Skip to main content

ترلوچن از اسد محمد خان||افسانہ ترلوچن||Asad Muhammad Khan afsana

 ترلوچن

 

جو کچھ ہوا اس سے پہلے یہاں انسانی بستیاں موجود تھیں  اور جانور درخت در یا اور پہاڑ سبھی تھے ۔ ایک تواتر کے ساتھ موسم آتے رہتے تھے۔ چیزیں اگتی تھیں ، بڑھتی ،پھیلتی اور پرانی ہوتی تھیں اور رسان سے مر جایا کرتی تھیں ۔ کبھی  کبھی کوئی قہقہہ مار کرہنس بھی دیا کرتا تھا۔ مجموعی طور پر سب ٹھیک ہی تھا۔ عین الحق یہ سب کچھ ختم نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اگر کوئی کتے کا موت اس کی پیٹی کھول کر چیزوں کی فہرست نہ چرالے جاتا جو اس نے اتنی دلسوزی سے تیار کی تھی تو عین الحق ہرگز ہرگز و ہ نہ کر تا جواس نے کیا۔

اس نے جو کچھ کیا وہ وقتی اشتعال اور مایوسی کے تحت کیا تھا مگر اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لیے کہ اب تو کچھ تھا ہی نہیں جسے پھر سے ترتیب دیا جا تا ۔ سب ختم ہو چکا تھا ۔

 

اور جو کچھ ہوا ،وہ پلک جھپکتے ہو گیا۔ پیٹی خالی دیکھ کر اس نے اہلوک ، پرلوک اور دیولوک تینوں کی ڈوریاں اپنی انگشت شہادت پر لپیٹ کر مٹھی بند کی ، ایک ذرا کندھا جھکا کر جھٹکےسے انھیں اپنی پشت پر لیا، سیدھے ہاتھ کی مٹھی پر مٹھی کس کرالا اللہ کہا اور ہوا میں جیسے کدال چلاتے ہوے تینوں لوک زمین پر دے مارے ۔

یہاں تک بھی ٹھیک تھا، بات کچھ زیادہ بگڑی نہیں تھی ۔ لیکن اس کے بعد تو عین الحق نے غضب ہی کر دیا۔ وہ پورے قامت سے تن کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے جھٹکے سے اسٹکنگ پلاسٹر کا وہ ٹکڑا اپنی پیشانی سے نوچ پھینکا جسے وہ پابندی سے نماز کے گٹے  والی جگہ پر چپکا لیا کرتا تھا۔ پھر اس نے سر جھکا یا، زمین کی طرف دیکھا اور تمام و کمال قہاری میں اپنی تیسری آنکھ کھول دی اور تینوں لوک جلاکرخاک کر دیے۔

سواب دھویں اور راکھ کے سوا کچھ نہیں تھا جسے پھر سے ترتیب دیا جا تا ۔ سب ختم ہو چکا تھاور عین الحق جانتا تھا کہ دھوئیں اور را کھ کوتر تیب نہیں دیا جا سکتا۔ یہ خاتمہ ہے۔

 

یہ سب ایک بلی سے شروع ہوا تھا۔ ایک دن گلی سے گزرتے ہوے اس نے اچانک اس بلی کو دیکھا اور اسے فہرست بنانے کا خیال آ گیا۔ وہ بلی اس قدرزخمی اتنی میلی اور جگہ جگہ سے اتنی نچی  کچھی  تھی کہ ساری باتیں کا غذ پر لکھے بغیریاد  نہیں رکھی جاسکتی تھیں ۔ اس نے سوچا ، فہرست بنانا اچھا رہے گا ۔ وہ اب تک چیزوں کو اپنے ذہن میں محفوظ رکھتا آرہا تھا۔ لیکن چیزیں اتنی بہت سی ہوگئی تھیں اور برابر بڑھتی جارہی تھیں اور ان کی تفصیل اتنی طولانی ہوتی جارہی تھی کہ اب ذہن میں محفوظ رکھنا ممکن نہیں رہا تھا۔ وہ ڈرتا تھا کہ کہیں بھولنا شروع نہ کر دے۔اس لیے اس نے ایک بڑے کاغذ پر سات سو چھیاسی لکھااورنمبرشمار اور نام اشیا اور ان کے کوائف اور کار ہاۓ مجوز اور تاریخ عمل درآمد کے خانے بناۓ اور ان خانوں میں اس نے سب چیزیں درج کرنا شروع کر دیں ۔ تاریخ عملدرآمد کا خانہ ابھی خالی رکھا اس لیے کہ پہلے وہ چیزوں کو اور ان کی تفصیل کو حافظے سے کاغذ پرمنتقل کر لینا چاہتا تھا۔ یہ بہت ضروری تھا۔ باقی عملدرآمد میں دیر ہی کتنی لگتی ۔فہرست مکمل ہونے کے بعد وہ کسی بھی دن اور کسی بھی وقت کار ہاۓ مجوز کے خانے میں لکھی ہوئی باتوں پر عملدرآمد کر کے معاملے نمٹا سکتا تھا۔

 

تو اس نے سب سے پہلے نمبر شمار ایک پر بلی کو درج کیا اور اس کے کوائف لکھے اور کا رہائے مجوز میں درج کیا کہ اسے نئی کھال و غیرہ دینی ہے اور تاریخ عملدرآمد کا خانہ خالی چھوڑ دیا۔ دوسرے نمبر پر عین الحق نے ہیڈ کانسٹیبل لطافت میر خاں کی بیوہ رقیہ  بیگم کا مسئلہ درج کیا، وہ اسی بلا ک کے ایک لا ولد مکان میں تنہا رہتی تھی ، اسے عرق النساء کی شکایت تھی اور دکھ اور تنہائی میں اس کا چہرہ لٹک گیا تھا۔ یہاں کا رہاۓ مجوز کے خانے میں اس نے طے کیا کہ رقیہ بیگم کو عرق النساء سے چھٹکارا دینا ہے اور ایک لے پالک کے بیٹے بیٹیوں سے اس گھر کا صحن آباد کرنا ہے۔ رقیہ بیگم کے بعد اس نے بھورے خان  کولڈ ڈرنک اینڈ سگریٹ کارنر کودرج کیا جوبہتربرس کا تھکا ماندہ امرد پرست تھا۔ اس کا گھر بار نہیں تھا، دکان کے تھڑے پر ہی سو رہتا تھا۔ اسے خوبصورت لڑکوں کو دکان پر بٹھانے اور اسلامی تاریخی ناول پڑھوا کر سننے کا شوق تھا۔ پریشانی کی بات یہ تھی کہ لڑ کے بھاگ بھاگ جاتے تھے اور وہ انھیں یاد کر کرکے روتا تھا اور فتح یرموک کتنے ہی دن ملتوی رہتی تھی ۔ عین الحق نے بھورے خاں کولڈڈرنک اینڈ سگریٹ کارنر کو درج کیا اور اس کے کوائف لکھے اور کار ہاۓ مجوز میں لکھا کہ ایک خوبصورت اور باوفا لڑ کا ہمہ وقت موجود رہے تا کہ بھورے خان جدائی اور دکھ میں دہرا نہ ہو جاۓ اس لیے کہ بہتر برس بہت ہوتے ہیں ۔ پھر اس نے ہزارے سے آۓ ہوے شیر زمان موچی اور اس کے نیک نفس بھائیوں کو درج کیا جو فجر سے پہلے اٹھ کر شیر زمان کی چارپائی پر اکڑوں بیٹھ جاتے تھے ادراس سے اٹک اٹک کر قرآن پڑھا کرتے تھے ۔ ان سب کی بیویاں ملک میں تھیں اور وہ دن بھر شیرزمان کی ہدایت کے مطابق جوتے گانٹھتے اور ٹیپ ریکارڈر پر سلطان میاں قوال کی قوالیاں سنتے  تھے۔ عین الحق نے ان کے کوائف لکھے اور کا رہاۓ مجوز میں درج کیا کہ ان سب کا ان کی بیویوں سے ملاپ کرانا ہے اور لکھا کہ شیر زمان کی بواسیر خونی رفع کرنی ہے کیوں کہ وہ   بچوں اور قلیل آمدنی والے کمزورلوگوں سے بھی نرمی سے بات کرتا تھا۔ پھر عین الحق نے عقاب کے سے تجسس والی مائی نوراں مسی کو درج کیا جس کے پنجے بھی عقاب کے تھے اور عین الحق نے اس کے کوائف لکھے  اور کارہاۓ مجوز میں لکھا کہ مائی نوراں مسی نئی ریڑھ کی ہڈی دینی ہے اور بلاک نمبر دو سے بلاک نمبر آٹھ تک مکانوں کی عقبی گلی میں وافر مقدار میں پلاسٹک کے ٹکڑے ، ہڈیاں اور ردی کاغذ مہیا کرناہے جو عرصہ بارہ سال تک فراہم رہیں ، کس لیے کہ نوراں کا ناسور اسے اس سے زیادہ کی مہلت نہیں دے گا۔ عین الحق نے دفع نا سوراز پنڈلی لکھ کر کاٹ دیا کیونکہ اس طرح بعض گھروں سے ملنے والا خصوصی بونس بند ہونے کا احتمال تھا اور یہ بات کسی عنوان بھی نوراں کے لیے مناسب نہ تھی ۔ پھر بلاک نمبر دو سے بلاک نمبر آٹھ تک آتے ہوے، پارک سے متصل ، مد کامنی کے پیڑ کے نیچے پہنچ کر عین الحق نے دیکھا کہ تنوروالے مخما دولا نے مد کامنی کے نوعمر تنے سے اپنا مینڈھا باندھ باندھ کر اس کی نرم چھال کو ادھیڑدیا ہے تو عین الحق نے ادھڑی ہوئی چھال کے نم دائرے سے اپنی انگلیوں کے پورمس کیے اور

 مد کامنی کے پیڑ سے وعدہ کیا اور پیڑ کے کوائف درج کیے، پھر کار ہاۓ  مجوزمیں لکھا کہ مدکامنی کا زخم بھرنا  ہے اور تالیف  قلب کے لیے نئی  کونپلیں بھی دینی ہیں  پھر اس نے پولی ٹیکنک والے سہیل کو درج  کیا، جسے بیرون ملک بھیجنا تھا، اور عبدالقدیر  قادری اور عترت حسین کو  درج کیا جنھیں ترقیاں دینی تھیں اور عین الحق کی  مصروفیات بڑھتی چلی گئیں۔ اس نے برتن قناتوں والے نگے  کو درج  کیا جو گھر والی کی فحش  بدعنوانیوں کے سبب ڈھہہ گیا تھا اور  پور پور سے ہلاک ہو رہا تھا  تو عین الحق نے یہ لکھا کہ  اس بی بی کے نظام میں مناسب تبدیلیاں کر کے اسے نگے کی  اطاعت میں بحال کرنا ہے۔ اور عین الحق نے  موٹر سائیکل والے لڑکے کو  درج کیا  جو صبح و شام چکر لگا تا تھا اور بلاک نمبر تین  میں وہ بچی اسے خاطر میں نہ لاتی تھی  ۔ عین الحق نے اسے اداسی  سے موٹر سائیکل  پر چکر لگاتے دیکھا  اور نر م سرگوشیوں میں دعدہ کیا  کہ سب انتظام  کر دیا جائے گا۔ اور اس نے کموگا زر کی بیمار مرغی  کو درج کیا اوراس طرح چیزوں  کی فہرست طولانی ہوتی چلی  گئی ۔ وہ چراغ جلے بیٹھتا کہیں رات ڈھلے  دن بھر کے اندراجات  مکمل کر پا تا ۔ اور اب یہ ہونے لگا  کہ دونمبر یا  تین نمبر بلاک سے آٹھ نمبر  تک آتے آتے  کبھی ایک آدھ چیز بھول جاتا اور اسے دوبارہ موقعے پہنچ کر اندراج  مکمل کرنے پڑتے سواسی جھنجٹ میں چار نمبر بلاک کی حمیرا  کا لوکیمیا درج ہونے سے رہ گیا۔

 

  1. اردو مزاحیہ شاعری کا ضخیم مجموعہ ملاحظہ فرمانے کے لیے یہاں دبائیں۔۔
  2. اردو حمد ونعت کا گلدستہ  ضرور دیکھیں۔۔۔
  3. میری تحریریں آپ کے ذوق مطالعہ کی نظر پڑھ کے انھیں  درجہ قبولیت بخشیں

اور جب اس اندراج  کی ضرورت نہ  رہی  تو بلاک نمبر چار کے اختتام  پر عین الحق ظاہر ہوا۔

وہ سڑک  کی طرف سے  گلی میں مڑا اور اس نے دیکھا کہ  مسجد نور کا چھوٹا والا گہوارہ پھولوں میں رکھا ہوا ہے ۔ عین الحق پیلا پڑ گیا۔ اس نے لرزتے کا نپتے ہوے دو پہر کے سناٹے سے پوچھا کیا حمیرا؟  وہ گہوارے کے  ساتھ ساتھ رینگتا ہوا چھ نمبر بلاک  تک گیا اور اس  نے دو پہر  کے سناٹے سے  پوچھا کیا حمیرا؟ اور وہ چھ نمبر سے آٹھ نمبر بلاک  کے سرے  تک دوڑتا ہوا  گیا اور خجالت کے  آنسوؤں میں بھیگتے ہوے  اس نے گہوارے  کا پایہ تھام  لیا اور ساتھ ساتھ چلنے  لگا اور ہولے ہولے  اپنی صفائی میں کہتا چلا کہ بی بی میں  بھول گیا تھا ؛بٹیا میں بھول گیا تھا؛ اماں میں  بھول گیا تھا؛ اور  آٹھ نمبر بلاک کی حد پر اس  نےگہوارے  کا پایہ چھوڑ دیا۔ پھر عین الحق   نے ایک چیخ  کی بازگشت  میں بلاک نمبر دو کی طرف سعی کی اور پکارتا چلا کہ میں بھول گیا تھا! پھر باقی دن اور باقی رات وہ اسی چیخ کی بازگشت میں رہا۔ وہ بلاک دو سے بلاک آٹھ تک اور بلاک آٹھ سے بلاک دو تک گونج کی طرح سنسنا تا رہا اور جو کچھ درج ہونے سے رہ گیا تھا دیوانہ وار اپنی یادداشت میں محفوظ کرتا گیا۔ ایک ایک مکان پر سے گزرتے ہوے اس نے اپنے حافظے میں سب چیزوں اور سب لوگوں کی حاجت مندیاں اور تمام چھوٹے بڑے دکھ محفوظ کیے اور طے کیا کہ مرغ کی بانگ سے پہلے انھیں فہرست میں درج کرے گا اور جب مرغ با نگ دے رہے ہوں گے تو عملدرآمد کرے گا ۔

 ایک پہر رات باقی تھی کہ وہ اپنے کمرے پر آیا اور یہ  دیکھا کہ کمرے کا تالاٹو ٹا ہوا ہے اور اس کی پیٹی اوندھی پڑی ہے ۔ کوئی کتے کا موت اس کی فہرست چرا لے گیا تھا۔

 پیٹی خالی دیکھ کر عین الحق نے حیرانی میں چھ طرفوں پر نظر ڈالی اور مایوسی میں سر ہلایا اور گمان سے بالاتر ہوا اور تب ہی عین الحق نے اہلوک ، پرلوک اور دیولوک تینوں کی ڈوریاں اپنی انگشت شہادت پر لپیٹ کر مٹھی بند کی ایک ذرا کندھا جھکا کر جھٹکے سے انھیں اپنی پشت پر لیا اور مٹھیاں کس کر ہوا میں کدال چلاتے ہوے تینوں لوگ زمین پر دے مارے... پھر دو پورے قامت سے تن کر کھڑا ہو گیا اور جھٹکے سے اپنی پیشانی کا پلاسٹر نوچ پھینکا۔ پھر عین الحق نے سر جھکا کر زمین کی طرف دیکھا اور تمام و کمال قہاری میں اپنی تیسری آنکھ کھول دی اور تینوں لوک جلا کر خاک کر دیے۔

مجموعہ :کھڑکی بھر آسمان 
القا پبلی کیشنز ،لاہور ۲۰۱۵


ترلوچن از اسد محمد خان||افسانہ ترلوچن||Asad Muhammad Khan afsana


آج کے مطالعے کے لیے ایک ورق مزید پڑھیں

  1. اردو غزلیات کا بہترین انتخاب  ہر شعر آپ کے دل کے قریب تر 
  2. اشفاق احمد ورک کی مزاحیہ  تحریریں اور خاکے ضرور ملاحظہ فرمائیں
  3. جدید اردو نظم کے خوب صورت نقوش آپ کے ذوق کی نظر
  4. اسد محمد خان کے بہترین اور لازوال افسانے [کیا آپ مختصر کہانیوں سے رغبت رکھتے ہیں؟]
  5. پنجابی شاعری کا کڑا انتخاب ہمارے ساتھ  ملاحظہ فرماِئیں
  6. علامہ اقبال کی فکر  کو سمجھیں منتخب لیکچرز کی مختصر رپورٹ
  7. اردو کی بہترین مزاحیہ شاعری ملاحظہ فرمائیں۔۔



Comments

  1. اسد محمد خان اس عہد کے بڑے افسانہ نگار

    ReplyDelete
  2. قارئین کے لیے ساقی نامہ ہمیشہ حقیقی ادب کا تحفہ لے کے آتا ہے جس پہ آپ مبارک باد کے مستحق ہیں

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

حسن تعلیل||صنعت حسن تعلیل کی مثالیں||اردو کی اہم صنعتیں||urdu ki mashhoor sanatain

  حسن تعلیل اردو لیکچرر کے لیے معاون مواد پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں تعلیل عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے علت یا  وجہ بیان کرنا یا توجیح پیش کرنا ‘’حسن تعلیل شعری صنعت ہے جس میں شاعر کسی واقعے کی اصل منطقی ،جغرافیائی یا سائنسی  وجہ کو نظر انداز کر کے  تخیلاتی جذباتی اور عین شاعرانہ وجہ بیان کرتا ہے ‘’     مثال بے سبب زلزلہ عالم میں نہیں آتا ہے کوئی   بے تاب تہ خاک   تڑپتا      ہو    گا زلزلے کی سائنسی وجہ تو زیر زمیں پلیٹس کے اندر تبدیلی یا ٹکراو کو سمجھا جاتا ہے لیکن  شاعر نے تخیلاتی سطح پہ اس کی شاعرانہ وجہ کسی عاشق کا زیر زمیں تڑپنا بتائی ہے   سب کہاں ؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں غالب نے اس شعر  گل و لالہ کا نمایاں ہونے کی وجہ زیر زمیں پنہاں ہونے والے خوبصورت چہروں کو بیان کیا ہے  امید ہے آپ حسن تعلیل سے آگاہ ہو چکے ہیں مزید مثالوں اور مشق کے لیے یہاں دبائیں

کہانی از ڈاکٹر سعادت سعید

 کہانی پر کیف رات اپنے تبسم میں غم لیے  پسماندگان زیست پر نوحہ کناں رہی  میں حزن بے کراں تھا یا سیل غم حیات  ہر پل مری نگاہ میں اک روشنی رہی!  وہ روشنی کہ جس سے مرااسم زندہ تھا  وہ روشنی بسر کے کسی سے مری رہی! عہد وفا سے ناتہ مراٹوٹ بھی چکا لیکن وہ رفتگی ہے کہ یوں سوچتا ہوں میں  میری کہانی اس کو اگر یاد بھی نہ ہو میری پرستشوں کی نہیں انتہا کوئی  اس کے سلگتے سانس مری دھڑکنوں میں ہیں ! جب رات بھیگنے لگی میں سوگوار تھا!   تب چاندنی نے جھوم کے مجھ سے کہا چلو!  ان بستیوں میں چلتی ہواؤں کے درمیان  جن کا ہر ایک کو چہ لب بام حشر ہے  جن کے ہر ایک خیمے یہ لکھا ہے میرا نام !  نا آشنا ہوائیں ہیں برق نگاہ حسن  ان کی عنائتوں سے ہرے پیڑ جل گئے  ندی کا بہتا پانی بھی  شعلہ نفس ہوا! جی جگمگا اٹھا تھا، جگر جھلملا اٹھا  میرے گماں میں کوند گئی برق شبنمی اس کا جمال اپنی بقا کا بھرم لیے ہر پل مرے خیال سے بچتا رہا کہ میں ارض بہار عشق کا مالک تھا، پراسے محکوم ہو کے مجھ سے محبت نہ ہوسکی ! میرے لہو سے کرب کی چنگاریاں اٹھیں ...

لطائف اقبال/اردو لطیفے||اردو طنزو مزاح||Allama Muhammad Iqabal

لطائف اقبال علامہ اقبال۔۔۔۔۔ساقی نامہ   مغرب کے اہل سیاست اقبال کی نظر میں کیمرج کے زمانہ میں چند ہم عصروں سے مذہب پر بحث چھڑ گئی۔ایک صاحب پوچھنے لگے مسٹر اقبال یہ کیا بات ہے کہ جتنے پیغمبر اور بانیان مذہب دنیا میں آئے وہ بلا استثنا ایشیا میں مبعوث ہوئے۔یورپ میں ایک بھی نبی مبعوث نہیں ہوا؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا۔بھئی شروع شروع میں اللہ میاں اور شیطان نے اپنا اپنا پیترا جما لیا۔اللہ میاں نے ایشیا کو پسند کیا اور شیطان نے یورپ کو۔۔۔اس لیے پیغمبر جو اللہ میاں کی طرف سے آئے ہیں ایشیا میں مبعوث ہوئے ۔وہ صاحب بول اٹھے تو پھر شیطان کے پیغمبر کیا ہوئے ۔انھوں نے جواب دیا:''یہ تمھارے میکائیولی اور مشہور اہل سیاست اس کے رسول ہیں ۔'' [اس پر خوب قہقہہ پڑا ] دنیا میں جنت دوسری گول میز کانفرنس کے زمانے میں انگلینڈ کی مشہور سیاح خاتون مس روزیتا فوریس نے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات  کا شوق ظاہر کیا۔چناں چہ مس صاحبہ نے انھیں اپنے ہاں مدعو کیا۔یہ خاتون شمالی افریقہ اور  اسلامی ممالک میں بہت زیادہ پھری تھیں اور ان پراس سیاحت کا بہت اچھا اثر پڑا تھا۔ڈاکٹر صاحب کے خیال میں ان کا محل جو لندن م...