Skip to main content

فکر اقبال کورس|Bazm-e-Fikr-e-Iqbal

 فکر اقبال کورس


''بزم فکر اقبال پاکستان'' فکر اقبال کی ترقی و ترویج کے لیے مسلسل کوشاں ہے  اوراسی سلسلے کی ایک کڑی ''فکر اقبال کورس'' کا انعقاد ہے ۔ یہ کورس 7۔اکتوبر 2021 ء کو جناب قمر اقبال [صدر بزم فکر اقبال ] کے تعارفی لیکچر سے شروع ہو کر تقریبا تین ماہ کی علمی  و تحقیقی نشستوں کے بعد 26۔دسمبر 2021ء کو اختتام پذیر ہوا ۔اس کورس کے سلسلے میں بزم  کے پلیٹ فارم سے  ملکی وغیر ملکی ماہرین اقبال نے تشنگان علم کی آبیاری کی  یہ تمام نام اپنے شعبے میں ایک معتبر حوالہ ہیں ۔

اس کورس میں اقبال کے تمام تصورات کا احاطہ کیا گیا ہے  اور اقبال کی فکر کو سمجھنے کے لیے یہ کورس ایک اہم پیش رفت ہے۔نام ونمود کا لالچ اور ہوس  دنیا سے بالاتر ہو کر  مقررین نے بغیر کسی فیس یا معاوضے کے اقبال کی فکر ی دنیاوں سے سامعین کو روشناس کروایا جس پہ وہ  شکریہ کے لائق ٹھہرتے ہیں ۔۔

تمام مقررین نے اپنے سامعین کے تک انتہائی خوش اسلوبی اور دیانت داری کے ساتھ اس علمی خزانے کی ترسیل کی  تما م شرکاء ان کی اس قابل قدر  

تحقیقی  و علمی کاوش کےبار احسان تلے دبے ہیں ۔۔۔

فکر اقبال کورس

فکر اقبال کورس کے روح رواں جناب قمر اقبال صاحب  پوری تن دہی کے ساتھ اس کورس کے جسم میں روح کی طرح موجود رہے اور ہر موقعے پر ناظرین کے سوال ہوں یا کسی مقرر کی نجی مصروفیت وہ اپنے آپ کو پیش کر دیتے جس سے کورس کاشیڈول متاثر نہ ہو سکا اور مقررہ وقت پر کورس اختتام پذیر ہوا ۔زین نوید جو کہ سیکرٹری بزم فکر اقبال پاکستان ہیں اس کاوش کا ایک موثر حوالہ ہیں انھوں نے بڑی ذمہ داری اور خوش اسلوبی سے اس سلسلے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے جس کے لیے تمام محبان اقبال ان کے شکر گزار ہیں ۔

فکر اقبال کورس

فکر اقبال کورس

رموزاوقاف کو آسان انداز میں سمجھنے کے لیے یہاں کلک کریں

علامہ محمد اقبال اپنی شاعری اور فکر کے حوالے سے اردو کے بلند پایہ شاعر ہیں ان کی شاعری اور نظریا حیات کی وضاحت و تفہیم کے لیے بیسیوں تحریکیں اور انجمنیں موجود ہیں لیکن کوئی تحریک یا فورم عوامی نوعیت کی نہ بن سکی بلکہ زیادہ تر  کے نام سے بھی لوگ واقف نہیں ۔۔۔

بزم فکر اقبال ایک تحریک کی صور ت میں لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا چکی ہے اس کورس کے ذریعے اس نے  نہ صرف پاکستان بلکہ پاکستان سے باہر بھی لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے  اس کا اندازہ آپ کو دنیا کے مختلف کونوں سے شائقین اقبال کی رائے سے ہو گا۔۔۔۔

فکر اقبال کورس




فکر اقبال کورس



ساجد حسین ندوی انڈیا سے کورس کے اختتام پر اپنے تاثرات کو اس طرح بیان کرتے ہیں :

 

''السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ بزم فکر اقبال کے جملہ ذمہ داران کی خدمت میں سلام اور شکر وامتنان کے چند الفاظ پیش
 
کرتا ہوں۔ ماشاءاللہ۔ فکر اقبال کی روشنی میں تین ماہ پر محیط فکر اقبال کورس سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے اور اقبال اور ان کے فکر کو کافی قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔ جس کے لیے ہم انتظامیہ کے بے حد شکریہ گذار ہیں۔
 
حقیقت یہ ہے کہ اقبال  نے اپنی شاعری اور خطبات کے ذریعہ امت مسلمہ کو بیدار کرنے کا جو کام کیا ہے اگر مسلمان صحیح معنوں میں اسےسمجھ کر اس پر عمل پیرا ہوجائے تو پوری دنیا ان کی زیر نگیں ہوگی۔
 
میں بے حد شکر گذار ہوں بزم فکر اقبال کے منتظمین اور ذمہ داران کا جنہوں نے یہ خوبصورت محفل سجائی اور ہم جیسے طلباء  کو مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا اور اقبال کو پڑھنے اور سمجھنے کی اسپرٹ ہمارے اندر پیدا کی۔
 
ہم امید کرتے ہیں۔ انشاء اللہ آئندہ بھی اس طرح کے مختلف کورسیس سے ہمیں مستفید ہونے کا
 

موقع فراہم کریں گے''

توفیق حسین ملک بھارتی زیر انتظام   کشمیر کی تحصیل پلوامہ سے تعلق رکھتے ہیں  جنھوں نے پابندیوں اور انٹر نیٹ کی مخدوش حالت کے باوجود تمام لیکچرز لیے ہیں اور ان لفاظ میں بزم کے اس اقدام کو سراہتے ہیں :-

''السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔
بزم فکر اقبال پاکستان کی تمام انتظامیہ قابل تحسین ہے جنہوں نے فکر اقبال کے آنلاین کورس کامیاب آغاز کے ساتھ پر ثمر اختتام تک پہنچایا ۔۔۔۔واقعتا  بہت سارے فراموش شدہ اثاثے سے ہم روشناس ہوئے۔ میں چونکہ مقبوضہ کشمیر کے پلوامہ تحصیل سے ہوں جہاں انٹرنیٹ کی صورتحال معلوم ہے۔۔۔لیکن جتنے بھی کلاسز لیے بہت استفادہ کیا۔۔۔''

 غرض کورس کے اختتام پر لوگوں کے تاثرات کو ہی لکھ دیا جائے تو  بات ایک کتاب تک جا پہنچے یہ اس کورس کی افادیت اور اس اقدام کی عملی پذیرائی کا نمونہ ہے ۔۔۔۔

ہم بزم فکر اقبال کی پوری ٹیم کے مشکور ہیں کہ انھوں نے طلبہ اور اسکالرز کی اقبال دوستی اور تفہیم اقبال کے درمیان پل کا کردار ادا کیا اور ہر کے و مے کو اس  بحر بیکراں سے روشناس کروایا۔۔۔۔

فکر اقبال کورس کے مختلف لیکچر یہاں پڑھیں

فکر اقبال کورس


فکر اقبال کورس


رپورٹ قیصر شہزاد ساقی 

Comments

Popular posts from this blog

حسن تعلیل||صنعت حسن تعلیل کی مثالیں||اردو کی اہم صنعتیں||urdu ki mashhoor sanatain

  حسن تعلیل اردو لیکچرر کے لیے معاون مواد پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں تعلیل عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے علت یا  وجہ بیان کرنا یا توجیح پیش کرنا ‘’حسن تعلیل شعری صنعت ہے جس میں شاعر کسی واقعے کی اصل منطقی ،جغرافیائی یا سائنسی  وجہ کو نظر انداز کر کے  تخیلاتی جذباتی اور عین شاعرانہ وجہ بیان کرتا ہے ‘’     مثال بے سبب زلزلہ عالم میں نہیں آتا ہے کوئی   بے تاب تہ خاک   تڑپتا      ہو    گا زلزلے کی سائنسی وجہ تو زیر زمیں پلیٹس کے اندر تبدیلی یا ٹکراو کو سمجھا جاتا ہے لیکن  شاعر نے تخیلاتی سطح پہ اس کی شاعرانہ وجہ کسی عاشق کا زیر زمیں تڑپنا بتائی ہے   سب کہاں ؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں غالب نے اس شعر  گل و لالہ کا نمایاں ہونے کی وجہ زیر زمیں پنہاں ہونے والے خوبصورت چہروں کو بیان کیا ہے  امید ہے آپ حسن تعلیل سے آگاہ ہو چکے ہیں مزید مثالوں اور مشق کے لیے یہاں دبائیں

کہانی از ڈاکٹر سعادت سعید

 کہانی پر کیف رات اپنے تبسم میں غم لیے  پسماندگان زیست پر نوحہ کناں رہی  میں حزن بے کراں تھا یا سیل غم حیات  ہر پل مری نگاہ میں اک روشنی رہی!  وہ روشنی کہ جس سے مرااسم زندہ تھا  وہ روشنی بسر کے کسی سے مری رہی! عہد وفا سے ناتہ مراٹوٹ بھی چکا لیکن وہ رفتگی ہے کہ یوں سوچتا ہوں میں  میری کہانی اس کو اگر یاد بھی نہ ہو میری پرستشوں کی نہیں انتہا کوئی  اس کے سلگتے سانس مری دھڑکنوں میں ہیں ! جب رات بھیگنے لگی میں سوگوار تھا!   تب چاندنی نے جھوم کے مجھ سے کہا چلو!  ان بستیوں میں چلتی ہواؤں کے درمیان  جن کا ہر ایک کو چہ لب بام حشر ہے  جن کے ہر ایک خیمے یہ لکھا ہے میرا نام !  نا آشنا ہوائیں ہیں برق نگاہ حسن  ان کی عنائتوں سے ہرے پیڑ جل گئے  ندی کا بہتا پانی بھی  شعلہ نفس ہوا! جی جگمگا اٹھا تھا، جگر جھلملا اٹھا  میرے گماں میں کوند گئی برق شبنمی اس کا جمال اپنی بقا کا بھرم لیے ہر پل مرے خیال سے بچتا رہا کہ میں ارض بہار عشق کا مالک تھا، پراسے محکوم ہو کے مجھ سے محبت نہ ہوسکی ! میرے لہو سے کرب کی چنگاریاں اٹھیں ...

لطائف اقبال/اردو لطیفے||اردو طنزو مزاح||Allama Muhammad Iqabal

لطائف اقبال علامہ اقبال۔۔۔۔۔ساقی نامہ   مغرب کے اہل سیاست اقبال کی نظر میں کیمرج کے زمانہ میں چند ہم عصروں سے مذہب پر بحث چھڑ گئی۔ایک صاحب پوچھنے لگے مسٹر اقبال یہ کیا بات ہے کہ جتنے پیغمبر اور بانیان مذہب دنیا میں آئے وہ بلا استثنا ایشیا میں مبعوث ہوئے۔یورپ میں ایک بھی نبی مبعوث نہیں ہوا؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا۔بھئی شروع شروع میں اللہ میاں اور شیطان نے اپنا اپنا پیترا جما لیا۔اللہ میاں نے ایشیا کو پسند کیا اور شیطان نے یورپ کو۔۔۔اس لیے پیغمبر جو اللہ میاں کی طرف سے آئے ہیں ایشیا میں مبعوث ہوئے ۔وہ صاحب بول اٹھے تو پھر شیطان کے پیغمبر کیا ہوئے ۔انھوں نے جواب دیا:''یہ تمھارے میکائیولی اور مشہور اہل سیاست اس کے رسول ہیں ۔'' [اس پر خوب قہقہہ پڑا ] دنیا میں جنت دوسری گول میز کانفرنس کے زمانے میں انگلینڈ کی مشہور سیاح خاتون مس روزیتا فوریس نے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات  کا شوق ظاہر کیا۔چناں چہ مس صاحبہ نے انھیں اپنے ہاں مدعو کیا۔یہ خاتون شمالی افریقہ اور  اسلامی ممالک میں بہت زیادہ پھری تھیں اور ان پراس سیاحت کا بہت اچھا اثر پڑا تھا۔ڈاکٹر صاحب کے خیال میں ان کا محل جو لندن م...