آخر شب
آخر شب لکھنے والے نے
لفظوں کا ڈھیر سامنے رکھا عنوان لکھا اور سوچنے کا آغاز کیا۔
رات کے پچھلے
پہر کتوں کے بھونکنے کی آواز یں آنا عام طور پر بند ہو گئیں۔ شاید صبح قریب ہے گلی
کے چوکیدار نے اپنی وسل جیب میں رکھی لاٹھی اور لالٹین سمیٹی، کسی کونے کھدرے میں
پناہ لی اور آنکھیں موند لیں...... پیپل کے پرانے پیڑ پر کسی چیل نے کچھ دیر اپنے
پر پھڑ پھڑاۓ شاید کروٹ لی کسی سوۓ ہوۓ کتے نے کرلا کر
جاڑے کے کرب کا اظہار کیا۔۔۔۔۔ ذرا دیر بعد ایک کوا زور زور سے چلا تاہوا گذر تا
چلا گیا۔۔۔۔۔۔ اس نے جھک کر درختوں کو دیکھا مگر کہیں پڑاؤ نہیں کیا بس گزرتا گیا
اور کرلا تا گیا۔ شاید وہ اپنے آشیاں کی تلاش میں تھا۔ وہ جہاں جہاں سے گذر تا
درختوں کے پتوں میں لپٹے کوؤں کے غول بے چینی سے کروٹ بدلتے کچھ اتھل پتھل ہوتی۔
پھر صرف ایک ہی اڑنے والے کوۓ کی کائیں کائیں۔ اور ہوتی ہوئی معدوم ہوتی ہوئی..... پھر
خاموشی..... صرف رات ڈھلنے کی پراسرار چاپ ...... باقی سب سا کن ..... سب جامد ۔
بس چاند نے اپنا سفرسست
روی سے جاری رکھا۔۔ چاندنی اپنا سامان سمیٹتی رفتہ رفتہ دیواروں سے پھلا نگتی گزرتی
جاتی تھی اور بند دروازوں کی درزوں سے اندر جھانکتی اپنے جانے کا اعلان کرتی تھی۔۔۔۔
پر کہیں اچانک دور کسی ریلوے سٹیشن سے روانہ ہونے والی گاڑی کی وسل سنائی دی۔ اک
عجب طمانیت کی آواز۔ رات کا سناٹا اپنی بے چینی سے کپکپا کر رہ گیا۔ مگر گاڑی
روانہ نہ ہوئی..... بس اس کی وسل وقفے وقفے سے سنائی دیتی تھی۔ شاید ابھی سگنل نہیں
ہوا تھا۔۔۔ مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔
جانے کیا ہوا، پھر
وسل سنائی
دینا بھی بند ہوئی اور اس کے چلنے کی آواز بھی نہ آئی۔ اور
خاموشی چھا گئی۔ چاروں طرف خاموشی اور چاندنی کا پراسرار سناٹا۔ ہر چیز ایسے چپ جیسے
کوئی داستان سناتا ہو۔ اور سب محو ہو کر اسے سنتے ہوں۔ ہر چیز چپ مگر کچھ ہی دیر۔۔۔۔
پھر کہیں قریب سے کسی کتے کے بھونکنے کی آواز..... شاید کہیں دور بہت دور کوئی
مسافر گذرا ہو اور کتے نے اس کی بو پالی ہو۔ کتے یوں ہی نہیں بھونکتے...... کچھ ایسا
ہی تھا...... کہ قریب آتی ہوئی چاپ ۔۔۔۔۔ کوئی بڑی تیزی سے گذر تا ہوا جاتا تھا۔
کوئی کام کاج سے لوٹاہوا شخص یا کوئی مسافر ہو گا۔ گھر لوٹا ہو گا۔۔۔مگر اتنی رات
گئے؟ چوکیدار نے متحیر ہو کر آنکھیں کھولیں۔ لاٹھی پختہ فرش پہ زور زور سے ماری۔
جاگتے رہو کا نعرہ بلند کیا۔ پھر جاگنے والوں کو خبردار کرنے کے لئے وسل بجائی۔
پھر سوچا اب تو صبح قریب ہے ڈر کیسا اور چپ سادھ لی ۔۔۔ آگے بڑھتے ہوئے قدم ایک ہی
لے پہ آگے بڑھتے گئے۔۔۔۔۔ مسافر گزر تا گیا۔ ۔۔۔۔وہ جہاں جہاں سے گزر تا گلی میں
ادھر ادھر بکھرے ہوۓ آوارہ کتے سر اٹھا کر اسے دیکھتے۔۔۔ کچھ ہلکا ساغراتے ، کہیں
کہیں تو کھڑے بھی ہو جاتے مگر کوئی اس سے لپٹا نہیں ساری رات د میں اکڑاۓ کان کھڑے کئے
ہانپتے ہوئے کتے شاید تھک چکے تھے۔
گزرتے ہوۓ قدموں کی آواز
بھی رفتہ رفتہ معدوم ہو گئی۔ پھر کہیں سے کسی موٹر کے ہارن کا شور سنائی دیا۔ اس
کے پیہے نیم پختہ سڑک پہ اودھم مچاتے اور رگڑ کھاتے ہوئے گزرتے گئے۔ ہیڈلائٹس ادھر
ادھر اس کے لئے راستہ بناتیں اندھیرے کو پیچھے دھکیلتیں نیزی سے آگے ہی آگے روانہ
تھیں پھر یہ شور تھما تو دیر تک کچھ نہ ہوا۔۔۔۔۔ بس خاموشی سی چھا گئی مگر چاند نے اپنا سفرسست روی سے جاری رکھا
اور اس سے زیادہ سست ستارے اپنی نشست چوری چھپے بدلتے تھے مگر معدوم ہوتے جاتے
تھے۔ اور رات کی آواز یں پس منظر میں دور بہت دور ستاروں کے ساتھ ڈوبتی جاتی تھیں۔
اب آواز یں نہ تھیں ان کا شائبہ تھا.... رات کے کناروں پر بس ایک ہلکی سی تہ تھی
کسی درویش کا نعرہ مستانہ کسی کسی پرندے کی پھڑپھڑاہٹ ، کسی کتے کی کرلاہٹ......
اب چاندنی سمٹ کر منڈیروں تک آپہنچی تھی۔۔۔۔۔ اور خاموشی گھمبیر تھی۔ اسی باعث بند
گھروں کے دروازوں کے پیچھے میٹھی نیند سونے والوں کے خراٹے ۔۔۔ اب گلی میں سنائی دینے
لگے تھے۔ نہ جانے کیسے کیسے خواب ان کی آنکھوں پہ اترتے ہوں گے۔۔۔۔۔ خواب دیکھنے
والوں کا بھی کچھ ٹھیک نہیں۔ خواب میں آتشدان کے پاس بیٹھے ہوں گے مگر پھر بھی حیرت
سے سوچتے ہوں گے کہ آگ سامنے ہے کپکپی پھر بھی نہیں جاتی۔
تو ان کے خراٹے باہر گلی میں سنائی دیتے تھے اور باہر کا سناٹا
انہیں اپنے دامن میں سمیٹتا جاتا تھا۔
آخر شب چاند کی روشنی
میں دھندلاہٹ شروع ہوئی کہ دھند کی ہلکی سی تہہ نے چاند کے چہرے پہ اپنا مہین نقاب
اوڑھ دیا اور اس کے گرد سہ رنگے ہالے بنائے۔۔ سبزی مائل چاندنی دودھیا ہوئی۔۔۔۔۔ یہ
رات بیتنے کا عمل ہے کہ جوہڑوں کا پانی دیر تک سردی میں ٹھٹھرتے رہنے کے بعد برف کی
صورت سمٹتا جاتا تھا۔۔۔۔۔ کھلے آسمانوں سے اوس آتی اور جہاں جہاں پڑتی کہرے کی
صورت سفید ہوتی جاتی ۔۔۔۔ درختوں کے مرجھاۓ ہوۓ بھیگے پتے گلی
میں ہجوم سے الگ تنہا کھڑے یتیم بچوں کی طرح منہ لٹکاۓ عجب بے چارگی
کا شکار لگتے تھے۔۔۔۔۔ رات کا جادو سب کے سر چڑھ کر بولتا تھا۔ اس باعث ہر طرف چپ
تھی۔ اور چپ کا وقفہ بہت طویل تھا۔۔۔۔۔۔ تاوقتیکہ ایک ہوائی جہاز کی گڑگڑاہٹ نے
کائنات کو اپنا اسیر نہ کرلیا۔۔۔۔ درجہ بدرجہ بڑھتی اور پھیلتی ہوئی مہیب آواز اور
گھروں کی کھڑکیوں اور دروازوں کی تھر تھراہٹ ... لحظہ لحظہ بڑھتی اور لحظہ لحظہ کم
ہوتی ہوئی آواز نے زمین اور آسمان پر خوف کی چادر تانی تو سناٹے کے
ہاتھ پاؤں پھول گئے اور یوں خاموشی کے اندر خاموشی سرایت کر گئی۔۔۔۔۔ جیسے زمینوں
اور آسمانوں سے یک لخت ہر شے غائب ہو گئی ہو۔ خاموشی کا یہ وقفہ صدیوں پہ محیط
ہوا۔...۔ تب کسی کوے کے پروں کی پھڑ پھڑاہٹ سنائی دی۔ وہ کائیں کائیں کر تا واپس
لوٹتا تھا شاید اسے آشیاں کا پتہ نہ مل سکا ہو۔۔۔ پر دور ریلوے سٹیشن کی طرف آتی
گاڑی کے پہیوں کی گڑگڑاہٹ سنائی دی۔۔۔ قدموں کی چاپ کہ مسافر گھروں کو لوٹتے تھے۔
کسی گھر کی منڈیر پر
ایک مرغے نے پر پھیلاۓ پھڑ پھڑاہٹ اور پھر آواز ....... اب چاندنی نہیں تھی۔۔۔۔۔
دھندلی سی سفیدی تھی۔۔۔۔۔۔ یہ چڑیوں کے چہچہانے کا وقت تھا۔۔۔۔ لکھنے والے نے کچھ
نہ لکھا ،سوچنا بند کیا۔۔۔۔۔ قلم ہاتھ سے رکھا انگڑائی لی اور اپنا بوجھل سر سادہ
کاغذوں پہ رکھ دیا۔ کہیں دور اندر بیٹھے ہوۓ لفظوں نے پر پھڑ پھڑائے اور پھر
بند ہوتی ہوئی آنکھوں سے نکل جاتی ہوئی رات کے ہمراہ پرواز کر گئے۔ باہر ہر طرف صبح
ہو گئی تھی مگراند ر چاروں طرف اندھیرا چھا گیا تھا۔ جیسے کسی نے سفید کا غذ پر
سیاہی کی دوات انڈیل دی ہو۔۔۔
احمد جاوید
کلیات '' مجموعہ'' سے
ماخوذ
Comments
Post a Comment