گزشتہ سے پیوستہ
لانجائنس
تیسری صدی عیسوی میں
لانجائنس(Longinus)
نے ایک نئے نقطہ نگاہ سے ادب کا جائزہ لیا۔ ارسطو کی اس رائے کو قبول کر کے کہ
شاعری ایک خاص قسم کی لذت بخشتی ہے ، لانجائنس نے اس امر کی تحقیق کی کہ شاعری کا
نشاط بخش اثر مخاطب پر کیا ہوتا ہے اور اس طرح تنقید کا سب سے پہلا تاثیری نظریہ پیش
کیا ہے ۔ اس کے نزدیک پڑھنے یا سننے والا کسی ادبی تخلیق کی قدر و قیمت کا انداز
صرف اپنے مشاہدہ نفس کے ذریعے کرسکتا ہے ۔ اگر اس کے اوپر ادبی تخلیق کی عظمت یا جذباتی
قوت کا اثر اتنا زیادہ ہو کہ اس پر وجد کی
کیفیت طاری ہو جاۓ تو وہ تخلیق اعلی پاۓ کی ہے ۔ لانجائنس
نے اس پر بحث نہیں کہ کہ یہ کیفیت و جد بذات خود اچھی ہوتی ہے یا نہیں ۔ تاہم جب
وہ یہ شرط عائد کرتا ہے کہ وجد کی کیفیت ادبی تخلیق کی عظمت اور قوت کا نتیجہ ہوتو
لازما وہ اد بی لذت کو انسان کی بہترین کیفیتوں سے منسلک کرتا ہے ۔اس نے جو یونانی
لفظ استعمال کیا اس کے لغوی معنی میں علو یا رفعت ۔
لانجائنس اس معیار کو
صرف ایک قاری تک محدود نہیں رکھتا، بلکہ اسے ایک عالمگیر حیثیت دیتا ہے ۔ وہ یہ
کہتا ہے کہ اعلی پائے کا ادب وہ ہے جو پڑھنے والے کے دل میں ہیجان اور وجد پیدا کرے ،صرف ایک ہی بار نہیں بلکہ بار بار اور
صرف ایک انسان کے دل ہی میں نہیں بلکہ مختلف پیشوں مشغلوں ،عمروں اور ملکوں کے
لوگوں کے دلوں میں ۔
ملاحظہ طلب بات یہ ہے
کہ لانجائنس کا یہ نظریہ افلاطون کے نظریے کی عین ضد ہے ۔ لانجائنس صرف فنی تخلیق
ہی سے بالیدگی جذبات پیدا کرنے کا تقاضا نہیں کرتا بلکہ یہ تقاضا بھی ہوتا ہے کہ
فن کا رخوداعلی مسرت کا نمونہ ہو۔
Comments
Post a Comment