Skip to main content

فلپ سڈنی کے تنقیدی نظریات||فلپ سڈنی اردو ترجمہ||Philip Sidney||ڈرائیڈن کے تنقیدی نظریات||پوپ کی تنقید

 فلپ سڈنی


فلپ سڈنی کے تنقیدی نظریات||فلپ سڈنی اردو ترجمہ||Philip Sidney



 اس کے بعد ایک اہم سنگ میل فلپ سڈنی کا تنقیدی مضمون شاعری کا جواز ( The Defence of Poesie) تھا۔ تخیلی ادب کے برخلاف (جوسڈنی کی اصطلاح میں شاعری کا مترادف تھا ) اتقائیوں Puritans)) کا یہ الزام تھا کہ وہ منافی اخلاق ،ضعف انگیز ، دروغ پرست اور اوباشی پسند ہوتا ہے ۔ وہ لوگ اپنی حمایت میں افلاطون کی زبردست سند پیش کرتے تھے یعنی  جمہوریہ سے شاعروں کا اخراج ۔ سڈنی شاعری کی قدامت پر زور دیتا ہے اور اس نے تہذیب کی ترقی میں جو  حصہ لیا ہے اس کو سراہتا ہے ۔ مثلاً وہ یہ شہادت پیش کرتا ہے کہ اولین فلسفیوں اور سائنس دانوں نے نظم میں جو اظہار خیال کیا ۔لیکن ارسطو پہلے ہی کہ چکا تھا  کہ وزن و بحر کی موجودگی طبعی علوم کی کتابوں کو شاعری کا درجہ نہیں بخش سکتی ۔

 

سڈ نی سولن(Solon) کی مثال پیش کرتا ہے اور اس نے نظم میں سرزمین اوقیانوس کی جو داستان لکھی تھی اس کی تعریف کرتا ہے ۔ اس مثال میں دو باتیں غور طلب ہیں ۔ ایک تو نظم کا استعمال ، دوسرے داستان ۔ شاعری میں صرف وزن و بحر ہی نہیں ہوتے ، بلکہ واقعات کا اختراع بھی ہوتا ہے یعنی ایک تخیلی کہانی ۔

 

اس کے بعد وہ افلاطون کے شاعرانہ انداز بیان کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے ، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ انداز بیان کو بھی شاعری کا ایک لازمی عنصر سمجھتا ہے ۔ پھر وہ یونانی مورخ ہیروڈوٹس( Herodotus) کا ذکر کرتے ہوۓ کہتا ہے کہ ہیرو ڈوٹس اور اس کے تابعین سب نے جذبات انسانی کو جس ہیجان انگیز طریقے سے بیان کیا ہے وہ طریقہ انھوں نے شاعری سے مستعارلیا تھا۔ چنانچہ اس کے نزدیک شاعری میں تین عنصر لازمی ہیں، یعنی اختراع ، خوش بیانی اور جذبہ انگیزی۔ دوسرے الفاظ میں شاعری تاریخی اور اخلاقی مضامین کے بیان کرنے کا ایک عمدہ طریقہ ہے۔ بہر کیف اس کی قدرو قیمت نفس مضمون پر منحصر ہوتی ہے ۔

سڈنی کی یہ راۓ ایک ایسی رائے ہے جو مدتوں سے عام لوگوں میں رائج ہے عام لوگ شاعری کو بذات خود کوئی اعلی صنف کلام نہیں سمجھتے بلکہ دوسرے علوم کی ایک حسین کنیز۔ بہر حال معلم، مورخ ،فلسفی اور عالم کی حیثیت سے شاعر کا جو درجہ ہے اس سے قطع نظر سڈنی کے نزد یک شاعر کی ایک اور حیثیت بھی ہے ۔ وہ یہ کہ وہ  ا یک صناع ، ایک مخترع ، ایک موجد بھی ہے۔ وہ نئی چیزیں بناتا ہے اور اس امر میں وہ دوسرے علوم وفنون کی مشق کر نے والوں سے ممتاز ہے۔ سڈنی اس نکتے کو ذیل کے الفاظ میں بیان کرتا ہے:

''انسان کا کوئی فن ایسانہیں جوفطرت کی بنائی ہوئی چیزوں پر مبنی نہ ہو ۔۔۔۔ صرف شاعر ایک ایسافن کار ہے جو فطرت کی لکیر کی فقیر سے انکار کر کے ،اپنی قوت ایجاد کے بل بوتے پر، ایک نئی فطرت تخلیق کرتا ہے اور ایسی چیزیں ایجاد کرتا ہے جو یا تو فطرت کی چیزیں کی اصلاح یافتہ  صورتیں ہوتی ہیں یا ان سے بالکل جدا گا نہ نئی چیزیں ہوتی ہیں ۔ ''

اس کے معنی یہ ہوۓ کہ سڈنی کے نزدیک شاعر صرف یہی نہیں کرتا کہ جو چیزیں پہلے ہی سے موجود ہیں ان کی نقل کرے ،ان کا خا کہ ا تارے، ان کا اظہار کرے یا ان سے بحث کرے۔ بلکہ وہ بالکل نئی چیزیں ایجاد کرتا ہے۔ اس دعوے کا جو پہلو خاص طور پر دلچسپ ہے وہ یہ ہے کہ شاعر جو چیزیں ایجاد کرتا ہے اس دعوے کا جو پہلو خاص طور پر دلچسپ ہے وہ یہ کہ شاعر جو چیزیں ایجاد کرتا ہے وہ چاہے فطرت کی چیزوں ہی  کا نقش ثانی ہوں یا بالکل نئی چیزیں ، بہر حال فطرت کی چیزوں سے بہتر ہوتی ہیں۔ یہاں وہ افلاطون کا حربہ اس کے برخلاف استعمال کر جاتا ہے ۔ افلاطون کا اعتراض یہ تھا کہ شاعر محض اشیاے فطری کی نقل کرتا ہے جو خود ایک ازلی وابدی خیال یا مثال کی کہ جو صانع کائنات کے ذہن میں ہے  کی نقل ہوتی ہیں ۔ سڈنی کہتا ہے کہ شاعر کی تخلیقات اشیائے فطری کی نقل نہیں ہوتیں بلکہ ان کی تجدید اور نئے سرے سے تشکیل ہوتی ہیں، اور یہ تجدید و  تشکیل اس خیال کے مطابق ،حقیقت کا ذہنی نقشہ، افلاطون کی مثال کی ایک دوسری صورت معلوم ہوتا ہے۔البتہ سڈ نی اس امر کی صراحت نہیں کرتا ۔

ارسطو کا جو یہ نظر یہ تھا کہ شاعراشیاۓ فطرت کی اصلاح کر کے ان کی نقل کرتا ہے۔ سڈنی اس پر یہ اضافہ کرتا ہے کہ پڑھنے والا بھی شاعر کے بیان سے متاثر ہو کر بیان کردہ چیز کی نقل کرتا ہے گو یا نقل پڑھنے والے کے حصے میں بھی آ گئی۔ شاعر کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ پڑھنے والے کے لیے لذت اور ہدایت دونوں مہیا کرے۔

سڈنی شاعری کو اخلاقی تعلیم کے ایک ذریعے کی حیثیت سے فلسفے اور تاریخ دونوں پر ترجیح دیتا ہے ۔ وہ فلسفے کی طرح محض مجردافکار کا ایک خشک اور دماغ پاش مجموعہ نہیں ہوتی ، بلکہ زندہ انسانوں کے افعال و جذبات کو پیش کرتی ہے ۔ اس طرح جہاں تاریخ پر یہ مجبوری عائد ہے کہ وہ انسانی افعال کو من وعن پیش کرے وہاں شاعر اس کا مجاز ہے کہ اخلاقی ہدایت یا عبرت کی خاطر نیکی کو نیک تر اور بدتر بنا کر دکھائے یعنی نیکی کے حسن اور بدی کے قبح کو اور بھی نمایاں کردے۔اس سے سڈنی کی مراد یہ ہے کہ جس عالم مثال کا نقشہ  کھینچتا ہے اس عالم میں انسانی افعال اور ان کے نتائج ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے ہونے چاہئیں ، نہ کہ جیسے واقعات کی دنیا میں ہوتے ہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شاعر کے بیان کردہ واقعات کا ئنات کے ایک افضل اخلاقی نظام کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ لیکن ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ شاعر اسلوب اظہار ایسا ہو کہ پڑھنے والے کو متاثر کر سکے ۔ یہاں سڈنی کے نظریے میں شاعری اور بلاغت کے ڈانڈے مل  جاتے ہیں ۔ شاعر کو فلسفہ وتاریخ پر صرف مضمون کے اختیار سے تفوق نہیں، بلکہ طرز بیان کے نقطہ نگاہ سے بھی ہے ۔ یہ امر تنقید شاعری کی تاریخ کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ سڈنی نے شاعری کا ایک ایسا اخلاقی نظریہ پیش کیا جس کی رو سے اخلاقی ہدایت کے ساتھ ساتھ حسن بیان بھی شاعری کے لوازم میں شمار ہونے لگا۔ یعنی شاعری صرف تعلیم ہی کا ذریعہ  نہیں سے بلکہ تلذذ کا سامان بھی مہیا کرتی ہے اگر ان دونوں عناصر کو ایک دوسرے سے جدا کیا جاۓ تو ایک طرف افادی اور دوسری طرف جمالیاتی نظریہ شاعری کے مبادیات ہاتھ لگتے ہیں ۔ سڈنی کا نظر یہ شاعر کو مضمون اور طرز بیان دونوں کے اعتبار سے ایک اخلاقی معیار پرپرکھتا ہے اور اسے بجائے خود کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ یعنی اس کے مطابق شاعری اپنا معیار آپ نہیں ۔ ارسطو کی بوطیقا نہ صرف شاعری کا جواز تھی بلکہ اس کے حق میں ایک اعلان خودمختاری بھی تھی ۔ سڈنی صرف اس کا جواز پیش کرتا ہے، اسے مقصود بالذات قرار نہیں دیتا ۔ افلاطون کے معمے کا جو حل سڈنی نے پیش کیا اس کے مطابق شاعر کامل جمہوریہ کا شہری بننے کے تو قابل ہو جاتا ہے، لیکن ایک آزاد نہیں شہری نہیں  بنتا۔ اس کی انفرادیت بڑی محدود ہو جاتی ہے ۔



ڈرائیڈن اور پوپ


ڈرائیڈن کے تنقیدی نظریات||pope and Dryden

 

سڈنی کے مضمون کے بعد ایک عصر انگیز مضمون ڈرائیڈن(Dryden) کا Essay 'on Dramatic Poesie ہے ۔ ڈرائیڈن کے اس مضمون کا موضوع ڈرامائی ادب ہے، تاہم وہ جابجاضمنا شاعری کے متعلق بھی اظہار رائے کرتا ہے ۔اس کی رائے میں شاعری کا کام یہ ہے کہ پڑھنے والوں کو ایک دل فریب اور پر لطف طریقے سے انسانی فطرت کے حقائق سے آشنا کرے۔ چنانچہ شاعری ڈرائیڈن کے نزد یک علم کی ایک شاخ ہے، یعنی وہ شاخ جسے موجودہ زمانے میں ہم نفسیات کہتے ہیں ۔ جس طرح سڈنی کے یہاں شاعری اخلاق کی ممد و معاون تھی اسی طرح ڈرائیڈن کے یہاں دو نفسیات کی تعلیم کا ایک وسیلہ ہے ۔ ڈرائیڈن اپنے نظریے کی تصریح یوں کرتا ہے کہ جب کسی ڈرامے میں ہم انسانی جذبات و واردات کو کارفرما دیکھتے ہیں توانھیں دیکھ کر ہمیں اپنے ذاتی تجربے یاد آتے ہیں اور ڈرامے کے کرداروں کے لباس میں ہم اپنے آپ کو شناخت کرتے ہیں ۔اس سے ہمیں اپنی فطرت کے سمجھنے میں مد دملتی ہے ۔

پوپ کی تنقید||pope and Dryden

 

ڈرائیڈن کے مقابلے میں (Pope) نے یہ نظریہ پیش کیا کہ شاعری ایسے خیالات کا اظہار کرتی ہے جو پہلے بھی اکثر لوگوں کے دلوں میں آ چکے ہیں لیکن ایسے عمدہ طریقے سے پہلے کبھی بیان نہیں کیے گئے ۔ چنانچہ اس کے نزدیک شاعری کا طرہ امتیاز طرز بیان ہے ۔ اس نے ڈرائیڈن کے نظریے کے صرف ایک عنصر یعنی عمدگی بیان کو قبول کیا ہے ۔ ڈرائیڈن کے نظریے کا جو دوسرا عنصر تھا یعنی ہدایت یا تعلیم ، اس کی مزید تصریح ہیں ، جہاں تک انگریزی زبان کے برگزید نقادوں کا تعلق ہے ، ڈاکٹر جانسن (Dr.Johnson) کے یہاں ملتی ہے ۔


آج کے مطالعے کے لیے ایک ورق مزید پڑھیں

  1. اردو غزلیات کا بہترین انتخاب  ہر شعر آپ کے دل کے قریب تر 
  2. اشفاق احمد ورک کی مزاحیہ  تحریریں اور خاکے ضرور ملاحظہ فرمائیں
  3. جدید اردو نظم کے خوب صورت نقوش آپ کے ذوق کی نظر
  4. اسد محمد خان کے بہترین اور لازوال افسانے [کیا آپ مختصر کہانیوں سے رغبت رکھتے ہیں؟]
  5. پنجابی شاعری کا کڑا انتخاب ہمارے ساتھ  ملاحظہ فرماِئیں
  6. علامہ اقبال کی فکر  کو سمجھیں منتخب لیکچرز کی مختصر رپورٹ
  7. اردو کی بہترین مزاحیہ شاعری ملاحظہ فرمائیں۔۔

Comments

Popular posts from this blog

حسن تعلیل||صنعت حسن تعلیل کی مثالیں||اردو کی اہم صنعتیں||urdu ki mashhoor sanatain

  حسن تعلیل اردو لیکچرر کے لیے معاون مواد پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں تعلیل عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے علت یا  وجہ بیان کرنا یا توجیح پیش کرنا ‘’حسن تعلیل شعری صنعت ہے جس میں شاعر کسی واقعے کی اصل منطقی ،جغرافیائی یا سائنسی  وجہ کو نظر انداز کر کے  تخیلاتی جذباتی اور عین شاعرانہ وجہ بیان کرتا ہے ‘’     مثال بے سبب زلزلہ عالم میں نہیں آتا ہے کوئی   بے تاب تہ خاک   تڑپتا      ہو    گا زلزلے کی سائنسی وجہ تو زیر زمیں پلیٹس کے اندر تبدیلی یا ٹکراو کو سمجھا جاتا ہے لیکن  شاعر نے تخیلاتی سطح پہ اس کی شاعرانہ وجہ کسی عاشق کا زیر زمیں تڑپنا بتائی ہے   سب کہاں ؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں غالب نے اس شعر  گل و لالہ کا نمایاں ہونے کی وجہ زیر زمیں پنہاں ہونے والے خوبصورت چہروں کو بیان کیا ہے  امید ہے آپ حسن تعلیل سے آگاہ ہو چکے ہیں مزید مثالوں اور مشق کے لیے یہاں دبائیں

کہانی از ڈاکٹر سعادت سعید

 کہانی پر کیف رات اپنے تبسم میں غم لیے  پسماندگان زیست پر نوحہ کناں رہی  میں حزن بے کراں تھا یا سیل غم حیات  ہر پل مری نگاہ میں اک روشنی رہی!  وہ روشنی کہ جس سے مرااسم زندہ تھا  وہ روشنی بسر کے کسی سے مری رہی! عہد وفا سے ناتہ مراٹوٹ بھی چکا لیکن وہ رفتگی ہے کہ یوں سوچتا ہوں میں  میری کہانی اس کو اگر یاد بھی نہ ہو میری پرستشوں کی نہیں انتہا کوئی  اس کے سلگتے سانس مری دھڑکنوں میں ہیں ! جب رات بھیگنے لگی میں سوگوار تھا!   تب چاندنی نے جھوم کے مجھ سے کہا چلو!  ان بستیوں میں چلتی ہواؤں کے درمیان  جن کا ہر ایک کو چہ لب بام حشر ہے  جن کے ہر ایک خیمے یہ لکھا ہے میرا نام !  نا آشنا ہوائیں ہیں برق نگاہ حسن  ان کی عنائتوں سے ہرے پیڑ جل گئے  ندی کا بہتا پانی بھی  شعلہ نفس ہوا! جی جگمگا اٹھا تھا، جگر جھلملا اٹھا  میرے گماں میں کوند گئی برق شبنمی اس کا جمال اپنی بقا کا بھرم لیے ہر پل مرے خیال سے بچتا رہا کہ میں ارض بہار عشق کا مالک تھا، پراسے محکوم ہو کے مجھ سے محبت نہ ہوسکی ! میرے لہو سے کرب کی چنگاریاں اٹھیں ...

لطائف اقبال/اردو لطیفے||اردو طنزو مزاح||Allama Muhammad Iqabal

لطائف اقبال علامہ اقبال۔۔۔۔۔ساقی نامہ   مغرب کے اہل سیاست اقبال کی نظر میں کیمرج کے زمانہ میں چند ہم عصروں سے مذہب پر بحث چھڑ گئی۔ایک صاحب پوچھنے لگے مسٹر اقبال یہ کیا بات ہے کہ جتنے پیغمبر اور بانیان مذہب دنیا میں آئے وہ بلا استثنا ایشیا میں مبعوث ہوئے۔یورپ میں ایک بھی نبی مبعوث نہیں ہوا؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا۔بھئی شروع شروع میں اللہ میاں اور شیطان نے اپنا اپنا پیترا جما لیا۔اللہ میاں نے ایشیا کو پسند کیا اور شیطان نے یورپ کو۔۔۔اس لیے پیغمبر جو اللہ میاں کی طرف سے آئے ہیں ایشیا میں مبعوث ہوئے ۔وہ صاحب بول اٹھے تو پھر شیطان کے پیغمبر کیا ہوئے ۔انھوں نے جواب دیا:''یہ تمھارے میکائیولی اور مشہور اہل سیاست اس کے رسول ہیں ۔'' [اس پر خوب قہقہہ پڑا ] دنیا میں جنت دوسری گول میز کانفرنس کے زمانے میں انگلینڈ کی مشہور سیاح خاتون مس روزیتا فوریس نے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات  کا شوق ظاہر کیا۔چناں چہ مس صاحبہ نے انھیں اپنے ہاں مدعو کیا۔یہ خاتون شمالی افریقہ اور  اسلامی ممالک میں بہت زیادہ پھری تھیں اور ان پراس سیاحت کا بہت اچھا اثر پڑا تھا۔ڈاکٹر صاحب کے خیال میں ان کا محل جو لندن م...