نجیب احمد نجیب ، حیدرآباد
غزل
اپنے گھر کی یہی کہانی
ہے
ایک چالو ہے اک دوانی
ہے
چھوٹی خالہ بڑی اتانی
ہے
اک بلا وہ بھی آسمانی ہے
پھول جھڑتے ہیں اس کے
ہونٹوں سے
گالی ہر ایک منہ زبانی ہے
رہ کو میکے میں روز مس کالاں
اس کی فطرت میں چھیٹرخانی
ہے
مسکرا کر چھری پھرائیں
گی
اس کی عادت بہت پرانی ہے
اچھی خاصی ہے،خوب صورت ہے
بیوٹی پارلر کی بھی دوانی ہے
رشتہ اس سے بہت پرانا ہے
پہلی الفت کی نشانی
ہے

Alaaaaa
ReplyDelete