Skip to main content

ارسطو||ارسطو کے تنقیدی خیالات||ارسطو کی نظر میں شاعر اور شاعری||افلاطون اور ارسطو کے تنقیدی نظریات||بوطیقا||poetics


گزشتہ سے پیوستہ [افلاطون کے تنقیدی نظریات یہاں پڑھیں]


 ارسطو

 

افلاطون کے شاگر درشید ارسطو نے فن شاعری کا انسانی ذہن کے ایک آزاداور خودمختار  عمل کی حیثیت سے جائزہ لیا اور اسے صداقت پر مبنی ،سنجیدہ اور مفید پایا۔ وہ افلاطون کے تصورنقل  کو تسلیم کرتا ہے ، لیکن اس میں ایک بہت دور رس ترمیم کرنے کے بعد ۔ اس کے نزدیک تین قسم کی  چیزوں کی نقل ممکن ہے ۔ ( اول ) چیزیں جیسی کہ وہ تھیں یا ہیں ، ( دوم ) چیزیں جیسی کہ وہ نقل کرنے والے کے عندیے میں یا دوسرے لوگوں کے کہنے کے مطابق ہیں ، ( سوم ) چیزیں جیسا کہ انہیں ہونا چاہیے۔ تیسری قسم کی چیزیں وہی ہیں جنہیں افلاطون نے'' مثالوں'' کا نام دیا تھا۔ جب شاعراس تیسری قسم کی چیزوں کو بیان کرتا ہے تو وہ ناقص  چیزوں کو یعنی پہلی دو قسموں کی چیزوں کو کامل بنا دیتا  ہے ۔ فن کا کام یہ ہے کہ فطرت کے نقائص کو دور کر ے۔ فطرت ایک مقصد کے مطابق مصروف عمل ہے، لیکن اس کی تکمیل میں ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتی ، کیونکہ جبر یا مادے کے مزاحم اس کے راستے میں حائل ہوتے ہیں ۔ فن ان مزاحم کو ہٹا کر فطرت کو کمال بخشتا ہے جب وہ ایسا کرتا ہے تو اس کی تخلیقات ایک ایسی لذت کا سرچشمہ ہوتی ہے جو تہذیب اخلاق کے حق میں مفید ہوتی ہے ۔ اس سلسلے میں ارسطو شاعری اور تاریخ کا مقابلہ کرتے ہوۓ کہتا ہے کہ شاعر افراد کے افعال اور جذبات کو ایسے طور پر بیان کرتا ہے کہ وہ عمومی اور آفاقی بن جاتے ہیں ۔ اس لئے شاعری کو تاریخ  پرتفوق حاصل ہے۔ شاعر امکان ووجوب کے قوانین کو دلیل راہ بنا کر جزئی واقعات کو ایک ایسی کلیت اور عمومیت بخش دیتا ہے کہ وہ فلسفیانہ صداقتیں بن جاتے ہیں ۔ چنانچہ ارسطو کے نزدیک شاعری تاریخ نویسی سے زیادہ فلسفیانہ عمل ہے۔ جہاں افلاطون کے نظام میں شاعری کے لئے فلسفے کا درجہ حاصل کرنے کا محض ایک بعید امکان تھا وہاں ارسطو اس کو فلسفے کی جان سمجھتا ہے کیونکہ وہ مثالی  تجربے کی عکاسی کرتی ہے ۔ اس ضمن میں ارسطو کا یہ نکتہ تنقید شعری کے لئے پر لے درجے کی اہمیت رکھتا ہے کہ قرین قیاس ناممکنات کو خلاف قیاس ممکنات پر ترجیح دینی  چا ہیے ۔ اس معیار نے شاعری کوزندگی کی غلامی سے رہا کر کے اس کا مد مقابل بنادیا ۔


ارسطو||ارسطو کے تنقیدی خیالات||ارسطو کی نظر میں شاعر اور شاعری||ارسطو کا افلاطون کو جواب||بوطیقا||poetics





Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

حسن تعلیل||صنعت حسن تعلیل کی مثالیں||اردو کی اہم صنعتیں||urdu ki mashhoor sanatain

  حسن تعلیل اردو لیکچرر کے لیے معاون مواد پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں تعلیل عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے علت یا  وجہ بیان کرنا یا توجیح پیش کرنا ‘’حسن تعلیل شعری صنعت ہے جس میں شاعر کسی واقعے کی اصل منطقی ،جغرافیائی یا سائنسی  وجہ کو نظر انداز کر کے  تخیلاتی جذباتی اور عین شاعرانہ وجہ بیان کرتا ہے ‘’     مثال بے سبب زلزلہ عالم میں نہیں آتا ہے کوئی   بے تاب تہ خاک   تڑپتا      ہو    گا زلزلے کی سائنسی وجہ تو زیر زمیں پلیٹس کے اندر تبدیلی یا ٹکراو کو سمجھا جاتا ہے لیکن  شاعر نے تخیلاتی سطح پہ اس کی شاعرانہ وجہ کسی عاشق کا زیر زمیں تڑپنا بتائی ہے   سب کہاں ؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں غالب نے اس شعر  گل و لالہ کا نمایاں ہونے کی وجہ زیر زمیں پنہاں ہونے والے خوبصورت چہروں کو بیان کیا ہے  امید ہے آپ حسن تعلیل سے آگاہ ہو چکے ہیں مزید مثالوں اور مشق کے لیے یہاں دبائیں

کہانی از ڈاکٹر سعادت سعید

 کہانی پر کیف رات اپنے تبسم میں غم لیے  پسماندگان زیست پر نوحہ کناں رہی  میں حزن بے کراں تھا یا سیل غم حیات  ہر پل مری نگاہ میں اک روشنی رہی!  وہ روشنی کہ جس سے مرااسم زندہ تھا  وہ روشنی بسر کے کسی سے مری رہی! عہد وفا سے ناتہ مراٹوٹ بھی چکا لیکن وہ رفتگی ہے کہ یوں سوچتا ہوں میں  میری کہانی اس کو اگر یاد بھی نہ ہو میری پرستشوں کی نہیں انتہا کوئی  اس کے سلگتے سانس مری دھڑکنوں میں ہیں ! جب رات بھیگنے لگی میں سوگوار تھا!   تب چاندنی نے جھوم کے مجھ سے کہا چلو!  ان بستیوں میں چلتی ہواؤں کے درمیان  جن کا ہر ایک کو چہ لب بام حشر ہے  جن کے ہر ایک خیمے یہ لکھا ہے میرا نام !  نا آشنا ہوائیں ہیں برق نگاہ حسن  ان کی عنائتوں سے ہرے پیڑ جل گئے  ندی کا بہتا پانی بھی  شعلہ نفس ہوا! جی جگمگا اٹھا تھا، جگر جھلملا اٹھا  میرے گماں میں کوند گئی برق شبنمی اس کا جمال اپنی بقا کا بھرم لیے ہر پل مرے خیال سے بچتا رہا کہ میں ارض بہار عشق کا مالک تھا، پراسے محکوم ہو کے مجھ سے محبت نہ ہوسکی ! میرے لہو سے کرب کی چنگاریاں اٹھیں ...

لطائف اقبال/اردو لطیفے||اردو طنزو مزاح||Allama Muhammad Iqabal

لطائف اقبال علامہ اقبال۔۔۔۔۔ساقی نامہ   مغرب کے اہل سیاست اقبال کی نظر میں کیمرج کے زمانہ میں چند ہم عصروں سے مذہب پر بحث چھڑ گئی۔ایک صاحب پوچھنے لگے مسٹر اقبال یہ کیا بات ہے کہ جتنے پیغمبر اور بانیان مذہب دنیا میں آئے وہ بلا استثنا ایشیا میں مبعوث ہوئے۔یورپ میں ایک بھی نبی مبعوث نہیں ہوا؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا۔بھئی شروع شروع میں اللہ میاں اور شیطان نے اپنا اپنا پیترا جما لیا۔اللہ میاں نے ایشیا کو پسند کیا اور شیطان نے یورپ کو۔۔۔اس لیے پیغمبر جو اللہ میاں کی طرف سے آئے ہیں ایشیا میں مبعوث ہوئے ۔وہ صاحب بول اٹھے تو پھر شیطان کے پیغمبر کیا ہوئے ۔انھوں نے جواب دیا:''یہ تمھارے میکائیولی اور مشہور اہل سیاست اس کے رسول ہیں ۔'' [اس پر خوب قہقہہ پڑا ] دنیا میں جنت دوسری گول میز کانفرنس کے زمانے میں انگلینڈ کی مشہور سیاح خاتون مس روزیتا فوریس نے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات  کا شوق ظاہر کیا۔چناں چہ مس صاحبہ نے انھیں اپنے ہاں مدعو کیا۔یہ خاتون شمالی افریقہ اور  اسلامی ممالک میں بہت زیادہ پھری تھیں اور ان پراس سیاحت کا بہت اچھا اثر پڑا تھا۔ڈاکٹر صاحب کے خیال میں ان کا محل جو لندن م...