پیڑوں سے پتوں کے موسم جھڑ جائیں گے
تیرے دیکھتے دیکھتے ہم گل سڑ جائیں گے
تو بھی میرے جیسی باتیں کرتا ہے نا!
تیری آنکھوں میں بھی چھالے پڑ جائیں گے
جس دن ناممکن نے ممکن ہو جانا ہے
سورج کے سینے میں نیزے گڑ جائیں گے
لفظوں کی برچھی کو دل میں توڑنے والے
اک دن تیرے خدوخال بگڑ جائیں گے
تیری شے تو تیرے پاس ہی رہ جاے گی
مٹی کے نیچے تو خالی دھڑ جائیں گے
شعر سناتے ، ساتھ نبھاتے ، ہنستے گاتے
خاموشی سے طارق یار بچھڑ جائیں گے
بہت خوب
ReplyDelete