کھجور کے پیٹ میں بادام کا بچہ
موسم آج پھر جبر آلود تھا۔ ہوا میں ہلکی ہلکی شیرینی نے مگر
مچھوں کی ماں کے کلیجے میں آگ لگا دی تھی۔ ہمسائیوں کی بھاگی ہوئی مرغی نے دو مولویوں
کے درمیان حلال ہونے کی قسم کھا لی تھی اور نکے موٹے باجرے نے گل احمد کی لان کو
ہتک عزت کرنے پر مبارکباد کا نوٹس ارسال کر رکھا تھا۔ اس کھٹی میٹھی فضا میں جی ایف
سی فین نے اداس جذبوں کی ایک بلیک اینڈ وائٹ شام کو تین چاند لگا رکھے تھے (چوتھا
چاند لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے نہ لگ سکا]
میرے وجدان کی تیز آندھیوں نے ملکی خود انحصاری کی گود میں
بیٹھ کے مارگلہ کی پہاڑیوں کا چکر پورا کر لیا ہے اور کجھور کے پیٹ میں پرورش پانے
والے بادام کے ناجائز بچے نے اپنی چھٹی ساتویں بلکہ آٹھویں ترمیمی حس سے کام لیتے
اور زمانے کی خاندانی بہبودی صورتحال کو بھانپتے ہوۓ
اپنی ایڈہاک بنیادوں میں بجری سیمنٹ بھرنے کی خاطر ہر طرح کی مانع حمل ادویات پر
کڑی پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔
سبز آندھیوں میں اگنے والی نابالغ چڑیاں وقت کی دہلیز پہ دن
دیہاڑے بال کھولےجاگ رہی ہیں۔ املتاس کا پیر ویڈیو گیمز کے کاندھے پر سوار ہو کر
عرصہ شرارت کے آخری لقمے کا اظہار باطن کے پلیٹ فارم پہ ڈھونڈ رہا ہے۔ یونیورسٹی
سے رہا ہونے والے اداکار نے اپنے وعظ میں محلے کی تمام گنڈیریوں کو نقاب اوڑھنے کا
مشورہ دیا ہے اور زاغوں کی سرزمین پر عقاب سالخورہ نے اسمبلیوں کی دم پر ایک بار
پھر پاؤں رکھ دیا۔
ماحول کی سنگینی نے حالات کے کولہوں کا ناپ لئے بغیر دختر
درزی کے سینے پرونے کا معاملہ زمانے کے کھردرے ہاتھوں میں دے کر عالمی طاغوتی
قوتوں کی پیٹھ ٹھونک کر ڈھانپنے اور کھولنے کا فریضہ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ انجام دیا
ہے۔
چناب کی لہروں کے جہلم کے کنوارے کناروں کے ساتھ برہنہ حالت
میں لیٹے رہنے کو تحریک انسداد برہنگی کے تاحیات صدر مولانا شرمداد خاں عرف
"نانگا پیر" نے اسلامی انقلاب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔
انہوں نے مختلف بک سٹالوں پر پردہ دار کتابوں کے شانہ بشانہ حیا سوز ٹسٹ پیپروں
اور بدمعاش خلاصوں کی سر عام نمائش کو بھی نہایت فحش اور غیر شرعی قرار دیتے ہوئے
حکومت کو دکانداروں
کے خلاف یکطرفہ بلکہ دو طرفہ کاروائی کا بھی مشورہ دیا۔
اس مشورے کے بعد اعظم مارکیٹ کے تاجروں میں خوشی کی اک لہر اتنی تیزی سے دوڑی کہ اردو بازار پہنچنے سے پیشتر ہی رنگ محل کے ایک رکشے سے ٹکرا گئی۔ چشم دید گواہوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ مولانا اسے ہسپتال لے جانے سے پہلے غیر محرم رکشے کے خلاف مقدمہ درج کروانے پر بضد تھے مگر کچھ دور نا اندیش لوگ اسے زبردستی قریب کے میو ہسپتال میں اٹھا لے گئے جہاں اس کی پیشانی پر سات ٹانکے لگاۓ گئے۔ قریبی حلقوں کو اب بھی مریضہ کی صحت یابی سے زیادہ پیشانی اور ٹانکے کے اس قدر کھلم کھلا اختلاط پر مولانا کے ایک عدد
کرارے فتوی کا انتظار ہے۔
Comments
Post a Comment