میتھیو آرنلڈ
سائنس کی رو بہ ترقی
مادہ پرستی سے تہذیب انسانی کے روحانی پہلوؤں کو جو خطرہ لاحق ہو گیا تھا، اس کا
سد باب آرنلڈ کو مذہب کے بس کا روگ معلوم نہ ہوتا تھا، کیونکہ مذہب اس غلط فہی کا
شکار تھا کہ وہ سائنس سے سائنس ہی کے ہتھیاروں کے ساتھ لڑ کر کامیاب ہو سکے گا۔ عقائد
کی عقلی تصدیق اور خارق عادت امور کو مادی صداقتوں کی طرح ثابت کرنے کی کوشش کا نتیجہ
اس کے سوا اور کیا ہوسکتا تھا کہ مذہب سائنس کی ایک ادنی بلکہ مستر دومتروک شاخ بن
کر رہ جاۓ ۔اگر کچھ امید تھی تو شاعری سے تھی ، کیونکہ شاعری واقعاتی
صداقت سے بے نیاز ہوتی ہے اور اپناہی ایک ضابطہ اقدار رکھتی ہے ۔ آرنلڈ اس نکتے کو
یوں بیان کرتا ہے :۔
''ہمارا مذہب امور
واقعی ،فرضی امور و قائی، کا مدعی بن کر گویا مادہ پرست
بن گیا ہے ۔اس نے اپنے جذبات کو امور واقعی کے
ساتھ وابستہ کر لیا ہے ،
اور امور واقعی نے اس کے ساتھ بے وفائی کی ہے ۔
لیکن شاعری کے لئے
امور واقعی کچھ حیثیت
نہیں رکھتے ۔اس کے لئے خیال ہی سب کچھ ہوتا
ہے، باقی سب مایا ہے،
وہم ہے، فریب ہے شاعری اپنے جذبات کو
خیالات کے ساتھ وابستہ کرتی ہے، خیالات ہی کے اس
کیلیے واقعات
ہوتے ہیں ''۔
اس کی تائید وہ ذیل کے الفاظ میں کرتا ہے:
افلاطون شاعروں کا حامی کیوں نہیں تھا شاعری کے متعلق اس کا خیال کیا تھا ؟ یہاں پڑھیں
'’مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ نوع انسانی اس حقیقت
سے پیش از پیش آگاه
ہوتی چلی جائے گی کہ
زندگی کی تفسیر کے لئے ،اپنی تسکین قلب کے لئے ،
اپنی ہمت برقرار رکھنے کیلئے ، اسے شاعری سے
رجوع کرنا پڑے گا۔
شاعری کے بغیر ہماری
سائنس نامکمل دکھائی دے گی اور شاعری بہت سی
ایسی چیزوں کی جگہ لے لے گی جنھیں ہم اب مذہب
اور فلسفے کے نام سے
پکارتے ہیں۔۔۔ ورڈزورتھ نے کس صداقت اور خوش
اسلوبی کے ساتھ کہا
ہے کہ شاعری علم کی
روح رواں ہے ۔ ہمارا مذہب ابلہ قریبی کی خاطر اپنی
صداقت کی شہادتیں پیش کرتا ہوا، ہمارا فلسفہ علت و معلول اور حادث
وقدیم کے متعلق ایک
احساس فضیلت کے ساتھ استدلال کرتا ہوا، یہ
دونوں علم کی نقلوں
اور جھوٹی نمائشوں کے سوا کیا ہیں؟ ایک دن ایسا آۓ
گا جب ہمیں اپنی سادگی پر تعجب ہوگا کہ ہم نے ان
پر اعتماد کیا اور اس کو ثقہ
ومتین سمجھا ۔ ان کا
پول جتنا کھاتا جائے گا اتنی ہی ہم علم کی اس روح رواں
کی جسے شاعری کہتے ہیں
، زیادہ قدر کر یں گے ۔''
آرنلڈ کی راۓ میں’’ شاعری
زندگی کی ایک تنقید ہے''۔ اس کی تشریح و ہ یوں کرتا ہے ۔
’’ شاعری کی زبردست
قوت اس کی قوت تفسیر میں مضمر ہے۔ اس سے
میری مرادر از کائنات
کے معنی کا ایک لفظی مرقع پیش کرنے کی قوت نہیں
بلکہ چیزوں سے ایسے طور پر تعرض کرنے کی قوت کہ
ہمارے اندران کا اور
ان کے ساتھ ہمارے تعلق کا ایک مکمل ، نیا اور
گہرا احساس پیدا
ہو جاۓ ۔ جب اپنے
اردگرد کی چیزوں کے متعلق ہمارے دل میں ایسا احساس پیدا
ہو جا تا ہے تو ہمیں یوں
لگتا ہے کہ جیسے ہم ان چیزوں کی ماہیت سے مس
رکھتے ہیں اور وہ ہمارے لئے بار خاطر اور سوہان
روح نہیں بلکہ ہمارے
ساتھ ہم رازی اور ہم
بازی کے رشتے میں مربوط ہیں ۔ اس سے بڑھ کر
تسکین اور تسلی بخشنے والا احساس کوئی نہیں ہو سکتا ۔''
.jpg)
اچھی کوشش
ReplyDelete