Skip to main content

قصہ چہار درویش سے آگے از معین نظامی || Moeen Nizami ||جدید نظم کے شعرا

 قصہ چہار درویش سے آگے


یہاں تک کہانی چار درویشوں کا قصہ تھی 

اور آگے پانچویں درویش کی بھیدوں بھری منزل ہے 

جس کے پیچ وخم میں

 دشت تنہائی کے بیچوں بیچ 

 اک خسته شکستہ گنبدوں والی نہتی خانقاہ زندگی تھی

 

اور یہ وہ مرد قلندر تھا

 کہ جس نے زندگی ہی میں, خود اپنے ہاتھ پر 

اپنے مریدان محبت کیش سے

 افسردگی کے حق میں اپنی مسند سجادگی کی بیعت تصدیق لے لی تھی

  وہ اپنے درد کی قندیل اپنے دامن دل میں چھپاے

   زخم بے حیثیتی کو

 

مرہم فیضان ترک مدعا سے مندمل کرنے کی کوشش میں مگن تھا 

اور اپنی روح کے بوسیدہ خرقے کارفو گر تھا

ازل سے ہر رفوگر کی تہ دل میں

 ہمیشہ نوک سوزن کی چبھن رہتی ہی آئی ہے

  چناں چہ اس رفوگر کے خیالوں کے اندھیرے جنگلوں میں بھی 

  کوئی جگنوکسی چھتنار میں الجھا ہوا تھا 

  بات بےحد مختصرسی ہے کہ اس جلتے ہوے, بجھتے ہوئے جگنو کا

   اس چھتنار میں, عرصے سے یوں الجھا ہوا ہونا ،اذیت تھا 

   یہی افسردگی کا وارث کشف و کرامت تھا

    یہی زخموں کا مرہم تھا 

    یہی شمع حریم خانقہ تھا 

    اور یہی بوسیدہ خرقہ تھا 

    یہی اپنارفو گر تھا

 

یہاں تک کی کہانی پانچویں درویش کا قصہ تھی

 جو پاگل تھا

 اورخودکوکسی چھتنار میں الجھا ہوا جگنو سمجھتاتھا


قصہ چہار درویش سے آگے از معین نظامی

مجموعہ: "تجسیم"

Comments

  1. قصہ چہار درویش پڑھ کے ایک عہد کی معاشرت اور سماج سے آگاہی ملی اور یہ ہمارے عہد کا نوشتہ ہے

    ReplyDelete
  2. بہت عمدہ نظم

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

حسن تعلیل||صنعت حسن تعلیل کی مثالیں||اردو کی اہم صنعتیں||urdu ki mashhoor sanatain

  حسن تعلیل اردو لیکچرر کے لیے معاون مواد پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں تعلیل عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے علت یا  وجہ بیان کرنا یا توجیح پیش کرنا ‘’حسن تعلیل شعری صنعت ہے جس میں شاعر کسی واقعے کی اصل منطقی ،جغرافیائی یا سائنسی  وجہ کو نظر انداز کر کے  تخیلاتی جذباتی اور عین شاعرانہ وجہ بیان کرتا ہے ‘’     مثال بے سبب زلزلہ عالم میں نہیں آتا ہے کوئی   بے تاب تہ خاک   تڑپتا      ہو    گا زلزلے کی سائنسی وجہ تو زیر زمیں پلیٹس کے اندر تبدیلی یا ٹکراو کو سمجھا جاتا ہے لیکن  شاعر نے تخیلاتی سطح پہ اس کی شاعرانہ وجہ کسی عاشق کا زیر زمیں تڑپنا بتائی ہے   سب کہاں ؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں غالب نے اس شعر  گل و لالہ کا نمایاں ہونے کی وجہ زیر زمیں پنہاں ہونے والے خوبصورت چہروں کو بیان کیا ہے  امید ہے آپ حسن تعلیل سے آگاہ ہو چکے ہیں مزید مثالوں اور مشق کے لیے یہاں دبائیں

کہانی از ڈاکٹر سعادت سعید

 کہانی پر کیف رات اپنے تبسم میں غم لیے  پسماندگان زیست پر نوحہ کناں رہی  میں حزن بے کراں تھا یا سیل غم حیات  ہر پل مری نگاہ میں اک روشنی رہی!  وہ روشنی کہ جس سے مرااسم زندہ تھا  وہ روشنی بسر کے کسی سے مری رہی! عہد وفا سے ناتہ مراٹوٹ بھی چکا لیکن وہ رفتگی ہے کہ یوں سوچتا ہوں میں  میری کہانی اس کو اگر یاد بھی نہ ہو میری پرستشوں کی نہیں انتہا کوئی  اس کے سلگتے سانس مری دھڑکنوں میں ہیں ! جب رات بھیگنے لگی میں سوگوار تھا!   تب چاندنی نے جھوم کے مجھ سے کہا چلو!  ان بستیوں میں چلتی ہواؤں کے درمیان  جن کا ہر ایک کو چہ لب بام حشر ہے  جن کے ہر ایک خیمے یہ لکھا ہے میرا نام !  نا آشنا ہوائیں ہیں برق نگاہ حسن  ان کی عنائتوں سے ہرے پیڑ جل گئے  ندی کا بہتا پانی بھی  شعلہ نفس ہوا! جی جگمگا اٹھا تھا، جگر جھلملا اٹھا  میرے گماں میں کوند گئی برق شبنمی اس کا جمال اپنی بقا کا بھرم لیے ہر پل مرے خیال سے بچتا رہا کہ میں ارض بہار عشق کا مالک تھا، پراسے محکوم ہو کے مجھ سے محبت نہ ہوسکی ! میرے لہو سے کرب کی چنگاریاں اٹھیں ...

لطائف اقبال/اردو لطیفے||اردو طنزو مزاح||Allama Muhammad Iqabal

لطائف اقبال علامہ اقبال۔۔۔۔۔ساقی نامہ   مغرب کے اہل سیاست اقبال کی نظر میں کیمرج کے زمانہ میں چند ہم عصروں سے مذہب پر بحث چھڑ گئی۔ایک صاحب پوچھنے لگے مسٹر اقبال یہ کیا بات ہے کہ جتنے پیغمبر اور بانیان مذہب دنیا میں آئے وہ بلا استثنا ایشیا میں مبعوث ہوئے۔یورپ میں ایک بھی نبی مبعوث نہیں ہوا؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا۔بھئی شروع شروع میں اللہ میاں اور شیطان نے اپنا اپنا پیترا جما لیا۔اللہ میاں نے ایشیا کو پسند کیا اور شیطان نے یورپ کو۔۔۔اس لیے پیغمبر جو اللہ میاں کی طرف سے آئے ہیں ایشیا میں مبعوث ہوئے ۔وہ صاحب بول اٹھے تو پھر شیطان کے پیغمبر کیا ہوئے ۔انھوں نے جواب دیا:''یہ تمھارے میکائیولی اور مشہور اہل سیاست اس کے رسول ہیں ۔'' [اس پر خوب قہقہہ پڑا ] دنیا میں جنت دوسری گول میز کانفرنس کے زمانے میں انگلینڈ کی مشہور سیاح خاتون مس روزیتا فوریس نے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات  کا شوق ظاہر کیا۔چناں چہ مس صاحبہ نے انھیں اپنے ہاں مدعو کیا۔یہ خاتون شمالی افریقہ اور  اسلامی ممالک میں بہت زیادہ پھری تھیں اور ان پراس سیاحت کا بہت اچھا اثر پڑا تھا۔ڈاکٹر صاحب کے خیال میں ان کا محل جو لندن م...