Skip to main content

یس شی گیلانی از اشفاق احمد ورک|نوشی گیلانی|Noshi Gilani



 یس شی گیلانی

 
یس شی گیلانی از اشفاق احمد ورک|نوشی گیلانی|Noshi Gilani

ہم نے دیکھا کہ خوبصورت ،لمبے، گھنیرے بالوں والی سانولی سلونی ایک لڑکی مخالفتوں کے خارزار میں محبتوں کا تاج پہنے، تہمتوں کی برسات میں خاموشیوں کی چھتری تانے ، سمندر کے خوفناک تیوروں کی پروا کیے بغیر کچے گھروندوں میں سیپیاں سجاتی تتلیوں کے پروں پر کہانیاں لکھ کر ان کے دوام کی خواہشیں کرتی، درد کے صحراؤں میں سایہ دیوار ڈھونڈتی ،کردار سے محروم شہر میں درو دیوار کی زینت بنتی، دلوں کی کوکھ سے جنم لینے والی سچائی کا برملا اظہار کرتی، آندھیوں کے موسم میں پھولوں سے خوشبوؤں کے رابطے بحال کرتی، شہر شام دشمناں کی وحشت نامہرباں میں شدید انداز پرستش لئے وفا کے دیوتاؤں کو کھوجتی، تنہائیوں کی زہر بجھی تلوار کے سائے میں غم کے جگنوؤں کو مٹھیوں میں چھپاۓ قریہ آب ہوا کی سنگت تلاش کرتی، بارش سنگ ملامت میں تحمل و بردباری کی بکل مارے شکوک و شبہات کی رنگین دھند میں لپٹی شاہراہ ادب پر استقامت سے گامزن ہے۔ جسم و جاں کی مہک سے ڈگمگاتی، اٹھلاتی، بھونچال خواہشوں کو ہمراہ لئے شہرتوں کے آسماں کی جانب محو پرواز مملکت  عشق کی سفیر اور مادیت پرست دنیا میں لفظوں اور وفاؤں کا کھیل کھیلنے والی یہ لڑکی نے لوگوں نے ہمیشہ اپنی اپنی خواہشوں کے عکس میں دیکھا، نوشی گیلانی کے نام سے جانی اور پہچانی جاتی ہے۔ اس نے اتنی کم مدت میں ملکی بلکہ عالمی اردوداں و محبت شناس طبقے میں زبردست شناحت پیدا کر لی ہے کہ ہمارے ہاں عام آدمی تو اتنے عرصے میں شناختی کارڈ حاصل نہیں کر سکتا۔

نوشی کے لاحقے سے تو ہم کئی طرح کی نوشیوں اور ناؤنوشیوں کے حوالے سے سو عرصے سے واقف تھے کہ یہ ہماری پوری قوم کو کسی نہ کسی صورت لاحق ہے مگر اس سے سابقہ آ کے اب پڑا ہے۔ اس کا اصل نام نشاط گیلانی ہے۔ گھر والوں نے پیار سے نوشی کہنا شروع کر دیا۔ اب شہرت اور پیار کا یہ عالم ہے کہ محترمہ بڑے فخر سے کہ سکتی ہیں کہ ساری دنیا اپنا گھر ہے۔ بلکہ مسٹر الو کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ اس کا اصل نام بھی برقرار رہتا تو لاہور کینٹ کی ایک بستی (نشاط کالونی) کاتب کے سہو اور رہا شیوں کی عمدسے عمدگی سے بس رہی ہوتی کیونکہ لوگ اس کی منہ زور شہرت اور نشاط انگیز شاعرانہ ماحول کی تلاش میں چوک در چوک وہاں کا رخ کرتے۔ اسطرح ہوتے ہوتے حال کی ایک شاعرہ کا تصور دلفریب ماضی قریب کے دوسرے شاعر کے خیال پر حاوی ہو تاچلا جاتا کہ

 

بستی بسنا کھیل نہیں ہے، بستے بستے بستی ہے

 اس کا رنگ ملاحت آمیز ڈھنگ وجاہت آمیز اور شاعری محبت آمیز ہے۔ اس کی محبت کی عمارت شکوے شکایت کے سہارے کھڑی ہے اور شکوہ شکایت کی سکرین پر کبھی کبھی تو کوئی چہرہ اتنا واضح ہو جاتا ہے کہ جی چاہتا ہے ابھی اسے پکڑ کر جرم نا شکری میں اندر کرا دیں۔ ایم۔ اے کرنے میں مجھ سے ایک سال سینئر اور ایم۔ اے کروانے میں کئی سال آ گے۔ یونیورسٹی میں پڑھاتی ہے۔ جس روز زیادہ اچھے موڈ میں ٹاپک کو سلجھا رہی ہو، لوگ اور بھی الجھتے چلے جاتے ہیں۔ بعض لوگوں کا کردار ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنے رویے سے نیک نامیوں کو بھی مشکوک بنا لیتے ہیں۔ اس کے حوصلے کی داد دینا پڑتی ہے کہ اس نے اپنے انداز و کردار سے بدنامیوں کو بھی ناک آؤٹ کر دیا ہے۔ خود شاعری کرتی ہے۔ اس کا سراپا دیکھ لیں تو لگتا ہے قدرت بھی شاعری کرتی ہے۔ پبلک کے اعتراضات کے نتیجے میں عموما دو طرح کے ردعمل سامنے آتے ہیں یا آدمی فکر مند  ہو کر چلاتا رہتا ہے یا بے نیاز ہو کر چلتا رہتا ہے۔ یہ ہمیشہ موخرالذکر فارمولے پر کار بند نظر آئی۔ میں نے تو نوشی کو جب بھی دیکھاسنجید گی کی ایک دبیز تہ چہرے پر لکھی ملی۔ ایسی  شدید گھمبیرتا کی عموماً کئی وجہیں  ہوتی ہیں۔ بندے کو نا قدری زمانہ کا احساس ہو یا اپنی اہمیت کا پتا چل جائے۔ اس کے پاس کہنے کو کچھ نہ ہو یا بہت کچھ کہنا چاہتا ہو۔

 

مسٹر الو کی راۓ ہے کہ ذہین عورت کی یہی  نشانی ہے کہ سنجیدہ رہتی ہے ہوتی نہیں۔

 

میں عموما ان لوگوں سے قلمی دشمنی کرتا ہوں۔ جو اپنی فنی یا ذاتی خوبیوں کے زور پر میرے مضبوط دائرہ احترام میں محبت کی دراڑیں ڈال دیں۔ ویسے بھی خاکہ نگاری میں اپنے موضوع سے جذباتی لگاؤ نہ ہو تو اس سے کی جانے والی قلمی دشمنی کے قلبی دشمنی بن جانے کے چانسز عموماً زیادہ ہوتے ہیں۔ نوشی گیلانی بھی میرے دائرہ احترام میں ا متحان بنی کھڑی تھی۔ میں صبح صبح اس سوچ میں گم صم، چیونگم و قلم بدنداں بیٹھا تھا کہ حسب  بد قسمتی ہمارے انتہائی سگے پڑوسی (سگ پڑوسی  نہیں) حکیم جی اپنی  تمام تر حکمت و حماقت سمیت آن موجود ہوۓ۔ اور آتے ہی حسب عادت ہماری طرف رخ کر کے نہار منہ  کیا ،کیوں ،کیسے، کہاں ، کون اور کب جیسے سوالات کا ٹریگر دبا دیا

 

کن سوچوں میں گم ہو؟"

 

''ایک خاکہ لکھنا پڑ گیا ہے''

 

 

رموزاوقاف کو آسان انداز میں سمجھنے کے لیے یہاں کلک کریں




”کون ہے بد قسمت؟"

 "نوشی گیلانی"

 

”تمہیں شرم نہیں آتی غیر محرموں کے خاکے لکھتے ہو"
 "لیکن وہ میری ادبی محرم بھی تو ہے"

 "تمہاری اس فہرست محرمات میں اور بھی کئی بے پردہ نشینوں کے نام آتے ہیں۔ اسی کی شامت کیوں؟“

 

”اس لیے کہ ان میں نوشی کی مقبولیت کا گراف سب سے زیادہ ہے "

 ''اسی لیے سیانے یعنی  ہم کہہ گئے ہیں کہ تیز چلو گے جلد مرو  گے۔ اب بھگتے گی۔ ویسے تم نے پروین کے بعد نوشی ہی کا انتخاب کیوں کیا ہے۔ ان دونوں میں تمہیں کیامماثلت نظر آئی ہے ؟“

 

''یہی کہ دونوں مجھے نہیں جانتیں۔''

 

اپنے احساس محرومی کا بدلہ لے رہے ہو؟"

 

نہیں، بلکہ مردانہ خاکے لکھ لکھ کے قلم کے منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے ایسا کر رہا ہوں"

 "ابے میاں بیچاری کو سانس لینے دو۔ آج تک لوگ انگلیاں اٹھاتے آئے ہیں اب تم نے قلم کمان پر چڑھا لیا ہے اور میں ایک بات تمہیں سچ سچ بتا  دوں کہ لوگوں کی انگلیاں تمہارے بے لحاظ قلم سے بہرحال زیادہ شریف ہیں۔ آخر کیوں اس بے چاری کے پیچھے پڑ گئے ہو جبکہ تمہارے پاس اس کا خاکہ لکھنے کا کوئی ٹھوس جواز بھی موجود نہیں"

 ”اگر آپ جواز کی بات کرتے ہیں تو کیا نوشی کا خاکہ لکھنے کے لئے یہی  جواز کافی نہیں ہے کہ وہ خوبصورت ہے؟"

پھر تو تم واپڈا ہاؤس ،ہیڈ تریموں اور بارہ سنگھے کا بھی خاکہ لکھو گے ؟"

''حکیم جی ! صرف یہی  وجہ نہیں ہے۔ اصل میں نوشی کا خاکہ لکھنے کے لئے مجھے کہا گیا ہے۔"

 

”نوشی کا خاکہ لکھنے کے لئے تمہیں ایک بار یا شاید آدھی بار کہا گیا ہے، میں تمہیں اپنا خاکہ لکھنے کے لئے اٹھارہ بار کہتا ہوں۔"

"حکیم جی! ایک بات یہ بھی ہے کہ ہر مرد کی طرح مجھے بھی چھوٹی ”ی“ پہ ختم ہونے والی چیزوں سے قدرتی انس ہے۔ اور پھر نوشی گیلانی میں تو یہ ادا دو آتشہ ہے۔ اس طرح میری ''قلمی دشمنی“ سے اس کا ایک لفظی رشتہ بھی بنتا ہے۔ اور بلکہ نوشی گیلانی کے تینوں فلیپ نگار احمد ندیم قاسمی، منو بھائی اور ڈاکٹر فرمان فتحپوری بھی تو اسی صفت سے متصف ہیں۔''

 اردو مزاحیہ شاعری یہاں پڑھیں

ہم نے اپنی طرف سے حکیم جی کو مطمئن کر دیا۔۔۔۔۔۔ میلے سفید چشمے کو دونوں ہاتھوں کی انگشتان شہادت اور انگوٹھوں کی مدد سے نیچے سرکا کر اس کے اوپر سے مجھے بغور دیکھتے ہوۓ بولے۔ ”اس کا مطلب ہے سری دیوی، مغربی جرمنی ،ٹیلی پیتھی، بھنڈی توری ،سبزی منڈی، دیسی گھی ، قصوری میتھی، کالی بلی ،ٹو ٹی فروٹی اور پی پی پی تو تمہاری ہٹ لسٹ میں ہوں  گے؟‘‘

 

''نوشی میری پبلشر فیلو بھی تو ہے؟" ہم نے ایک اور جواز گھڑا۔

''ویسے تو اے ۔ جی جوش بھی تمہارا پبلشر فیلو ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ چھوٹی ’’ی“ پر ختم نہیں ہوتا بلکہ ایک چھوٹی "ی" کی کیا تخصیص وہ تو ختم ہی نہیں ہو تا۔

''حکیم جی! آپ سمجھتے نہیں نوشی گیلانی سے میرا ایم ۔ اے اردو کا بھی تو ایک تعلق ہے"

  "تو پھر عزیزی وحید قریشی، عبادت بریلوی اور ڈاکٹر اجمل نیازی بھی تمہارے خود ساختہ معیار پر سر تاپا پورے اترتے ہیں۔ اور مجھے بھی حکیم جی  حکیم جی کہتے تمہاری زبان سوکھتی ہے۔"

 ”حکیم جی وہ تو ٹھیک ہے، لیکن میں آپ سب کا بہت احترام کرتا ہوں۔"

'' اجی لعنت بھیجئے ایسے احترام پر۔ تم پروین شاکر اور نوشی گیلانی کا تو خاکہ لکھتے ہو اور ہمیں محض روکھے پھیکے احترام پر ٹرخاتے ہو“۔

'' حکیم جی یہ احترام روکھا پھیکا ہر گز نہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ جو شخص میرے احترام کی سرحدوں میں مقید رہے میں اس پر قلم زنی کرنے سے حتی الوسع گریز کرتاہوں۔ ”

''اچھا اگر یہی  شرط و معیار ہے تمہارے خاکوں کا پگڑی اچھالنا ہی تمہارا وطیرہ ہے (یہ بتاتا چلوں کہ پگڑی بھی تمہاری چھوٹی "ی" پر ختم ہوتی ہے تو پکڑو مجھے بھی گریباں سے پانچ سات جھانپڑ رسید کرو، دو ایک الٹے ہاتھ کی دو ،منہ سے گالیاں بھی بکتے جاؤ اور لکھو میرا خاکہ “۔

 ”حکیم جی آپ میرا مطلب غلط سمجھے ہیں۔ دیوار احترام کے باہر اگر بد تمیزی اور نفرت کی سرزمین ہے تو اس کے اندر مقام محبت بھی تو ہے۔ اور سچی  بات یہی  ہے کہ جب تک کسی شخصیت یا فن سے لگاؤ محبت کی صورت  اختیار  نہ کرے۔ اس کے متعلق کی جانے والی راۓ زنی ابہام و شکوک کے دھندلکے میں کوئی اور رنگ بھی اختیار کر سکتی ہے۔''

 "اجی میں سمجھتا ہوں تمہاری محبت وحبت کو۔ تم مشتاق احمد یوسفی جیسے عظیم مصنف کے خاکے کا نام   ”بھگوڑا''   رکھتے ہو۔ پروین شاکر کی شاعری کو بلوغت کا نسخہ بتاتے ہو، اساتذہ کو برابر کا بدلہ لینے کی دھمکی دیتے ہو ،عزت نفس کا تمہیں کچھ خیال نہیں، شاعر مشرق سے گستاخیاں تم کرتے ہو، ابھی تمہارے ہاتھوں غالب کے پرزے اڑنے کی خبر بھی گرم ہے جو آج سے ڈیڑھ سو برس پیشتر تمہارے جیسوں ہی کے بارے میں فرما گئے ہیں کہ

 

ہوۓ تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو؟

تم نے اپنے جتنے کنوارے دوستوں کے خاکے لکھے ہیں، آج تک اچھے رشتوں سے محروم ہیں۔ ویسے تمہارے شادی شدہ دوست بھی تمہارے قلم کی زد میں آنے کے بعد کوئی خوشگوار گھریلو زندگی نہیں گزار رہے۔ اب تم اس بیچاری کے پیچھے پڑ گئے ہو جس کے پیا دیس سدھارنے کے ابھی سارے ارماں باقی ہیں۔ مرزا غالب اپنی تمام تر شوخی و شرارت کے باوجود قلم کو محض کان پر رکھے صلاۓ عام دیتے تھے۔ ایک تم ہو کہ کوئی چھوٹا بڑا نہیں دیکھتے ہر وقت قلم بکف  شکار کی تلاش میں بیٹھے رہتے ہو۔ اللہ کرے تمہارا واسطہ چھوٹی "ی" والے حنیف صوفی سے پڑے"۔

 

حکیم جی کا پارہ چڑھ گیا اور کوسنوں پر اتر آۓ۔ اتنا کہہ کے کرسی سے اٹھ کھڑے ہوۓ مگر ان کی زبان کھڑی ہونے کی بجاۓ اور تیزی سے چلنے لگی۔ ''میاں میں ایک بات تمہیں بتاتا چلوں کہ تمہارے دیدوں کا پانی مر گیا ہے اور تم ادب نہیں بے ادبی تخلیق کرتے ہو بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ اچھے بھلے شریف آدمیوں کے لئے بے عزتی تخلیق کرتے ہو۔ اور ہاں جاتے جاتے یہ بات بھی تمہارے گوش گزار کرتا جاؤں کہ یہ بے ادبی اور بے عزتی بھی تمہاری چہیتی چھوٹی "ی" پر ختم ہوتی ہے۔"

  انسانی شخصیت ظاہر اور باطن کے امتزاج سے وجود پاتی ہے۔ شخصیت اگر نسوانی ہو تو ظاہر کی اہمیت عموماً زیادہ ہوتی ہے۔ صرف ظاہر خوبصورت ہو تو فنکار کا جینا مشکل فقط باطن دلکش ہو تو لوگوں کا مرنا محال ، اور اگر اندر باہر دونوں لشکارے مارتے ہوں تومر مر کے جینا مقدر ہو جاتا ہے۔

یہاں خاتون تخلیق کاروں کو چھاپتے ہوۓ پبلشر حضرات اتنا عقل سے کام نہیں لیتے جتنا شکل سے ۔ اس شعبے میں عکس و آهنگ دونوں کی اہمیت مسلم، مگر شکل معمولی ہو تو الفاظ و خیالات کی چکا چوند آڑے آ جاتی ہے۔ کلام بہتر نہ ہو تو تصویر کا جادو زیادہ دیر سر چڑھ کے نہیں بول سکتا۔ کیونکہ فنکار عارضی ہوتا ہے اور فن لازوال ۔ جہاں  تک نوشی کی شاعری کا سوال ہے شاعری کیا ہے، کلیجہ نکال کے رکھ دیا ہے اور پھر صفدر صاحب نے تمام بشری کمزوریوں کو ذہن میں رکھتے ہوۓ اس کلیجے کو ذوق و نفاست کی آنچ دے کر اس سلیقے اور خستگی کے ساتھ ادب کیفے پر سجایا ہے کہ تمام قارئین و ناظرین کی زندگی گویا امتحان بن کے رہ گئی ہے۔ کتاب کی اشاعت و طباعت کے دوران سب سے زیادہ توجہ کتاب کے آخری صفحے پر دی گئی پبلشرز،پرنٹر، کمپوزر ، بائنڈ ر بار بار اصل مسودہ دیکھنے پر اصرار کرتے رہے۔

 

یہ صورت پیاری ،سیرت نیاری، شاعری کراری اور شہرت بازاری رکھتی ہے۔ جسم بھرا بھرا بلکہ ہرا بھرا ،لہجہ کھرا کھرا ،شکوہ ڈرا ڈرا ،غصہ ذرا ذرا شہرت و مقبولیت غری غری ،اک عالم مرا مرا ،مگر یہ سب سے ورا ورا، کیونکہ اس راز سے واقف ہے کہ جہاں ذاتی تسلط کی حدیں شروع ہوتی ہیں وہاں اجتماعی و عوامی پن کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ فنکار کی مثال تو چاند کے جیسی ہوتی ہے کہ وہ کسی کا نہ ہوتے ہوۓ بھی سب کا ہو تا ہے۔ مگر ہمارے ہاں عورت کو قبولیت کے دائرے میں کچھ اس طرح جکڑ  دیا گیا ہے کہ اس کی مقبولیت ہمیں ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ مسٹر الو کہتا ہے کہ اس لئے مرد عورت کو قبولیت کا سگنل دیتے ہوۓ دوسری آنکھ میچ لیتا ہے۔

بڑے  لوگوں کو جس جس طرح کی نوشی نے  مار رکھا ہے ان میں نوشی گیلانی بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اتنے وزیر اسمبلی کے اجلاس میں نہیں آتے جتنے اس کے جلسوں میں۔ ہمیں تو زندگی میں پہلی دفعہ ادب سیاست پر حاوی نظر آیا۔ ہم نے تو سنا ہے کہ حکومت اس کے جلسوں پر ایمرجنسی نافذ کرنے کا سوچ رہی ہے۔ اس نے ملک کے پسے ہوۓ طبقے اور دگرگوں حالات پر بھی آواز اٹھائی ہے۔ حسن اتفاق و شاعرہ دیکھئے کہ ان حالات کے پروردگان بھی اس کی آواز پر لبیک کہنے کو ہمہ وقت تیار ملیں گے کیونکہ کہتے ہیں کہ عورت کی آواز اور مرد کے انداز تمام عمر نہیں بدلتے۔ رنگ ایسا جس پر کوئی دوسرا رنگ مشکل ہی سے چڑھتا ہے۔ ڈھنگ ایسا کہ سارے رنگ غلام ہو جائیں۔ خواتین کے چہرے کے تل  کو شاعر حضرات عموما دربان حسن سے تشبیہ دیتے آۓ ہیں۔ اس تاریخی تناظر میں نوشی کے چہرے کا مطالعہ کریں تو محسوس ہو تا ہے پورا سکواڈ بٹھا رکھا ہے۔ حکیم جی کا کہنا ہے کہ اتنا جمبو سائز تل اگر حافظ کے ترک شیرازی کے ہو تا تو بیچارے شاعر کو اس کی سودہ بازی کے لئے پتہ نہیں سمرقند و بخارا جیسے مزید کتنے شہر اپنے عشق بے مہار کی بھینٹ چڑھانا پڑتے۔

 

چار کا ہندسہ ہماری زندگی میں بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ انسان چار عناصر کے باہمی اختلاط سے وجود پاتا ہے یہ الگ بات کہ اب اس کی ہوا اکھڑ چکی، مٹی پلید ہو چکی، دیدوں کا پانی مر گیا ہے اور وہ آگ اور خون کی ہولی کھیلنے میں مصروف ہے۔ پھر  مسلمان قهاری و غفاری و قدوسی و جبروت کی صفات سے مزین ہے۔ زمین کی اطراف چار ہیں۔ اہم فرشتے و خلفاء کی تعداد بھی اتنی ہی ہے۔ ہمارا ملک چار صوبوں پر ہے اور یار لوگوں کے نزدیک تو یہ زیست مستعار بھی چار روزہ ہے۔ صنف نازک سے اس ہندسے کی وابستگی اور بھی حیران کن ہے کہ عورت لڑکی ویمن، ناری، تیمی Girl سب کے چار چار حروف ہیں چادر اور چار دیواری سے گہرا ربط ہے۔ اسلام میں چار کی اجازت ہے۔ کسی کے قتل نامے پر دستخط ثبت کروانے کے لئے چار کی گواہی درکار ہوتی ہے۔ محترمہ کی طرف آئیں تو کتاب کا نام چار الفاظ کا مجموعہ ہے۔ خود چار منگ ہے اور پھر نوشی کا لفظ چار حروف کی صورت میں پورا عورت پن اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ اس چار چشم زمانے کی طرف سے ہمیشہ تین حرفوں کی  زد میں رہی۔ کل تک کی شاعری میں ریشمی رومال پر اپنے شرعی ماہی کا نام کاڑھ کے کبوتر کی منتیں کرنے والی لڑکی کو ماڈرن خیال کیا جاتا تھا۔ لیکن موجودہ دور تبدیلیوں کروٹوں اور حیرانیوں کا دور ہے اور آج کی شاعری کی ہیروئن محبوب کی گرم سانسوں کو لب و رخسار و گیسو سے ایک انچ بھی ادھر ادھر ہونے کی اجازت نہیں دیتی۔ یہ کمال زمانے کی ہوا کا ہے جو بذات خود انقلابات کی زد میں ہے کہ ابھی کل تک بیچارا انگریز شاعر اس غم

 

میں گھلا جا رہا تھا کہ

 

ہوا پڑھ نہیں سکتی" (ترجمہ)

پھول کی ہرپتی پر لکھا ہے

کہ مجھے شاخ سے جدا نہ کرو

 

ہوا چلتی ہے

 

اور ان پتیوں کو بکھیرتی ہوئی چلی جاتی ہے

 کیونکہ

 

ہوا پڑھ نہیں سکتی

یہ انکشاف بھی نوشی کی شاعری ہی سے ہوا ہے کہ ہوا کوئی ہماری قوم نہیں ہے جو اپنی جہالت و ناخواندگی پر ذرا بھی متامل نہ ہو۔ اس کی تو کچھ ایسی کایا کلپ ہوئی ہے کہ پڑھنا تو ایک طرف اب تو اسے لکھنا بھی آ گیا ہے۔ مگر اس کی خود سری اب بھی برقرار ہے۔ اور اب کے انگریز شاعر کی بجاۓ نوشی گیلانی شکوہ کناں ہے کہ وہ کبھی شاخوں سے پھولوں کو کبھی پھولوں سے خوشبو اڑاتی، خزاں کو بہار بہار کو انتظار شبوں کو با اختیار اور سحر کو بے اعتبار لکھتی چلی جاتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے اس ہوا نےبھی ہمارے سیاسی و ساجی ماحول میں تعلیم مکمل کی ہے۔

آپ نے گھڑی کی سوئیوں کو تو دیکھا ہو گا۔ جو سوئی جتنی تیز چلتی ہے۔ اس کی اہمیت اس قدر کم ہوتی ہے۔ یہی حال عموماً انسانی شہرت اور فن پارے کا ہو تا ہے کہ یہ جتنی جلدی دل میں اترتے ہیں۔ اس سرعت کے ساتھ دل سے اتر جاتے ہیں۔ نوشی کی انفرادیت یہ ہے کہ اس نے شہرت کا سفر سیکنڈوں والی سوئی سے طے کیا ہے۔ مگر اب لگتا ہے کہ وہ ساعت ادب پر گھنٹوں والی سوئی بن کے بیٹھ جاۓ گی۔

آج صورتحال یہ ہے کہ ادب کے کسی بھی باذوق قاری و ناظر سے دریافت کریں کہ پروین کے بعد اردو کی نمائندہ ترین شاعرہ کا نام بتاؤ تو یقین جانیں وہ اتنے اعتماد وثوق اور اشتیاق سے نوشی گیلانی کا نام لیتا ہے کہ تسلیم کئے بنا چارہ ہی نہیں رہتا کہ

 

''یس شی گیلانی"


یس شی گیلانی از اشفاق احمد ورک|نوشی گیلانی|Noshi Gilani



Comments

  1. سر لطف آگیا نوشی گیلانی کا خاکہ پڑھ کر ۔یہ خاکہ آپ کی "خاکہ ذنی" کے تمام خاکوں سے منفرد لگا مجھے بہت ہی غنائیت بھرا اور شاعرانہ خاص طور پر پہلا اور تیسرا پیراگراف۔۔واقعتاً ہی ایک خوبصورت شاعرہ کا خاکہ ہے اگر ہر جگہ سے نوشی گیلانی کا نام ہٹا دیا جائے تب بھی آپ کے لفظ پتا دیں گے کہ خاکہ کسی خوبرو شاعرہ کا ہے اتنی شاعرانہ قلم روئی کی ہے آپ نے۔۔۔۔
    خود ہی آپ کے سوال اور خود ہی جواب کیا کہنے۔۔۔ ۔
    "اگر آپ جواز کی بات کرتے ہیں تو کیا نوشی کا خاکہ لکھنے کے لئے یہی  جواز کافی نہیں ہے کہ وہ خوبصورت ہے؟"
    پھر تو تم واپڈا ہاؤس ،ہیڈ تریموں اور بارہ سنگھے کا بھی خاکہ لکھو گے ؟"
    آپ کے ہم آواز اور ہم شکل الفاظ کے الفاظ کے بہترین استعمال کی تو میں ہمیشہ سے فین ہوں اتنا برمحل استعمال صرف کے ہاں ہی دیکھا ہے اگرچہ کچھ اور مزاح نگار بھی پڑھے ہیں مگر یہ والی تکنیک صرف آپ کے جنبش قلم کا حصہ ہے
    "بد قسمتی ہمارے انتہائی سگے پڑوسی (سگ پڑوسی  نہیں)���� حکیم جی اپنی  تمام تر
    حکمت و حماقت سمیت آن موجود ہوۓ۔ "
    اور سر اپکا چھوٹی "ی " والا جواز
    پھر اس کا حکیم جی والا جواب ھاھاھھاھھاھا اففففف
    ہنسی کے پھوارے چھوٹے ہیں پڑھ کے۔
    کہ گھر والے پریشان ہو گئے کہ کیا میں نے اپنی شکل دیکھ لی ہے آئینے میں جو اتنے قہقہے ابل رہے ہیں
    پچیس سال پہلے بھی آپکا طرز تحریر کمال تھا اب بھی باکمال ہے ����

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

حسن تعلیل||صنعت حسن تعلیل کی مثالیں||اردو کی اہم صنعتیں||urdu ki mashhoor sanatain

  حسن تعلیل اردو لیکچرر کے لیے معاون مواد پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں تعلیل عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے علت یا  وجہ بیان کرنا یا توجیح پیش کرنا ‘’حسن تعلیل شعری صنعت ہے جس میں شاعر کسی واقعے کی اصل منطقی ،جغرافیائی یا سائنسی  وجہ کو نظر انداز کر کے  تخیلاتی جذباتی اور عین شاعرانہ وجہ بیان کرتا ہے ‘’     مثال بے سبب زلزلہ عالم میں نہیں آتا ہے کوئی   بے تاب تہ خاک   تڑپتا      ہو    گا زلزلے کی سائنسی وجہ تو زیر زمیں پلیٹس کے اندر تبدیلی یا ٹکراو کو سمجھا جاتا ہے لیکن  شاعر نے تخیلاتی سطح پہ اس کی شاعرانہ وجہ کسی عاشق کا زیر زمیں تڑپنا بتائی ہے   سب کہاں ؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں غالب نے اس شعر  گل و لالہ کا نمایاں ہونے کی وجہ زیر زمیں پنہاں ہونے والے خوبصورت چہروں کو بیان کیا ہے  امید ہے آپ حسن تعلیل سے آگاہ ہو چکے ہیں مزید مثالوں اور مشق کے لیے یہاں دبائیں

کہانی از ڈاکٹر سعادت سعید

 کہانی پر کیف رات اپنے تبسم میں غم لیے  پسماندگان زیست پر نوحہ کناں رہی  میں حزن بے کراں تھا یا سیل غم حیات  ہر پل مری نگاہ میں اک روشنی رہی!  وہ روشنی کہ جس سے مرااسم زندہ تھا  وہ روشنی بسر کے کسی سے مری رہی! عہد وفا سے ناتہ مراٹوٹ بھی چکا لیکن وہ رفتگی ہے کہ یوں سوچتا ہوں میں  میری کہانی اس کو اگر یاد بھی نہ ہو میری پرستشوں کی نہیں انتہا کوئی  اس کے سلگتے سانس مری دھڑکنوں میں ہیں ! جب رات بھیگنے لگی میں سوگوار تھا!   تب چاندنی نے جھوم کے مجھ سے کہا چلو!  ان بستیوں میں چلتی ہواؤں کے درمیان  جن کا ہر ایک کو چہ لب بام حشر ہے  جن کے ہر ایک خیمے یہ لکھا ہے میرا نام !  نا آشنا ہوائیں ہیں برق نگاہ حسن  ان کی عنائتوں سے ہرے پیڑ جل گئے  ندی کا بہتا پانی بھی  شعلہ نفس ہوا! جی جگمگا اٹھا تھا، جگر جھلملا اٹھا  میرے گماں میں کوند گئی برق شبنمی اس کا جمال اپنی بقا کا بھرم لیے ہر پل مرے خیال سے بچتا رہا کہ میں ارض بہار عشق کا مالک تھا، پراسے محکوم ہو کے مجھ سے محبت نہ ہوسکی ! میرے لہو سے کرب کی چنگاریاں اٹھیں ...

لطائف اقبال/اردو لطیفے||اردو طنزو مزاح||Allama Muhammad Iqabal

لطائف اقبال علامہ اقبال۔۔۔۔۔ساقی نامہ   مغرب کے اہل سیاست اقبال کی نظر میں کیمرج کے زمانہ میں چند ہم عصروں سے مذہب پر بحث چھڑ گئی۔ایک صاحب پوچھنے لگے مسٹر اقبال یہ کیا بات ہے کہ جتنے پیغمبر اور بانیان مذہب دنیا میں آئے وہ بلا استثنا ایشیا میں مبعوث ہوئے۔یورپ میں ایک بھی نبی مبعوث نہیں ہوا؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا۔بھئی شروع شروع میں اللہ میاں اور شیطان نے اپنا اپنا پیترا جما لیا۔اللہ میاں نے ایشیا کو پسند کیا اور شیطان نے یورپ کو۔۔۔اس لیے پیغمبر جو اللہ میاں کی طرف سے آئے ہیں ایشیا میں مبعوث ہوئے ۔وہ صاحب بول اٹھے تو پھر شیطان کے پیغمبر کیا ہوئے ۔انھوں نے جواب دیا:''یہ تمھارے میکائیولی اور مشہور اہل سیاست اس کے رسول ہیں ۔'' [اس پر خوب قہقہہ پڑا ] دنیا میں جنت دوسری گول میز کانفرنس کے زمانے میں انگلینڈ کی مشہور سیاح خاتون مس روزیتا فوریس نے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات  کا شوق ظاہر کیا۔چناں چہ مس صاحبہ نے انھیں اپنے ہاں مدعو کیا۔یہ خاتون شمالی افریقہ اور  اسلامی ممالک میں بہت زیادہ پھری تھیں اور ان پراس سیاحت کا بہت اچھا اثر پڑا تھا۔ڈاکٹر صاحب کے خیال میں ان کا محل جو لندن م...