مغربی شعریات کے اہم سنگ ہاۓ میل||ڈیویڈ ڈیچز / ترجمہ سید ہادی حسن ||افلاطون کا نظریا ادب||افلاطون اور ارسطو کے تنقیدی نظریات|ریاست میں شاعر کیوں نہیں ہونے چاہئیں؟
مغربی شعریات کے اہم
سنگ ہاۓ میل
Critical
Approaches to literature کاترجمہ
ڈیویڈ ڈیچز /
ترجمہ سید ہادی حسن
مشمولہ : نظریاتی تنقید :مسائل و مباحث
مرتبہ: ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی
افلاطون
تہذیب کے ابتدائی
ادوار میں شاعرانہ اورلغوی صداقت کے درمیان فرق پوری طرح واضح نہ تھا کیونکہ گفتگو اضطراری علامتوں کے ذریعے ہوتی تھی ۔ ہر بیان
استعاروں کی وساطت سے ہوتا تھا، اور جب بھی خارجی اشیاء اور واقعات کے بیان یا ان
کی ترجمانی کی ضرورت پڑتی تخیل سے مدد لی جاتی تھی۔ لیکن جب رفتہ رفتہ اخلاقی
افکار منضبط اور فلسفیانہ نظام وضع ہو گئے تو قدرتی امر تھا کہ لغوی صداقت کے
ابلاغ کے علاوہ اور مقاصد کے لئے زبان کا استعمال شک کی نگاہوں سے دیکھا جانے لگے
۔سوال کیا جانے لگا کہ اگر شاعری سچ نہ بولے تو کیا وہ اخلاق کے لئے مضر یا کم از
کم نا کارہ نہیں ؟ تعجب ہے کہ یہ بات کہ شاعرانہ تخیل ایک اپنا ہی گنجینہ حقائق
رکھتا ہے تہذیب کے ابتدائی ادوار کے لوگوں کے لئے تو کوئی اچنبھے کی بات نہ تھی ،
لیکن تہذیب کی نشوونما کے بعد ایک معما بن گئی جس کے حل کے لئے ادبی تنقید کی
ضرورت پڑی۔ تنقید شاعری کی تاریخ تہذیب کی عدالت میں شاعرا نہ تخیل کی اس الزام سے
صفائی کی روداد ہے کہ دو انسان کے لئے مضر
یا کم از کم بالکل بے کار ہے ۔
اس صفائی کے پیش کرنے
کا بد یہی طریقہ یہ تھا کہ تخیلی ادب ( جس کی سب سے نمایاں صنف شاعری ہے )اور
دوسرے اسالیب اظہار میں تمیز کی جائے ۔ چنانچہ یہ دعوی کیا گیا کہ شاعر ایک مجذوب
ہوتا ہے جو زبان کا استعمال عام انسانوں کی طرح نہیں بلکہ ایک الہامی طریقے سے
کرتا ہے ۔ اس دعوے نے شاعر کو احتساب کے معیار عام سے مبرا کر دیا اور اسے پیغمبر
اور دیوانے کے بین بین ایک خاص حیثیت بخش
دی۔ شاعر کے اس تصور میں زمانہ ماقبل تہذیب کے کچھ با قیات تھے۔ تہذیب کے ابتدائی مراحل میں بہت سے ایسے نبی
ہوئے ہیں جو وجد کے عالم میں خدا کے پیغام
سنتے تھے اور پھر ان کو لوگوں کو پہنچاتے تھے ۔ اس تصور کے ماتحت کچھ اور نہیں تو
شاعر اخلاقی پرسش سے مسنون ہو گیا ۔
افلاطون فیڈرس (Phaedrus)
میں اس تصور کو یوں پیش کرتاہے:
''جنون کی تیسری قسم وہ ہے جو ان لوگوں کو لاحق ہوتی ہے
جن کے سر پر
فنون کی مقدس دوشیزاؤں کا سایہ ہو۔ یہ جنون کسی
لطیف اور منزہ روح
میں حلول کر جا تا ہے اور اس روح کے اند را یک
خروش پیدا کر کے اس سے
غنائیہ کلام تخلیق
کرا تا ہے جس میں قدیم زمانوں کے شجاعوں کے کارنامے
آئندہ نسلوں کی ہدایت کے لئے بیان کئے جاتے ہیں۔
لیکن اگر کسی شخص کو
فی الواقعہ یہ جنون
ہواور وہ بت خانے کے دروازے پر آ کر دستک دے،
اس امید پر کہ وہ اپنے ہنر کے بل بوتے پر اندر
داخل ہو سکے گا ،تو ایسے
شخص کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے ۔ اس میدان
میں فرزانہ دیوانے کا
مقابلہ نہیں کر سکتا
۔''
اس موضوع پر افلاطون
اس سے زیادہ سیر حاصل بحث سقراط اور این کے درمیان ایک مکالمے کی صورت میں کرتا
ہے۔ اس کے کچھ اقتباسات کا ترجمہ ذیل میں پیش کیا جا تا ہے ۔ سقراط کا روۓ سخن این کی طرف
ہے جو ایک داستاں گوشعر خواں تھا جو شاعروں کا کلام لوگوں پڑھ کر سنا تاتھا :
''وہ ملکہ جو تمہیں ودیعت ہوا ہے محض ایک فن یا ہنر نہیں
۔ وہ ایک الہامی قوت ہے ۔
تم قد وسی طاقتوں کے
زیراثر ہو۔۔۔۔ شاعر ایک لطیف الجبلت ، پرداز کی طاقت رکھنے
والی اور مقدس ہستی ہوتا ہے اور کوئی چیز اس وقت
تک تخلیق نہیں کر سکتا
جب تک کہ اس پر ایک
الہامی قوت کا قبضہ نہ ہوجاۓ اور اس کے حواس
یکسر زائل نہ ہو جائیں
...... خدا شاعروں کے دماغ معطل کر دیتا ہے
اور پھر ان سے اپنے پیغمبروں
کا کام لیتا ہے ۔ ''
لیکن ایک اور کتاب یعنی
جمہوریہ میں افلاطون شاعروں پر مفاد عامہ کے نقطہ نگاہ سے جو فیصلہ صادر کرتا ہے
اس کی رو سے شاعر الہامی قوتوں کا حامل ہونے کے باوجود اس قابل نہیں ہوتا کہ اسے ایک کامل جمہوریہ کے ذمہ دار شہریوں
کے زمرے میں شامل کیا جاۓ ۔
''جمہوریہ'' کے حصہ دہم میں اس موضوع پر ایک مبسوط بحث ہے جو
سقراط اور گلاکن کےدرمیان ایک مکالمے کی صورت میں ہے ۔ اس میں سے کچھ اقتباسات کا
ترجمہ پیش کیا جا تا ہے۔
'' ہمارے نظام مملکت
میں جو مستحسن باتیں ہیں ان میں مجھے سب سے
زیادہ قانون پسند ہے جو شاعری کے متعلق بنایا گیا
ہے۔ یعنی ناقلانہ شاعری کی تردید ۔
... شاعرا نہ نقل ایک ایسی چیز ہے جو سننے والوں
کے دماغوں پر
ایک تباہ کن اثر ڈالتی
ہے ، اور اس کی مضرت کا دفعیہ صرف یہ ہے کہ اس کی
ماہیت کو پوری طرح
سمجھا جاۓ''۔
شاعرانہ نقل اس کی
اصطلاح میں شاعری کی مترادف تھی کیوں کہ اس نے کسی جگہ ایسی شاعری کا تذکرہ نہیں کیا جونقل پرمشتمل نہ ہو ۔
وہ شاعرانہ نقل کی ماہیت کی یوں تصریح کرتا ہے :
'' جب چندمنفرداشیاء
کا ایک مشترک نام ہو تو ہم یہ قیاس کرتے ہیں کہ ان کی ایک مشترک
صورت ہے یا وہ ایک مشترک خیال یا مثال کی ظاہری
شکلیں ہیں ''۔
اس کے نزدیک ہر چیز کی
اصل مشترک صورت یا مثال ہے جس کا خالق خدا ہے جو ہر چیز کا صناع او لیٰ ہے ۔ وہ ایک
پلنگ کو نمونے کے طور پر لیتاہے۔ دنیا میں ہزاروں پلنگ ہیں، جنہیں مختلف بڑھیوں نے
بنایا ، لیکن ان کا اصل منبع وہ مثالی پلنگ ہے جس کا نقشہ خدا کے ذہن میں ہے ۔
بڑھئی اس مثالی نقشے کی نقل کرتا ہے اگر ایک مصور پلنگ کی تصویر بناۓ تو وہ بڑھئی کے
بناۓ ہوئے پلنگ کی نقل کرتا ہے ۔ یعنی نقل کی نقل ۔ دوسرے الفاظ
میں مصور کا بنایا ہوا پلنگ حقیقت سے تین در جے دور ہوتا ہے شاعر کی تخلیق کی ہوئی چیزوں پر بھی
یہی بات صادق آتی ہے اس کی مصنوعات جھوٹی ہوتی ہیں ۔
اس کے بعد افلاطون شاعر پر ایک اور اعتراض کرتا ہے ۔ وہ یہ
کہ انسانی افعال یا جذ بات کو بیان کرتے وقت شاعر ہر دل عزیز بنے کی خاطر سننے
والوں کے جذبات کو برانگیختہ کرتاہے، بجاۓ اس کے کہ وہ انسانوں کو یہ سبق سکھاۓ کہ عقل اور صبر
کی مدد سے مصائب وآلام کامقابلہ کر یں۔ چنانچہ ایک دروغ بانی اور دوسرے جذبات سفلی
کی پرورش ،ان دو جرموں کی سزا کے طور پر افلاطون شاعر کے او پر یہ حکم لگاتا ہے کہ
وہ ایک منظم معاشرے کاشہری بننے کا مستحق نہیں ۔
افلاطون نے شاعری پر جو بنیادی اعتراض کیا وہ ایک علمیاتی
اعتراض ہے، یعنی اس کے فلسفہ علمیات پر مبنی ہے۔ اگر حقیقت اشیاء کے اصلی خیال یا''مثال''
پر مشتمل ہے اور منفرد اشیاء امثال کا محض ایک عکس یا ان کی نقل ہوتی ہیں تو وہ
شخص جومنفرداشیاء کی نقل کرے ایک نقل کی نقل اتارتا ہے۔ یعنی وہ ایک ایسی چیز پیدا
کرتا ہے جو حقیقت سے بہت بعید ہوتی ہے جو شخص چیزوں کی حقیقت کو جانے بغیر ان کی
نقل کرے یا ان کا خاکہ کھینچے یا ان کو بیان کرے وہ صرف اپنی جہالت ہی کا نہیں
بلکہ اپنے پست مقاصد کا بھی ثبوت دیتا ہے ۔ یہ بات قابل ملاحظہ ہے کہ ابتداء
افلاطون یہ دلیل مصور کے بارے میں پیش کرتا ہے ، لیکن اس کے بعد وہ لگے ہاتھوں
شاعر کو بھی شامل کر لیتا ہے ۔ شاعر اور مصور کے درمیان ایک نازک فرق ہے شاعر مصور
کی طرح محض مادی اشیائے خارجی کی نقل نہیں کرتا بلکہ اکثر غیر مادی اشیاء مثلاً
افکار و جذبات کی بھی خاکہ کشی کرتا ہے قیاس چاہتا ہے کہ افلاطون نے اس فرق کو
مدنظر رکھا ہوگا ۔ غالبا اس کی بناء پر وہ آگے چل کر ایسے شاعروں کا ، مثلا حماسہ
نویسوں المیہ نویسوں کا تذکرہ کرتا ہے جن کا موضوع کلام انسانی کارنامے اور تجر بے
تھے ۔
ایک فلسفی کاعملی منفعت اور افادیت پر اصرار قدرے تعجب انگیز
ہے ، لیکن یہ فراموش نہ کرنا چاہیے کہ جمہوریہ میں افلاطون کا
موضوع مفید شہریوں کے پیدا کرنے کے لئے مناسب ماحول تھا۔
افلاطون کے تصور شاعر میں ایک بنیادی تضاد ہے ۔ایک طرف تو
وہ شاعر کو تلمیذالرحمٰن سمجھتا ہے اور دوسری طرف اسے راند ہ در گاہ قرار دیتا ہے
۔ یہ تضاد تہذیب کی تاریخ میں شروع سے آخر تک دکھائی دیتا ہے ۔افلاطون کا معما
عالم مابعد الطبیعات اور اخلاقی علم دونوں کا معما ہے یہ فلسفے اور شاعری کی پرانی
جنگ ہے ۔ اس جنگ کے تصفیے کا کوئی نسخہ افلاطون نے صریح طور پر تجو یز نہیں کیا۔ لیکن
قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اس تصفیے کے امکان کو تسلیم کرتا تھا۔ چنانچہ اس کے نظام فکر میں فلسفیانہ شاعری کے لئے جگہ ہے،
جو جمالیاتی عمل کے ذریعے حواس کی دنیا سے حقائق کی دنیا میں جانے کے لئے ایک
پل مہیا کرتی ہے، کیونکہ وہ تشبیہ
واستعارے کے ذریے کلی صداقتوں کو بیان کرتی
ہے۔ خود افلاطون کی نگارشات فلسفیانہ شاعری کی نمایاں مثالیں ہیں ۔
بقیہ حصہ ملاحظہ فرمانے کے لیے ۔۔۔۔۔۔click Here
Comments
Post a Comment