جدیدیت کا معنی و مفہوم
جدت انفرادیت کا نام ہے یعنی اگر کسی شاعر کے ہاں پرانی ڈگر سے ہٹ کر موضوعاتی سطح پر ، فکری سطح پر یا اسلوب یعنی زبان بیان کی سطح پر کوٸی نٸی چیز موجود ہے تو اس کو ہم جدت کا نام دیں گے کہ فلاں شاعر کے ہاں جدت کے عناصر موجود ہیں ۔ مثال کے طور پر مرزا غالب کی شاعری کو دیکھا جاٸے تو کہا جا سکتا ہے کہ ان کی فکر و اسلوب میں جدت موجود ہے کہ انھوں شعوری طور پر یا غیر شعوری طور پر کلاسیک شاعری سے انحراف کرنے کی کوشش کی اور وہ عناصر ہم باآسانی دیکھ سکتے ہیں ۔
اردو کی مزاحیہ شاعری یہاں پڑھیں
یعنی پرانی سے ہٹ کر کوٸی نٸی چیز آٸےگے تو اسے ہم جدید کا نام دیں گے ۔
اسی طرح جب کوٸی جدید رویہ متعارف کروایا جاتا ہے تو مختلف لوگ اس کی پیروی کرتے نظر آتے ہیں کیونکہ جدید کی طرف ذہن تب ماٸل ہوتا جب قدیم اپنی انتہا کو پہنچتا اور لوگ ایک ہی طرح کی چیزوں سے مانوس ہو چکے ہوتے اور اکتا جاتےہیں اور ایک طرح کی لفظیات اور ایک ہی طرح کے مضامین سے اور کبھی کبھار سماجی سطح پر تبدیلی ضرورت بھی بن جاتی ہے جیسے ١٨٥٧ کی جنگ آزادی کے بعد ماحول تبدیل ہوا اور ادب میں بھی تبدیلی آٸی اسی طرح شاعری میں بھی موضوعاتی سطح پر اور فنی یعنی زبان و بیان کے حوالے سے تبدیلی کی ضرورت محسوس ہوٸی تاکہ ادب یا شاعری سماج کو محض تفریح ہی نہ فراہم کرے بلکہ وہ زندگی کی ضرویات اور حقاٸق کو بھی بیان کرے تو یہ وہ آواز تھی جو علی گڑھ تحریک اور انجمن پنجاب کے زیر اثر حالی نے بلند کی اور شعرا اس کی طرف متوجہ ہوٸے اور شعرا نے شعوری طور پر پرانی ڈگر سے ہٹ کر نٸی چیزوں کو شاعری میں شامل کیا جس سے جدید عناصر شاعری میں شامل ہوٸے اور باقاعدہ طور پر مختلف لوگوں نےاس خیال کی پیروی کرنے سے یہ رویہ جو جدت پر مبنی تھا جدیدیت کا روپ دھار گیا ۔
تو مختلف لوگ جب جدت کو اپناتے تو اس سے جو ٹرم بنتی اس کو جدید کہتے
جب کہ ہر دور کے بعد آنے والا دور جدید ہوتا جس میں خیال و بیان کے نٸے زاویے موجود ہوتے ہیں ، تاہم ان کو بنیاد قدیم دور ہی فراہم کرتا یا یوں سمجھ لیجیے کہ یہ قدیم کی ترقی یافتہ شکل ہوتاہے ۔
تو جدیدیت کی یہ لہر یہاں پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ مسلسل چلتی رہتی ہے اور اپنے آپ کو حالات کے مطابق ڈھالتی رہتی ہے ۔ اور ہر دور کے بعد جو دور آتا ہے وہ جدید ہوتا ہے اور ہر فکر کے بعد جو فکر آتی ہے وہ جدید ہوتی ہے کیونکہ ہر عہد کے اپنے حالات ،تقاضے اور ضرویات ہوتی ہیں ۔ مثال کے طور اس کو اس طرح بھی آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کلاسیکل عہد یعنی ولی سے لے کر غالب تک ہمارے ادب میں ایک ہی طرح کے رجحان غالب رہے جب کہ اس کے بعد مرزا غالب کے ہاں جدید عناصر نظر آٸے کیونکہ وہ ایک بڑا شاعر تھا اور اس نے ہمیشہ خود کو منفرد بنانے کی کوشش کی ۔ اس کے بعد سرسید تحریک نے پورے کے پورے ادب کو متاثر کیا اور ادب کے ہر گوشے سے جدت کی مہک آنے لگے اور اس طرح پرانے کےمقابلے میں یہاں جو ادب تخلیق ہوا اس کو جدید کہا گیا اس تحریک کو جدیدیت سے منسوب کیاگیا
پھر اس کے بعد ایک وریہ رومانوی دور کا آتا ہے جس میں مزید کچھ اور نٸے عناصر شامل ہوٸے اور پھر ترقی پسندوں نے ادب کو زندگی سے جوڑا زندگی کے مساٸل ادب کے ساتھ مخصوص ۔ پھر حلقہ ارباب ذوق جنھوں نے ادب کو ادبی داٸرہ کے اندر پرکھنے کی کوشش کی
استاد امام دین گجراتی کا مزاحیہ کلام پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں
اس کے بعد قیام پاکستان کے وقت حالات تبدیل ہوٸے معاشرتی سطح پر ، سیاسی سطح پر ، سماجی سطح پر تبدیلیاں رونما ہوٸیں جس سے ادب بھی خود کو نہ بچا سکا اب ادیبوں اور شاعروں نے موجودہ حالات کے تحت لکھنا شروع کر دیا تو اس کو بھی جدید سے تعبیر گیا یوں یہ سلسلہ مسلسل آگے کی طرف رواں دواں ہے ۔ بس بنیادی بات یہی ہے کہ جدت ایک رویہ ہے جس کو کوٸی بندہ انفرادی طور پر متعارف کراتا ہے اگر وہ رویہ لوگوں کو متاثر کرتا ہے تو لوگ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور وہ پورے سماج میں پھیل جاتا ہے جس کو بعد میں جدیدیت کا نام دے جاتا ہے اور اگر وہ رویہ سماج قبول نہیں کرتا تو کچھ عرصے کے بعد مر جاتا ہے ۔ اور اگر سماج میں پھیل جاتا ہے تو اس وقت تک اس کی پزیراٸی رہتی ہے جب تک وہ اس عہد کے رجحانات و میلانات کو لے کر چلتا ہے لیکن جب اس میں ٹھہراٶ آجاتا ہے اور وہ نٸے عہد کا ساتھ نہیں دے سکتا تو اس کی جگہ ایک نیا رویہ ہے جو نٸے حالات کو لے کر چلتا ہے اور پرانے کے مقابلے میں اب وہ جدید ہوتا ہے ۔
نوشی گیلانی کا خاکہ از اشفاق احمد ورک پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں

Comments
Post a Comment