Skip to main content

اصناف نظم [بہ لحاظ ہئیت]||اصناف نظم||اردو کی مشہور اصناف||Asnaf e adab urdu

 اصناف نظم [بہ لحاظ  ہئیت]




اصناف نظم [بہ لحاظ  ہئیت]||اصناف نظم||اردو کی مشہور اصناف||Asnaf e adab urdu



۔مثنوی

۲۔رباعی

۳۔قطعہ

۴۔مسمط

۵۔مخمس

۶۔مسدس

۷۔ترکیب بند

۸۔ترجیع بند

۹۔مستزاد

۱۰۔نظم معری

۱۱۔آزاد نظم

۱۲۔نثری نظم

۱۳۔سانیٹ

۱۴۔ہائیکو

۱۵۔دوہا

۱۶۔بارہ ماسہ

۱۷۔ماہیا

۱۸۔نظمانہ

موضوع کے حوالے سے اصناف نظم یہاں پڑھیے

مثنوی

مثنوی کا لفظ مثنٰی  سے نکلا ہے جو کہ عربی زبان کا لفظ ہے۔اس کے لغوی معنی “ دو تہوں والا’’ ہے

اس صنف میں چوں کہ ہر دو مصرعے آپس میں ہم قافیہ ہوتے ہیں اور دو مصرعوں کے بعد قافیہ بدل جاتا ہے اس لیے اسے مثنوی سے منسوب کیا جاتا ہے

مثنوی میں ہر طرح کا موضوع  عشق و محبت،حیرت و استعجاب ، مدح و ستائش،نوحہ و غم  کی واردات اور تاریخی واقعات  پیش کیے جا سکتے ہیں

مولانا حالی نے اسے سب سے مفید صنف سخن قرار دیا ہے

 

شراب کہن پھر پلا ساقیا           

وہی جام گردش میں لا ساقیا

مجھے عشق کے پر لگا کر اڑا

میری خاک جگنوں بنا کر اڑا

خرد کو غلامی سے آزاد کر    

جوانوں کو پیروں کا استاد کر              

[اقبال]

مشہور مثنویاں

مثنوی کدم راؤپدم راؤاز  فخرالدین نظامی

سحرالبیان از میر حسن

خواب و خیال از میر تقی میر

گلزار نسیم از دیا شنکر نسیم

قطعہ 


قطعہ کے لغوی معنی ‘’ٹکڑا یا جزو یا کاٹا ہوا ‘’ کے ہیں

اصطلاح شعر میں دو یا دو سے زائد شعروں کوجو موضوع کے  اعتبار سے ایک دوسرے سے متعلق ہوں قطعہ کہلاتا ہے

قطعہ دو اشعار سے کم کا نہیں ہوتا اور زیادہ کی کوئی حد مقرر نہیں

قطعہ میں مطلع نہیں ہوتا بلکہ اس کے ابتدائی شعر کا ہم قافیہ ہونا معیوب سمجھا جاتا ہے

قطعہ بلحاظ معنی و مفہوم اور ہئیت ترکیبی غزل مسلسل یا مثنوی سے مختلف نہیں  البتہ اس کا پہلا مصرع بلا قافیہ ہوتا ہے

قطعے میں ہر قسم کا موضوع نظم ہو سکتا ہے  شرط یہ ہے کہ تمام اشعار معنوی لحاظ سے ایک ہی لڑی میں پروئے ہوئے ہوں

لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی

ڈھونڈ لی  قوم نے فلاح کی راہ

روش مغرب ہے مد نظر

وضع مشرق کو جانتے ہیں گناہ

یہ ڈراما دکھائے گا کیا سین

پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ

علامہ اقبال

آپ مزید پڑھ سکتے ہیں :-

محبوب عزمی کے مزاحیہ قطعات یہاں دباِئیں

مسمط

 

مسمط عربی زبان کا لفظ ہے جس کےلغوی معنی ہیں“پروئی ہوئی چیز یا موتیوں کو لڑی پرونا’’

مسمط ایسی نظم کو کہتے ہیں جوہئیت ترکیبی کے لحاظ سے  مختلف بندوں پر مشتمل ہو ان بندوں کے مصرعوں کی تعداد مختلف ہو سکتی ہے  بشرطیکہ پہلے بند میں مصرعوں کی جس تعداد کا تعین کیا جائے ،آخری بند تک اس تعداد کی پابندی کی جائے ۔۔۔۔

مسمط کی اقسام

۱۔مثلث ۲۔مربع ۳۔مخمس ۴۔مسدس

۵۔مسبع ۶۔مثمن ۷۔متسع ۸۔معشر

مخمس

مخمس کا لفظ ‘’خمس’’ سے نکلا ہے جس کے لغوی معنی پانچ کے ہیں

اصطلاح شاعری میں مخمس ایسی نظم کو کہتے ہیں جس کا ہر بند پانچ مصرعوں پر مشتمل ہو

اس کی دو صورتیں ہوتی ہیں جو مثالوں کے ساتھ آگے دے دی گئی ہیں:-

مخمس ترکیب بند

پہلے بند کے پانچوں مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتے ہیں اور اس کے بعد ہر بند کا پانچواں مصرع  پہلے بند کے ہر مصرعے کا  ہم قافیہ یا ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے  مثال:

دنیا میں بادشاہ ہے ،سو ہے وہ بھی آدمی   ۔۔۔۔۔۔۔ اور مفلس و گدا ہے ،سو ہے وہ بھی آدمی

زر داروبے نوا ہے،سو ہے وہ بھی آدمی۔۔۔۔۔۔۔نعمت جو کھا رہا ہے ،سو ہے وہ بھی آدمی

ٹکڑے جو مانگتا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

ابدال و قطب و غوث و ولی آدمی ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔منکر بھی آدمی ہوئے اور کفر کے بھی

کیا کیا کرشمے ،کشف وکرامات کے کیے ۔۔۔۔۔۔۔حتی کہ اپنے زہدو ریاضت کے زور سے

خالق سے جا ملا ہے ،سو ہے وہ بھی آدمی

 

دوسری صورت یہ ہے کہ ہر بند  کا پانچواں مصرع بار بار جوں کا توں دہرایا جائے  جسے ٹیپ کا مصرع کہتے ہیں ایسی نظم کو مخمس ترجیع بند  کہتے ہیں ۔

یہ جتنا خلق میں اب جا بجا تماشا ہے

جو غور کی تو یہ سب ایک کا تماشا ہے

نہ جانو کم اسے یارو  ،بڑا تماشا ہے

جدھر کو دیکھو ،ادھر ایک نیا تماشا ہے

غرض میں کہوں ،دنیا بھی کیا تماشا ہے

 

عزیز تھے ،سو ہوئے چشم میں سبھوں کی حقیر

حقیر تھے سو ہوئے ،سب میں صاحب توقیر

عجب طرح کی ہوائیں ہیں اور عجب تاثیر

اچنبھے خلق کے کیا کیا بیاں کروں میں نظیر

غرض میں کہوں ،دنیا بھی کیا تماشا ہے

 

 

مسدس

 

مسدس کا لفظ ''سدس '' سے نکلا ہے جس لے معنی چھ کے ہیں مگر اصطلاح میں ''مسدس ایسی نظم کو کہتے ہیں جس کا ہر بند چھ مصرعوں پر مشتمل ہو ''

مسدس کی بھی دو صورتیں ہیں:

۱۔پہلے بند کے چار مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتے ہیں اور پانچواں و چھٹا مصرع آپس میں ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے  ایسی نظم کو مسدس ترکیب بند کہتے ہیں ۔

۲۔پہلے بند کے چھ کے چھ مصرعے آپس میں ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتے ہیں اور اس کے بعد ہر بند کا پانچواں اور چھٹا مصرع یعنی تیسرا شعر من و عن پہلے بند کا ہی دہرایا جاتا ہے جسے ٹیپ کا شعر کہتے ہیں ایسی نظم کو مسدس ترجیع بند بھی کہتے ہیں ۔

 

ترکیب بند

ترکیب بند کوئی علاحدہ اور مستقل صنف سخن نہیں بلکہ جو نظم خاص ترکیب سے متعدد بندوں پر مشتمل ہو ترکیب بند نظم ہو گی ۔اگر نظم کے ہر بند کے پانچ پانچ مصرعے ہوں تو مخمس ترکیب بند  اور اگر چھ ،چھ مصرعے ہوں تو مسدس ترکیب بند اور اگر آٹھ آٹھ مصرعے ہوں تو ںمثمن ترکیب بند کہلائے گی ۔

 

ترجیع بند

 ترجیع بند اور ترکیب بند  میں بس اتنا فرق ہے کہ ترکیب بند میں ہر بند کا چاہے وہ کتنے شعروں پر مشتمل ہو آخری شعر مختلف ہوتا  ہے جب کہ ترجیع بند میں ہر بند کا آخری شعر یا مصرع بار بار رجوع کرتا  ہے جسے ٹیپ کا مصرع  کہتے ہیں۔


 

مستزاد

مستزاد کے لغوی معنی ہیں ''زیادہ کیاگیا ''     یا      ''بڑھایا گیا''

اصطلاح شعر میں مستزاد سے مراد وہ شعر ہے جس میں ایک  مصرعے پر مزید نصف مصرعے کا اس طرح اضافہ کر دیا جاتا ہے  کہ اضافہ شدہ مصرع اسی مصرعے کے رکن اول یا  رکن آخر کے برابر ہوتا  ہے ۔

تاچند غم دل سے حکایت کریے                            ہو ہوکر تنگ

کس کس سے شب و روز شکایت کریے             آتا  ہے ننگ

سختی کوئی اے صنم کہاں تک کھینچے            ہے جی میں کہ اب

ہو نالہ تیرے دل میں سرایت کریے             پر تو ہے سنگ

 

نظم معرٰی

معرٰی یا معرا کے لغوی معنی '' برہنہ یا خالی '' کے ہیں  ۔

شاعری کی اصطلاح میں نظم معری ایسی نظم کو کہتے ہیں  جس  کے تمام مصرعوں کے ارکان تو یکساں ہوں مگر قافیے کا التزام نہ رکھا گیا ہو ۔اسے انگریزی زبان میں  Blank Verse اور اردو میں نظم معری یا غیر مقفٰی کہا جاتا ہے ۔

 

آزاد نظم

 

یہ صنف بھی انگریزی سے اردو میں آئی ۔آزاد نظم یعنی ہر قسم کی عروضی پابندی سے آزاد ۔۔۔۔۔

اس میں اوزان کو بھی قوت تخیل کی راہ میں رکاوٹ سمجھا گیا مصرعے بھی خاص ترکیب میں نہیں ہوتے بلکہ کچھ بڑے تو کچھ چھوٹے

آزاد نظم محض عروضی آہنگ اور رفعت تخیل کی حامل ہوتی ہے اور یہی دو چیزیں اسے شاعری بناتی ہیں

نثری نظم

 

نثری نظم کی بنیاد انگریزی نظم Prose Poem  پر رکھی گئی ہے  یہ نظم تمام عروضی پابندیوں سے آزاد اور ہر طرح کے شعری آہنگ سے بالکل بیگانہ ہے ۔کچھ ناقدین تواسے سرے سے نظم مانتے ہی نہیں ہیں اور کچھ اسے ''نظم منثور'' یا   '' نثر لطیف '' کہتے ہیں۔۔۔۔۔

 

سانیٹ

 

سانیٹ انگریزی سے اردو میں وارد ہوئی ہے اس کے کل چودہ مصرعے ہوتے ہیں اور اس میں قافیہ بندی کا التزام روا رکھا جاتا ہے ۔۔۔۔۔سانیٹ دو بندوں میں منقسم ہوتی ہے  پہلا بند آٹھ مصرعوں اور دوسرا چھ مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔۔۔

 

ہائیکو

 

ہائیکو جاپانی صنف سخن ہے اس کے کل تین مصرعے ہوتے ہیں  یہ پنجابی ماہیے کے قریب ترین صنف ہے ۔۔۔۔

مثال

لڑکیاں کر رہی ہیں گل پاشی

آنے والے حسین دولھا پر

اپنے محبوب کے تصور میں

 

 

دوہا

 

دوہا ہندی صنف نظم ہے ۔۔۔۔۔اس کے دو مصرعے ہوتے ہیں جو ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتے ہیں  اس کے علاوہ ہر دو مصرعوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔۔۔

 

کاگا سب تن کھائیو ، چن چن کھائیو ماس

دو نیناں  مت کھائیو، پیا ملن کی آس

 

 

بارہ ماسہ

 

ہندی صنف  نظم ہے  جس کا اردو میں فروغ نہیں ہو سکا  اس صنف میں بیوی کی طرف سے اپنے شوہر کے فراق میں یا محبوب کا محب کے فراق میں بکرمی سال کے ۱۲ مہینوں کی مناسبت سے شدید نسوانی جذبات بیان کیے جاتے ہیں

 

ماہیا

 

یہ پنجابی زبان کی صنف نظم ہے مختصر صنف ہے تین مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے  پہلا اور تیسرا مصرع ہم قافیہ ہوتے ہیں اور ہمیشہ ایک ہی بحر میں کہاجاتا ہے

 

ساون میں پڑے جھولے

تم بھول گئے ہم کو

ہم تم کو نہیں بھولے

 

نظمانہ

 

جدید صنف نظم ہے ۔نظمانہ کے لغوی معنی تو ''نظم کرنا '' یا  '' ضبط نظم میں لانا '' کے ہیں ۔مگر اصطلاح میں یہ وہ صنف ہے جس میں کسی کہانی یا مختصر افسانے کو نظم کیا جاتا ہے ۔۔۔۔

نظمانہ افسانے کی منظوم شکل ہے  


آپ مزید پڑھ سکتےہیں:-

    ناصر کاظمی کا مکمل تعارف اور تصنیفات         

نوشی گیلانی کا مزاحیہ انداز میں لکھا گیا خاکہ ''یس شی گیلانی از اشفاق احمد ورک پڑھیں

اردو مزاحیہ شاعری یہاں پڑھیں



Comments

Popular posts from this blog

حسن تعلیل||صنعت حسن تعلیل کی مثالیں||اردو کی اہم صنعتیں||urdu ki mashhoor sanatain

  حسن تعلیل اردو لیکچرر کے لیے معاون مواد پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں تعلیل عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے علت یا  وجہ بیان کرنا یا توجیح پیش کرنا ‘’حسن تعلیل شعری صنعت ہے جس میں شاعر کسی واقعے کی اصل منطقی ،جغرافیائی یا سائنسی  وجہ کو نظر انداز کر کے  تخیلاتی جذباتی اور عین شاعرانہ وجہ بیان کرتا ہے ‘’     مثال بے سبب زلزلہ عالم میں نہیں آتا ہے کوئی   بے تاب تہ خاک   تڑپتا      ہو    گا زلزلے کی سائنسی وجہ تو زیر زمیں پلیٹس کے اندر تبدیلی یا ٹکراو کو سمجھا جاتا ہے لیکن  شاعر نے تخیلاتی سطح پہ اس کی شاعرانہ وجہ کسی عاشق کا زیر زمیں تڑپنا بتائی ہے   سب کہاں ؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں غالب نے اس شعر  گل و لالہ کا نمایاں ہونے کی وجہ زیر زمیں پنہاں ہونے والے خوبصورت چہروں کو بیان کیا ہے  امید ہے آپ حسن تعلیل سے آگاہ ہو چکے ہیں مزید مثالوں اور مشق کے لیے یہاں دبائیں

کہانی از ڈاکٹر سعادت سعید

 کہانی پر کیف رات اپنے تبسم میں غم لیے  پسماندگان زیست پر نوحہ کناں رہی  میں حزن بے کراں تھا یا سیل غم حیات  ہر پل مری نگاہ میں اک روشنی رہی!  وہ روشنی کہ جس سے مرااسم زندہ تھا  وہ روشنی بسر کے کسی سے مری رہی! عہد وفا سے ناتہ مراٹوٹ بھی چکا لیکن وہ رفتگی ہے کہ یوں سوچتا ہوں میں  میری کہانی اس کو اگر یاد بھی نہ ہو میری پرستشوں کی نہیں انتہا کوئی  اس کے سلگتے سانس مری دھڑکنوں میں ہیں ! جب رات بھیگنے لگی میں سوگوار تھا!   تب چاندنی نے جھوم کے مجھ سے کہا چلو!  ان بستیوں میں چلتی ہواؤں کے درمیان  جن کا ہر ایک کو چہ لب بام حشر ہے  جن کے ہر ایک خیمے یہ لکھا ہے میرا نام !  نا آشنا ہوائیں ہیں برق نگاہ حسن  ان کی عنائتوں سے ہرے پیڑ جل گئے  ندی کا بہتا پانی بھی  شعلہ نفس ہوا! جی جگمگا اٹھا تھا، جگر جھلملا اٹھا  میرے گماں میں کوند گئی برق شبنمی اس کا جمال اپنی بقا کا بھرم لیے ہر پل مرے خیال سے بچتا رہا کہ میں ارض بہار عشق کا مالک تھا، پراسے محکوم ہو کے مجھ سے محبت نہ ہوسکی ! میرے لہو سے کرب کی چنگاریاں اٹھیں ...

لطائف اقبال/اردو لطیفے||اردو طنزو مزاح||Allama Muhammad Iqabal

لطائف اقبال علامہ اقبال۔۔۔۔۔ساقی نامہ   مغرب کے اہل سیاست اقبال کی نظر میں کیمرج کے زمانہ میں چند ہم عصروں سے مذہب پر بحث چھڑ گئی۔ایک صاحب پوچھنے لگے مسٹر اقبال یہ کیا بات ہے کہ جتنے پیغمبر اور بانیان مذہب دنیا میں آئے وہ بلا استثنا ایشیا میں مبعوث ہوئے۔یورپ میں ایک بھی نبی مبعوث نہیں ہوا؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا۔بھئی شروع شروع میں اللہ میاں اور شیطان نے اپنا اپنا پیترا جما لیا۔اللہ میاں نے ایشیا کو پسند کیا اور شیطان نے یورپ کو۔۔۔اس لیے پیغمبر جو اللہ میاں کی طرف سے آئے ہیں ایشیا میں مبعوث ہوئے ۔وہ صاحب بول اٹھے تو پھر شیطان کے پیغمبر کیا ہوئے ۔انھوں نے جواب دیا:''یہ تمھارے میکائیولی اور مشہور اہل سیاست اس کے رسول ہیں ۔'' [اس پر خوب قہقہہ پڑا ] دنیا میں جنت دوسری گول میز کانفرنس کے زمانے میں انگلینڈ کی مشہور سیاح خاتون مس روزیتا فوریس نے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات  کا شوق ظاہر کیا۔چناں چہ مس صاحبہ نے انھیں اپنے ہاں مدعو کیا۔یہ خاتون شمالی افریقہ اور  اسلامی ممالک میں بہت زیادہ پھری تھیں اور ان پراس سیاحت کا بہت اچھا اثر پڑا تھا۔ڈاکٹر صاحب کے خیال میں ان کا محل جو لندن م...