Skip to main content

پرائیویٹ بس از دلاور فگار||مزاحیہ اشعار||Dilawar Figar

 پرائیویٹ بس

 

گھر آنے کو جب مل نہ سکی کوئی سواری

 سو چا کہ چلو چل کے پکڑ لیں کوئی لاری

جس بس میں سفر کرنے کو مجبور ہوئے ہم

اس بس کا ’’خداوند‘‘ تھا اک ہٹلراعظم

اس سوچ میں تھا، بس کو چلاۓ نہ چلاۓ

ڈرتا تھا کہ رستے میں دھرا ٹوٹ نہ جاۓ
 جب چڑھ گئی ہر ایک سواری پر سواری

اس وقت بریلی سے روانہ ہوئی لاری

اللہ رے لاری کی وہ اٹھلاتی ہوئی چال

 میکے سے دلہن چلنے لگی جانب سسرال

لاری کو گوارا ہی نہ تھی منت مہمیز

آزاد طبیعت تھی، کبھی سست، کبھی تیز

 رستے میں ہر افتاد مصیبت کا تھا امکاں

لاری ہی پہ  لکھا تھا کہ اللہ نگہباں

 سیدھی عدم آباد کو جاتی تھی یہ لاری

  مخلوق کو خالق سے ملاتی تھی یہ لاری

 ملتا تھا ٹکٹ بس میں، شہیدوں کے جہاں کا

 ’’دنیا سے گزرنا سفر ایسا ہے کہاں کا‘‘

یوں ہارن بجاتی تھی کہ سن کر کوئی ڈر جائے

مطلب یہ تھا، رہگیر نہ مرتا تو مر جائے

چلتی تھی ہر اک گام پہ پیتی ہوئی پانی

چہرے سے  عیاں تھا اثر سوز نہانی

۔۔۔۔۔

 دھکے نہ لگیں اس کو تو ہوتی نہ تھی اسٹارٹ

کیا جانے وہ لاری تھی کہ تھی کوئی بل اسٹارٹ

 کچھوے کی طرح چلتی تھی جب ناز دکھاتی

راکٹ کی طرح اڑتی تھی جب موڈ میں آتی

یہ کہہ کے ٹریفک کو بناتی تھی نشانہ

’’سلطانی  جمہور کا آتا ہے زمانہ''

 اس غم میں کہ مل جائے کوئی اور سواری

 ہر گور غریباں پہ ٹھہر جاتی تھی لاری

لاری میں مسافر تھے پریشان و زبوں حال

لے آئی تھی لاری میں انہیں شامت اعمال

کھڑکی سے لگی بیٹھی تھی اک شوخ نگارا

کھڑکی پہ  یہ لکھا تھا ’’اک تیرا سہارا ''

اک دیو قوی جثہ بھی موجود تھے ہم میں

 قاروں کا خزانہ لیے بیٹھے تھے شکم میں

 وہ خود کو ہماری ہی طرف پیل رہے تھے
ہم جرم شرافت کی سزا جھیل رہے تھے

 یہ کہتے تھے، دبتے  تھے، جو ہم اور زیادہ

اللہ کرے، زور شکم اور زیادہ

آگے جو بڑھے ہم تو ملی راہ سفر بند

 لاری تھی حوالات، مسافر تھے نظر بند

 اتنے میں خبر آئی، برا وقت پڑا ہے

پیدل ہی چلے جاؤ، دھرا ٹوٹ گیا ہے

 

لاری نے کسی طرح قدم ہی نہ بڑھاۓ

ہم خود ہی بدایوں تک اسے کھینچ کے لائے

رستے میں کچھ اس زور سے جھٹکے لگے دو تین

کچھ لوگ جو کمزور تھے، پڑھنے لگے یسین

 گھر پہنچے تو اس شان سے ہم دھول میں اٹ کر

 جیسے ابھی آۓ ہیں صحارا سے پلٹ کر

 

پرائیویٹ بس از دلاور فگار||مزاحیہ اشعار||Dilawar Figar

دلاور فگار

Comments

Popular posts from this blog

حسن تعلیل||صنعت حسن تعلیل کی مثالیں||اردو کی اہم صنعتیں||urdu ki mashhoor sanatain

  حسن تعلیل اردو لیکچرر کے لیے معاون مواد پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں تعلیل عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے علت یا  وجہ بیان کرنا یا توجیح پیش کرنا ‘’حسن تعلیل شعری صنعت ہے جس میں شاعر کسی واقعے کی اصل منطقی ،جغرافیائی یا سائنسی  وجہ کو نظر انداز کر کے  تخیلاتی جذباتی اور عین شاعرانہ وجہ بیان کرتا ہے ‘’     مثال بے سبب زلزلہ عالم میں نہیں آتا ہے کوئی   بے تاب تہ خاک   تڑپتا      ہو    گا زلزلے کی سائنسی وجہ تو زیر زمیں پلیٹس کے اندر تبدیلی یا ٹکراو کو سمجھا جاتا ہے لیکن  شاعر نے تخیلاتی سطح پہ اس کی شاعرانہ وجہ کسی عاشق کا زیر زمیں تڑپنا بتائی ہے   سب کہاں ؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں غالب نے اس شعر  گل و لالہ کا نمایاں ہونے کی وجہ زیر زمیں پنہاں ہونے والے خوبصورت چہروں کو بیان کیا ہے  امید ہے آپ حسن تعلیل سے آگاہ ہو چکے ہیں مزید مثالوں اور مشق کے لیے یہاں دبائیں

کہانی از ڈاکٹر سعادت سعید

 کہانی پر کیف رات اپنے تبسم میں غم لیے  پسماندگان زیست پر نوحہ کناں رہی  میں حزن بے کراں تھا یا سیل غم حیات  ہر پل مری نگاہ میں اک روشنی رہی!  وہ روشنی کہ جس سے مرااسم زندہ تھا  وہ روشنی بسر کے کسی سے مری رہی! عہد وفا سے ناتہ مراٹوٹ بھی چکا لیکن وہ رفتگی ہے کہ یوں سوچتا ہوں میں  میری کہانی اس کو اگر یاد بھی نہ ہو میری پرستشوں کی نہیں انتہا کوئی  اس کے سلگتے سانس مری دھڑکنوں میں ہیں ! جب رات بھیگنے لگی میں سوگوار تھا!   تب چاندنی نے جھوم کے مجھ سے کہا چلو!  ان بستیوں میں چلتی ہواؤں کے درمیان  جن کا ہر ایک کو چہ لب بام حشر ہے  جن کے ہر ایک خیمے یہ لکھا ہے میرا نام !  نا آشنا ہوائیں ہیں برق نگاہ حسن  ان کی عنائتوں سے ہرے پیڑ جل گئے  ندی کا بہتا پانی بھی  شعلہ نفس ہوا! جی جگمگا اٹھا تھا، جگر جھلملا اٹھا  میرے گماں میں کوند گئی برق شبنمی اس کا جمال اپنی بقا کا بھرم لیے ہر پل مرے خیال سے بچتا رہا کہ میں ارض بہار عشق کا مالک تھا، پراسے محکوم ہو کے مجھ سے محبت نہ ہوسکی ! میرے لہو سے کرب کی چنگاریاں اٹھیں ...

لطائف اقبال/اردو لطیفے||اردو طنزو مزاح||Allama Muhammad Iqabal

لطائف اقبال علامہ اقبال۔۔۔۔۔ساقی نامہ   مغرب کے اہل سیاست اقبال کی نظر میں کیمرج کے زمانہ میں چند ہم عصروں سے مذہب پر بحث چھڑ گئی۔ایک صاحب پوچھنے لگے مسٹر اقبال یہ کیا بات ہے کہ جتنے پیغمبر اور بانیان مذہب دنیا میں آئے وہ بلا استثنا ایشیا میں مبعوث ہوئے۔یورپ میں ایک بھی نبی مبعوث نہیں ہوا؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا۔بھئی شروع شروع میں اللہ میاں اور شیطان نے اپنا اپنا پیترا جما لیا۔اللہ میاں نے ایشیا کو پسند کیا اور شیطان نے یورپ کو۔۔۔اس لیے پیغمبر جو اللہ میاں کی طرف سے آئے ہیں ایشیا میں مبعوث ہوئے ۔وہ صاحب بول اٹھے تو پھر شیطان کے پیغمبر کیا ہوئے ۔انھوں نے جواب دیا:''یہ تمھارے میکائیولی اور مشہور اہل سیاست اس کے رسول ہیں ۔'' [اس پر خوب قہقہہ پڑا ] دنیا میں جنت دوسری گول میز کانفرنس کے زمانے میں انگلینڈ کی مشہور سیاح خاتون مس روزیتا فوریس نے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات  کا شوق ظاہر کیا۔چناں چہ مس صاحبہ نے انھیں اپنے ہاں مدعو کیا۔یہ خاتون شمالی افریقہ اور  اسلامی ممالک میں بہت زیادہ پھری تھیں اور ان پراس سیاحت کا بہت اچھا اثر پڑا تھا۔ڈاکٹر صاحب کے خیال میں ان کا محل جو لندن م...