قصہ چہار درویش سے آگے
یہاں تک کہانی چار درویشوں کا قصہ تھی
اور آگے پانچویں درویش کی بھیدوں بھری منزل ہے
جس کے پیچ وخم میں
دشت تنہائی کے بیچوں بیچ
اک خسته شکستہ گنبدوں والی نہتی خانقاہ زندگی تھی
اور یہ وہ مرد قلندر تھا
کہ جس نے زندگی ہی میں, خود اپنے ہاتھ پر
اپنے مریدان محبت کیش سے
افسردگی کے حق میں اپنی مسند سجادگی کی بیعت تصدیق لے لی تھی
وہ اپنے درد کی قندیل اپنے دامن دل میں چھپاے
زخم بے حیثیتی کو
مرہم فیضان ترک مدعا سے مندمل کرنے کی کوشش میں مگن تھا
اور اپنی روح کے بوسیدہ خرقے کارفو گر تھا
ازل سے ہر رفوگر کی تہ دل میں
ہمیشہ نوک سوزن کی چبھن رہتی ہی آئی ہے
چناں چہ اس رفوگر کے خیالوں کے اندھیرے جنگلوں میں بھی
کوئی جگنوکسی چھتنار میں الجھا ہوا تھا
بات بےحد مختصرسی ہے کہ اس جلتے ہوے, بجھتے ہوئے جگنو کا
اس چھتنار میں, عرصے سے یوں الجھا ہوا ہونا ،اذیت
تھا
یہی افسردگی کا وارث کشف و کرامت تھا
یہی زخموں کا مرہم تھا
یہی شمع حریم خانقہ تھا
اور یہی بوسیدہ خرقہ تھا
یہی اپنارفو گر تھا
یہاں تک کی کہانی پانچویں درویش کا قصہ تھی
جو پاگل تھا
اورخودکوکسی چھتنار میں الجھا ہوا جگنو سمجھتاتھا
![]() |
مجموعہ: "تجسیم"

قصہ چہار درویش پڑھ کے ایک عہد کی معاشرت اور سماج سے آگاہی ملی اور یہ ہمارے عہد کا نوشتہ ہے
ReplyDeleteبہت عمدہ نظم
ReplyDelete