہتے ہیں جس میں مصنف اپنے مشاہدے کے زور اور تخیل کی بلند پروازی کے ذریعے کبھی مستقبل کو حال میں کھینچ لاتا ہے اور پیش گوئی کے انداز میں مخصوص حالات و واقعات کو ہمارے سامنے پیش کرتا ہے ،کبھی عمر رفتہ کو آواز دے کر حال کے شانہ بشانہ کھڑا کر دیتا ہے ''

فینٹسی ایک خواب ناکی کی کیفیت ہے جو خیالی دنیاوں کی عکاسی کرتی ہے

ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی اور دوسرے نقادفینٹسی کو باقاعدہ صنف نثر نہیں سمجھتے  لیکن ڈاکٹر اشفاق احمد ورک اور داکٹر علی محمد خان نے اپنی کتاب''اصناف نظم و نثر'' میں اسے باقاعدہ صنف کے طور پر پیش کیاہے۔۔۔

 

آج کے مطالعے کے لیے ایک ورق مزید پڑھیں

  1. اردو غزلیات کا بہترین انتخاب  ہر شعر آپ کے دل کے قریب تر 
  2. اشفاق احمد ورک کی مزاحیہ  تحریریں اور خاکے ضرور ملاحظہ فرمائیں
  3. جدید اردو نظم کے خوب صورت نقوش آپ کے ذوق کی نظر
  4. اسد محمد خان کے بہترین اور لازوال افسانے [کیا آپ مختصر کہانیوں سے رغبت رکھتے ہیں؟]
  5. پنجابی شاعری کا کڑا انتخاب ہمارے ساتھ  ملاحظہ فرماِئیں
  6. علامہ اقبال کی فکر  کو سمجھیں منتخب لیکچرز کی مختصر رپورٹ
  7. اردو کی بہترین مزاحیہ شاعری ملاحظہ فرمائیں۔۔

 

Comments

Popular posts from this blog

حسن تعلیل||صنعت حسن تعلیل کی مثالیں||اردو کی اہم صنعتیں||urdu ki mashhoor sanatain

  حسن تعلیل اردو لیکچرر کے لیے معاون مواد پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں تعلیل عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے علت یا  وجہ بیان کرنا یا توجیح پیش کرنا ‘’حسن تعلیل شعری صنعت ہے جس میں شاعر کسی واقعے کی اصل منطقی ،جغرافیائی یا سائنسی  وجہ کو نظر انداز کر کے  تخیلاتی جذباتی اور عین شاعرانہ وجہ بیان کرتا ہے ‘’     مثال بے سبب زلزلہ عالم میں نہیں آتا ہے کوئی   بے تاب تہ خاک   تڑپتا      ہو    گا زلزلے کی سائنسی وجہ تو زیر زمیں پلیٹس کے اندر تبدیلی یا ٹکراو کو سمجھا جاتا ہے لیکن  شاعر نے تخیلاتی سطح پہ اس کی شاعرانہ وجہ کسی عاشق کا زیر زمیں تڑپنا بتائی ہے   سب کہاں ؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں غالب نے اس شعر  گل و لالہ کا نمایاں ہونے کی وجہ زیر زمیں پنہاں ہونے والے خوبصورت چہروں کو بیان کیا ہے  امید ہے آپ حسن تعلیل سے آگاہ ہو چکے ہیں مزید مثالوں اور مشق کے لیے یہاں دبائیں

کہانی از ڈاکٹر سعادت سعید

 کہانی پر کیف رات اپنے تبسم میں غم لیے  پسماندگان زیست پر نوحہ کناں رہی  میں حزن بے کراں تھا یا سیل غم حیات  ہر پل مری نگاہ میں اک روشنی رہی!  وہ روشنی کہ جس سے مرااسم زندہ تھا  وہ روشنی بسر کے کسی سے مری رہی! عہد وفا سے ناتہ مراٹوٹ بھی چکا لیکن وہ رفتگی ہے کہ یوں سوچتا ہوں میں  میری کہانی اس کو اگر یاد بھی نہ ہو میری پرستشوں کی نہیں انتہا کوئی  اس کے سلگتے سانس مری دھڑکنوں میں ہیں ! جب رات بھیگنے لگی میں سوگوار تھا!   تب چاندنی نے جھوم کے مجھ سے کہا چلو!  ان بستیوں میں چلتی ہواؤں کے درمیان  جن کا ہر ایک کو چہ لب بام حشر ہے  جن کے ہر ایک خیمے یہ لکھا ہے میرا نام !  نا آشنا ہوائیں ہیں برق نگاہ حسن  ان کی عنائتوں سے ہرے پیڑ جل گئے  ندی کا بہتا پانی بھی  شعلہ نفس ہوا! جی جگمگا اٹھا تھا، جگر جھلملا اٹھا  میرے گماں میں کوند گئی برق شبنمی اس کا جمال اپنی بقا کا بھرم لیے ہر پل مرے خیال سے بچتا رہا کہ میں ارض بہار عشق کا مالک تھا، پراسے محکوم ہو کے مجھ سے محبت نہ ہوسکی ! میرے لہو سے کرب کی چنگاریاں اٹھیں ...

لطائف اقبال/اردو لطیفے||اردو طنزو مزاح||Allama Muhammad Iqabal

لطائف اقبال علامہ اقبال۔۔۔۔۔ساقی نامہ   مغرب کے اہل سیاست اقبال کی نظر میں کیمرج کے زمانہ میں چند ہم عصروں سے مذہب پر بحث چھڑ گئی۔ایک صاحب پوچھنے لگے مسٹر اقبال یہ کیا بات ہے کہ جتنے پیغمبر اور بانیان مذہب دنیا میں آئے وہ بلا استثنا ایشیا میں مبعوث ہوئے۔یورپ میں ایک بھی نبی مبعوث نہیں ہوا؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا۔بھئی شروع شروع میں اللہ میاں اور شیطان نے اپنا اپنا پیترا جما لیا۔اللہ میاں نے ایشیا کو پسند کیا اور شیطان نے یورپ کو۔۔۔اس لیے پیغمبر جو اللہ میاں کی طرف سے آئے ہیں ایشیا میں مبعوث ہوئے ۔وہ صاحب بول اٹھے تو پھر شیطان کے پیغمبر کیا ہوئے ۔انھوں نے جواب دیا:''یہ تمھارے میکائیولی اور مشہور اہل سیاست اس کے رسول ہیں ۔'' [اس پر خوب قہقہہ پڑا ] دنیا میں جنت دوسری گول میز کانفرنس کے زمانے میں انگلینڈ کی مشہور سیاح خاتون مس روزیتا فوریس نے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات  کا شوق ظاہر کیا۔چناں چہ مس صاحبہ نے انھیں اپنے ہاں مدعو کیا۔یہ خاتون شمالی افریقہ اور  اسلامی ممالک میں بہت زیادہ پھری تھیں اور ان پراس سیاحت کا بہت اچھا اثر پڑا تھا۔ڈاکٹر صاحب کے خیال میں ان کا محل جو لندن م...