یہ شام پہلے مری آنکھ میں اترتی ہےپھر اس کے بعد ترے شہر سے گزرتی ہے
اک انتظار میں صدیوں سے آہ بھرتی ہے
ٹھہر ٹھہر کے گلی سے ہوا گزرتی ہے
نہ جانے ڈھونڈتی پھرتی ہے کن زمانوں کو
یہ خاک سی جو در و
بام پر بکھرتی ہے
مرے دھلے ہوۓ بستر پہ گرتی رہتی ہے
جو میل چادر افلاک سے اترتی ہے
مرے ستارۂ دل پر خزاں کے موسم میں
وہ شاخ چشم کسی اوٹ سے ابھرتی ہے
ادھر که چشمۂ باد بہار ابلتا ہے
نوید! اونگھتے رہیے نہ اپنی کرسی پر
اگر یہ آنکھ کسی واہمے سے ڈرتی ہے
افضال نوید

Comments
Post a Comment