زمیں کو دیکھے کسی اور ہی نگاہ سے تو||غزل افضال نوید||اردو شاعری محبت||محبت کے موضوع پر بہترین غزل||Afzaal Naveed
غزل
افضال نوید
زمیں کو دیکھے کسی اور ہی نگاہ سے تو
جو آشنا ہو کسی روز
میری آہ سے تو
مرے وجود و عدم کا الگ زمانہ ہے
کہیں پناہ نہ مانگے
میری پناہ سے تو
بہت عجیب زمانوں کا
شور ہے مجھ میں
کہیں خموش نہ ہو جاۓ میری چاہ سے تو
بجھا پڑا تھا کسی
سبزہ مزار پہ میں
مہک رہا تھا کسی نشئہ
گیاہ سے تو
یہاں کہ ہم نے کوئی عمر تھام رکھی تھی
وہاں کہ دست و گریباں
تھا روز و ماہ سے تو
نشیب عمر میں شاید تجھے خیال آۓ
غبار کھینچ بھی سکتا تھا میری راہ سے تو
یہیں کہیں میری مٹی میں بیٹھ جاۓ گا
نکل گیا بھی جو میرے
دل تباہ سے تو
بہاۓ آب نے کوئی تو رہ پکڑنی ہے
گناہ اور کرے گر
بچے گناہ سے تو
حصار شام و سحر میں گریز پا کیوں ہیں
نوید! تجھ سے مہ و مہر ، مہر و ماہ سے تو

Comments
Post a Comment