غزل
کوئی باغ سا ہے ، جو اجنبی نہیں لگ رہا
یہ جو پیڑ ہے ، اسے چکھ ، وہی نہیں لگ رہا!
وہی خواب ہے ، وہی باغ ہے ، وہی وقت ہے
مگر اس میں اس کے
بغیر جی نہیں لگ رہا
وہ کہانیوں میں جو شہر تھا ، میرے دل میں ہے
یہ فقیر مجھ کو فقیر ہی
نہیں لگ رہا
یہ کرن کہیں میرے دل میں آگ لگا نہ دے
یہ معائنہ مجھے سرسری نہیں لگ رہا
تری ناؤ کی ، ترے بادبان کی خیر ہو!
کوئی ساحلوں سے ہنسی
خوشی نہیں لگ رہا
تو سمندروں میں نہ خاک اڑاؤں ، مذاق اڑاؤں؟
کہ فنا سے ڈر مجھے
واقعی نہیں لگ رہا

Comments
Post a Comment