Skip to main content

بائیسویں صدی کا ایک مکالمہ از ڈاکٹر اشفاق احمد ورک|Doc.Ashfaq Ahmad Virk

 بائیسویں صدی کا ایک مکالمہ

 

اعظم فرنینڈس نے مریخ کی جانب محو پرواز سچ مچ کی فلائنگ کوچ میں اپنے سے آگے والی سیٹ پر بیٹھی سواری کے کاندھے کو نیند ہی کی حالت میں ٹٹولا تو اس کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی کہ اس زنانہ سواری کے کاندھے پر بلاؤز کا پورا ڈیڑھ انچ چوڑا الاسٹک موجود تھا جسے پہلے چھو کر اور پھر دیکھ کر وہ بے تاب ہو گیا کہ اب تک لباس سے چپٹی ہوئی اس خاتون کی فرسودگی اور پسماندگی کسی ساتھی سے ڈسکس کرے۔ گزرتی نسل کا نمائندہ ہونے کے باوجود یہ منظر اسے بڑا عجیب لگا۔ سب سے پہلے اس نے اپنے برابر والی سیٹ پر اکڑوں بیٹھے ایک نوجوان ہی کو یہ حیران کن خبر سنانا چاہی۔

''تم نے دیکھا کہ ہمارے سامنے والی سیٹ پہ کسی پسماندہ ملک کی کوئی خاتون سفر کر رہی ہے جس نے اپنے خوبصورت جسم کے کئی انچ حصے کپڑوں میں چھپاۓ ہوۓ ہیں حالانکہ یہ قانونا اور اخلاقا بھی جرم ہے۔ کاش میرے پاس کیمرہ ہوتا تو میں یہ دلچسپ منظر اپنے دیس کے لوگوں کے لئے محفوظ کر لیتا۔''

''بڑے میاں یہ حرکت تو کچھ بھی نہیں، تم اگر راستے میں سوئے نہ ہوتے تو ایک جگہ پہ یہ نظارہ بھی دیکھتے کہ تیسری دنیا کے ایک خلائی اڈے (جہاں یہ کوچ آکسیجن لینے اور بعض سواریوں کا تیل پانی چیک کروانے کے لئے رکی تھی) پر کسی مقامی فلائٹ کے انتظار میں دو ایسی خواتین بھی کھڑی تھیں جن کے جسم چھاتیوں سے لے کر رانوں تک پوری طرح کپڑوں کے اندر لپٹے  ہوۓ تھے۔ ان میں سے ایک خاتون تو چپڑ چپڑایک انسانی بچے کو اپنی ہی چھاتیوں سے دودھ پلائے جا رہی تھی، بالکل کسی گائے بھینس کی مانند۔ اس خلائی اڈے پر تو میں نے ایک ایسے شخص کو بھی دیکھا جو ہماری ساتھی خواتین کے جسموں کو یوں بٹر بٹر تکے جا رہا تھا جیسے وہ انسان نہ ہو،چڑیا گھر کا کوئی جناور ہو۔ بڑے میاں ! مجھے سمجھ نہیں آتی کہ سو دو سو سال پہلے تو ان کپڑوں و پڑوں کی کچھ اہمیت ہوتی ہو گی جب انسان کا موسموں پر کنٹرول نہ تھا۔ سردی اور گرمی اس کے بس سے باہر تھی۔ اب تو امریکی جاپانی اور روسی کمپنیوں نے خطوں کے خطے ویدر کنڈیشنرز کے ذریعے متعدل بنا دیے ہیں۔ زمین کے ستر فی صد حصے کا درجہ حرارت انسانی جسم کے مطابق سیٹ کر دیا گیا ہے۔ پھر یہ تردد آخر کس لئے ؟ یقین جانو مجھے تو اس کپڑے کے ذکر ہی سے وحشت ہونے لگتی ہے۔ پرانے زمانے میں تو سنا ہے کئی ملکوں کی معیشت کا دارو مدار ہی کپڑے کی صنعت پر ہوتا تھا لگتا ہے کپڑےجیسی فضول چیز سے انسان کی اس درجہ رغبت بھی انہی کی سازش کا نتیجہ تھی۔''

''نوجوان یہ سب کچھ عجیب ضرور ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ تیسری دنیا میں ابھی ٹیکنالوجی کا ہمارے والا انداز بھی نہیں۔ وہاں تو سنا ہے کہ جہالت کا یہ عالم ہے کہ عورتیں بھیڑ بکریوں کی طرح اپنے بچے آپ پیدا کرتی ہیں بلکہ بہت سے دور نا اندیشوں کو تو بچے کا تخم شکم مادر میں منتقل کرتے وقت اس بات کا بھی علم نہیں ہو تا کہ وہ لڑکا پیدا کرنے جا رہے ہیں یا لڑکی۔ اکثر ماؤں کو تو پیدا ہونے والے بچوں سے کئی کئی مہینے تعلق قائم رکھنا پڑتا ہے۔ پچھلے زمانے میں تو لوگ بتاتے ہیں کہ وہاں اپنا ذاتی جسم تک کسی کو دکھانے کی اجازت نہ تھی۔ میں نے تو روزنامہ "دی ورلڈ" میں یہاں تک ایک خبر پڑھی ہے کہ ایشیا کے ایک آدمی نے دوسرے کو محض اس وجہ سے پیٹ ڈالا کہ مشروب نے ضارب کے ساتھ پیدا ہونے والی ایک لڑکی کو اپنے ساتھ محض چند راتیں گزارنے کی درخواست کی تھی۔"

''واہ رے جہالت (نوجوان قہقہہ لگا کر بولا) میں نے بھی کہیں پڑھا ہے کہ وہاں تو بعض لوگ اب تک جانوروں کی طرح پیٹ بھر بھر کے مختلف اشیا کھاتے ہیں جس کی وجہ سے وہاں باتھ رومز جیسی مضحکہ خیز چیزوں کے آثار بھی ابھی تک باقی ہیں۔ پتا نہیں ان ساری چیزوں کا ٹائم وہ کہاں سے نکال لیتے ہیں اور حیرت ہے وہ اتنی سی  بات بھی نہیں جانتے کہ انسان کو  بھر پور صحت کے ساتھ زندہ رکھنے لئے ایک دن میں  آدھے گرام کی صرف ایک عدد  گولی کافی ہے۔ یہ اس ڈبیا  میں [نوجوان نے دو انچ لمبی ایک ڈبیا جیب سے نکال کر سامنے والی سیٹ کی پشت پر مار کر چھنکاتے ہوۓ کہا]میرا تین مہینے  کا راشن ہے  جو وہاں میرے قیام  کے لیے کافی ہے ۔''

''چلو چھوڑو  ان رجعڈ  اور پسماندہ لوگوں کو یہ بتاؤ کہ تم  اس وقت  جا کہاں رہے ہو ؟" ادھیڑ عمر نے بات بدلتے ہوئے کہا۔

''میں نے ڈیلی "مریخستان'' میں اشتہار پڑھا تھا کہ جاپان کی گردے  بنانے والی ایک کمپنی کو سیلز مینجرز کی ضرورت ہے۔ میں مریخ پر ان کے ہیڈ آفس انٹرویو کے لیے جا  رہا ہوں۔ اور آپ بڑے میاں ؟"

بھئی  مجھے تو  بس  ذرا چاند تک جانا  ہے اور ذرا آہستہ بولو، تمہارے ان سوالوں  سے کوچ والے مجھ کہیں پھر ناراض  نہ ہو جائیں۔ کہہ رہے تھے لوکل سواری تو ہم  بٹھاتے  ہی نہیں۔ بڑی مشکلوں سے راضی کیا ہے۔ میں اصل میں وہاں نیل آرم سٹرانگ سٹیڈیم میں منعقدہ چاند اور چین کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان تیسرا ون  ڈے انٹر گلیکسیز کرکٹ میچ دیکھنے جا رہا ہوں۔ لوکل کوچ  کی روانگی میں ابھی پورے  پندرہ منٹ باقی تھے۔ میں  نے سوچا اب اتنا وقت کون ضائع کرتا پھرے۔پورا کرایہ لے کر بھی بڑ بڑ کر رہے تھے ۔ کہہ رہے تھے کہ اگر چاند پر بریک لگائیں تو وہاں کے سٹوڈنٹس بہت تنگ کرتے ہیں۔

 

''ویسے بڑے  میاں میری بھی یہی خواہش ہے کہ جاپانی کمپنی ''کڈنی کلب '' اگر مجھے سلیکٹ کر لے تو اپنی پہلی پوسٹنگ  چاند پر ہی کرواؤں  گا جہاں ان کی کئی ایک برانچیں موجود ہیں ۔''

''تمہیں سلیکٹ تو ہو جانا چاہئے۔ گفتگو سے قابل معلوم پڑتے ہو، ویسے تعلیم کیاہے تمہاری ؟''

''میں نے ایک روز پہلے زیڈ  کام کی تعلیم مکمل کی ہے۔ ''

بہت خوب بھئی !ابھی ایک ماہ پہلے تک تو تمام یونیور سٹیاں  اور کمپنیاں صرف وائی کام تک کروا رہی تھیں ؟''

 

''بڑے  میاں تعلیم کے معاملے میں تمہاری معلومات بھی انتہائی Poor ہیں  حالاں کہ اس کورس کو انٹرڈیوس ہوئے پورے اکیس دن ہو چکے ہیں۔ ''

''اچھا بھائی یہ واقعی میرے لئے نئی خبر ہے۔ [ہنستے ہوئے ]ایک وہ  پرانے زمانے کے لوگ تھے جن بے چاروں کی تعلیم محض اے، بی ،سی ،ڈی کام تک محدود تھی۔ ''

''پرانے دور کی کیا بات کرتے ہو بزرگو ! اس وقت تو لوگ ایک ہی کام یا ملازمت میں  پوری پوری زندگی بتا دیا کرتے تھے۔ چچ چچ۔۔۔۔ بے چارے ۔۔ اس دور میں تو دو دو سال میں کہیں ایک کورس مکمل ہو پاتا تھا۔ اب تو زیڈکام کی انتہائی تعلیم مکمل کرنے کے لئے شوابے  کمپنی کے صرف تین عدد انجکشن ایک ایک دن کے وقفے سے لگوانا پڑتے ہیں۔ اس کے لئے آپ کا صرف وائی کام ہونا ضروری ہو تا ہے بلکہ اب تو کسی بھی تعلیمی کورس کے لئے دماغ میں IBM والوں کا تیار کردہ متعلقہ آئی  کون [I.con]فٹ کروا لیجیے تو اس پہ کل آدھ گھنٹہ صرف آتا ہے۔''

''واہ رے لونڈے کئی باتوں میں تو تم مجھے بھی حیران کیے دے رہے ہو۔ ''

''بڑے میاں برا نہ منانا مجھے تو تم بھی روایت سے لپٹی  ہوئی پرانے زمانے کی کوئی مڈھی  دکھائی پڑتے ہو، اب یقینا تمہارا ایک عدد فضول سا  نام بھی ہو گا کیونکہ یہ جدید قسم  کی نمبرنگ تو ہمارے زمانے  کی دین ہے۔ تمہارے دور تک کے لوگ یہ جاہلانہ رسم  نبھائے چلے جا رہے تھے حالانکہ اس سے کئی طرح کے مغالطے بھی جنم لیتے تھے۔ ویسے اب لگے ہاتھوں اپنا نام بھی بتاتے چلو ہو ؟''

 

''اعظم فرنینڈس  '' بڑے میاں نے جھینپتے  ہوئے یہ  دونوں الفاظ ادا کئے۔

 '' آ ۔۔۔زم۔۔۔فررررنے ۔۔۔۔ڈس ''نوجوان کا ہنسی کے مارے  برا حال ہو گیا۔

اب آپ  ہی بتائیں ان جاہلانہ رسوم  و قیود  میں بھلا کیا پڑا تھا۔ پھر ایک ہی وقت میں  انھی  ناموں کے لاکھوں لوگ روئے زمین  پر ہوں گے۔اور میری طرف دیکھو میرا نمبر AHU-634 ہے ا ور یقین ہے کل کائنات میں اس نمبرکا  کوئی زنده آدی نہ  ہو گا ۔میری ڈسپوزنگ کے بعد یہ نمبر تھوڑے سے  ترمیم  و اضافے کے ساتھ کسی  دوسرے بچے  کو الاٹ کر دیا جاۓ گا مثلا AHO- 634-A وغیرہ وغیرہ۔

''بھئی  یہ سب کچھ تو میں جانتا ہوں۔ اب تم  مجھے اتنا بھی بزرگ نہ سمجھو۔اچھایہ بتا وکیا یہ تمہاری پہلی ملازمت ہو گی ؟"

'' نہیں  نہیں بڑے میاں  یہ تو میری  چوتھی نوکری ہے۔ میری ملازمت تو میڈیکل  کے شعبے میں تھی۔ ایک ہفتے میں  ایم بی بی ایس کرنے  کے بعد میں میڈیکل  آفیسر ہو گیا۔ پورے سات مہینے وہی نوکری کرتا رہا مگر بے کاری سے تنگ آکر چھوڑ  دی کہ جس شخص کو بھی جسم کسی حصے میں مرض لاحق ہوتا ہے فٹ نیا ڈلوا  لیتا ہے ۔اب تو باڈی مرمت سے زیادہ سپئیر پارٹس  والوں کی چاندی ہے۔"

 

''ہاں بھئی  اب کون  ان مرمتوں ورمتوں کے چکر میں ٹائم ضائع  کرتا پھرے۔''

''تو بڑے میاں اس کے بعد میں نے دماغ  میں زراعت سے متعلقہ کل پرزے سیٹ کروا لیے اوربہترویں گریڈ میں ایگریکلچرل ریسرچ آفیسر  ہو گیا مگر اب آٹو پیتھی کی  آٹو میڈیکل فوڈ نے  یہ شعبہ بھی ٹھپ کروا دیا ہے۔ اس کے بعد  میں  ٹی وی پروڈیوسر  بن گیا لیکن وہاں  بھی کیا دھرا تھا۔ سارے کا  سارا کام  حضرت کمپیوٹر نے سنبھال رکھا ہے۔''

'' بھئی پرانے زمانے میں لڑکیوں وڑکیوں کی وجہ سے اس شعبے میں کچھ اٹریکشن تھی ۔''

 

''چھوڑو بابیو کس عہد جہالت کی بات کرتے ہو جب سنا ہے  کہ  کسی لڑکی یا  عورت کا جسم دیکھے  بغیر ہی اس  کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے جاتے تھےاور مرد و عورت کے باہمی تعلق کو نہ صرف شک کی نظر سے دیکھا جاتا تھا بلکہ اس پرطرح طرح کی کہانیاں بھی وجود میں لائی جاتی تھیں۔ تو میں اپنی تیسری ملازمت کے متعلق بتا رہا تھا کہ وہاں سے تو دو چار ہفتوں ہی میں جی  اچاٹ ہو گیا۔ اب نئے سرے سے مینجمنٹ سے متعلق پروگرام آئی کون (Programme Icon ایڈ جسٹ کروایا ہے تو نئے ذائقے کے حصول کے لئے پرواز کر رہا ہوں مگر بڑے میاں آپ نے اپنے متعلق تو کچھ بتایا ہی نہیں کہ صرف میچ  ہی دیکھتے ہیں یا کوئی کام وام بھی کرتے ہیں ؟"

'' بھائی لڑ کے میچ دیکھنا تو ایک بہانہ ہے، اصل میں تو میں وہاں مون لائٹ سپیر پارٹ والوں کے ساتھ انسانی پھیپھڑوں اور دلوں کی سپلائی کا تین سالہ معاہدہ کرنے جا رہا ہوں کیونکہ ہمارے ہاں ان دنوں Made in Moon دلوں کی ڈیمانڈ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اس کے بدلے میں ہماری کمپنی انہیں اپنی تیار کردہ ٹسٹ ٹیوب  کے فارمی انسانی بچے ارسال کرے گی جو ساڑھے نو مہینے ہی میں جوان ہو جاتے ہیں۔ چاند کے تاجر ہماری اس پروڈکٹ پر بہت خوش ہیں کیونکہ وہاں کے پیدا کردہ بچے تو جوان ہونے  میں پانچ پانچ سال لگا دیتے ہیں۔ پرانے زمانے میں تو سنا ہے لوگ کہیں بیس بیس پچیس پچیس سال بعد جا کر جوان ہو پاتے تھے جبکہ اتنے عرصے میں تو ہماری کئی کئی نسلیں گزر جاتی ہیں۔''

 

''بڑے میاں یہ تو تم اس دور کی بات کر رہے ہو جب ابھی انسان نے اپنے دماغ کا بمشکل دسواں حصہ استعمال کیا تھا۔ اور اب تو شاید انسانی دماغ کی چند ہی کڑیاں طے ہونا باقی ہیں۔ اور آپ تو جانتے ہی ہیں کہ عقل کی فراوانی بتدریج کسر عمر پہ منتج ہوتی ہے۔''

“ "بالکل بجا فرمایا بھائی ! اب میری طرف ہی دیکھو کہ میں بھی اپنی ہی فرم کا پیدا کردہ بچہ تھا جسے فرم والوں نے جاپانی دماغ لگا کر اپنی ہی فرم میں ایکسپورٹ مینجر بھرتی کر لیا۔ اور یہ جو تم مجھے بار بار بڑے میاں بڑے میاں کر کے بلا رہے ہو ہو تمہیں یہ سن  کر یقینا حیرت ہو گی کہ میری اب تک کل عمر چار سال اور تین مہینے ہے۔ ابھی ایک مہینہ پہلے میں نے اپنی زندگی کی گولڈن جوبلی ماہ گرہ منائی۔ چاند کے اس معاہدےسے کامیاب لوٹنے پر میں باعزت ریٹائرڈ کر دیا جاؤں گا۔ اس کے بعد میں اپنی زندگی کے آخری چند مہینے نیپچون پر گزارنا چاہتا ہوں۔ پھر کمپنی والوں سے میرے دماغ کا معاہدہ بھی مکمل ہو جاۓ گا۔ بعد میں اسے میرے باقی اعضا کے ساتھ تیسری دنیا کے ممالک کو ایکسپورٹ کر دیا جاۓ گا۔ وہاں پر تو سنا ہے کہ آج بھی بعض خطوں میں پندرہ پندرہ برس کی عمر کے کچھ لوگ مل جاتے ہیں۔ کاش میں انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا۔''

 ”واہ بھئی واہ بڑے میاں معاف کرنا صرف میاں، آپ تو چھپے رستم نکلے ہیں۔ پھر تو آپ نے کمپنی کی طرف سے مریخ کا سفر بھی کیا ہو گا؟"

 

''کوئی چار ایک بار''

 "بہت خوب ! پھر تو آپ یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ وہاں کی قومی اور سرکاری زبانیں کون کون سی ہیں ؟"

 

بھئی ایک بات سن لو کہ وہاں یہ منافقت ہر گز نہیں چلتی کہ قومی زبان اور ہو اور سرکاری کوئی دوسری۔ وہاں کی تو قومی اور سرکاری زبان ” چپرش“ ہی ہے جو دنیا کے بیشتر حصوں کی مشترکہ زبان ہے۔ لسانیات کی جدید تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ماضی بعید میں یہ پانچ انگلیوں کی طرح پانچ علیحدہ علیحدہ زبانیں (چینی، جاپانی جرمن رشین اور سیپنیش) ہوا کرتی تھیں جنہیں رفتہ رفتہ ایک ہی ہاتھ میں پرو دیا گیا۔ اب تو سنا ہے کہ اپالو اور مشتری پر بھی اسی زبان کے چرچے ہیں۔''

“حضرت اعظم جی ! اب ذرا چاند کے بارے میں بھی کچھ معلومات عطا کیجئے تاکہ جب میں ملازمت کے سلسلے میں یہاں آؤں تو اجنبیت محسوس نہ کروں۔''

”میاں چاند کی تم کیا بات کرتے ہو۔ کائنات کی مالدار ترین سٹیٹ ہے۔ وہاں کے تمام مکانات قیمتی دھاتوں سے تیار کروائے گئے ہیں۔ سنا ہے شروع شروع میں یہاں ریت اور پتھر بہت زیادہ تعداد میں تھے۔ جس کا پیشتر حصہ MDA (مون ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ہوائی ٹرالیوں کے ذریعے زحل پر منتقل کر دیا ہے اور بقیہ تیسری دنیا کے ایک ملک پاکستان کے ٹھیکیداروں نے سرکاری عمارتیں بنانے کی خاطر منہ مانگے داموں

خرید لیا تھا۔ اگرچہ یہ سب کچھ ان کے اپنے ملک میں بھی وافر مقدار میں موجود تھا مگراس وقت وہاں کے حکمران مشن سے زیادہ کمیشن پر یقین رکھتے تھے اور ملکی وسائل کو اندرون ملک استعمال کرنے سے ان کے اپنے ٹھوٹھے پر زد پڑتی تھی اس لئے وہ یہ  حماقت بھلا کیسے کر سکتے تھے لہذا اس سودےکے بعد ان حکمرانوں اور حکومت چاند دونوں کی چاندی ہو گئی۔

''خوب ! اس کا مطلب ہے چاند والوں کے تو گٹھلیوں کے دام بھی کھرے ہوگئے۔"

 

"اور کیا"

''مگر ابھی تک آپ نے چاند پر بولی جانے والی زبان کے متعلق تو بتایا ہی نہیں۔"

 بھئی ابھی میری بات مکمل کب ہوئی تھی کہ تم نے ٹوک دیا۔ ابھی بہت سی باتیں تمہاری دلچسپی کی باقی ہیں کہ چاند پر "فر لینگدو'' زبان بولی جاتی ہے جو ماضی میں فرنچ ،انگریزی اور اردو کی شکلوں میں جدا جدا تھی۔ شروع میں جب چاند کی زمین بنجر تھی تو سورج کی انتظامیہ خیرات کے طور پر کچھ روشنی اسے دے دیا کرتی تھی مگر اس کی حیرت انگیز ترقی دیکھ کر تو سورج کے منہ میں بھی پانی بھر آیا ہے اور انہوں نے اب روشنی کا ایک وافر حصہ چاند کے لئے وقف کر دیا ہے جس نے چاند کی صدیوں کی تاریکیاں اور محرومیاں دور کر کے اسے جگمگا دیا ہے۔ اب تو سنا ہے اگلا یونیورسل کرکٹ کپ بھی چاند پر منعقد ہو رہا ہے جس کے بیشتر میچ رات کو سورج کی روشنی میں کھیلے جائیں گے "

 

بھائی صاحب آپس کی بات ہے یہ چاند کی خوشحالی کا راز کیا ہے ؟ اتنی جلدی جنگل کا جنگل ہرا کیسے ہو گیا؟"

”میاں وہاں پر خوبصورت ہوٹلوں اور پارکوں کے ذریعے کثیر زر مبادلہ کمایا جاتا ہے۔ آج کائنات بھر کے سیاح جوق در جوق یہاں کھنچے چلے آتے ہیں۔ چاند کے لوگ سیاحوں کی اس قدر آمد پر پھولے نہیں سماتے اور اپنا یہ قومی گیت گا گا کر مہمانوں کا استقبال کرتے ہیں کہ

چاند میری زمیں ، پھول میرا وطن

سورج کی طرح  روشن  روشن

آج سے دو سو سال قبل یہ گیت سنا ہے تیسری دنیا کے کسی ملک کے شاعر نے لکھا تھا مگر وہاں کے سیاستدانوں نے اپنی دوسری بہت سی ملکی نعمتوں کی طرح اس گیت کو بھی چاند کی انتظامیہ کے ہاتھوں اونے پونے داموں بیچ ڈالا۔ اب تو پچھلے دنوں مون ٹائم" کی خبر تھی کہ چاند کی حکومت نے پاکستان سے سمندر کا کچھ کنارا اور بنگلہ دیش سے آٹھ دس جزیرے بھی خرید لئے ہیں جنہیں کوریا کی مشہور زمانہ کمپنی ”ڈائیو" اگلے ماہ چاند پر منتقل کرے گی۔''

 

 

بہت خوب ! پھر تو گویا چاند کی دھرتی کو چار چاند لگ جائیں گے؟"

 

''تو اور کیا ؟''

“ لیکن بھائی میاں یہ مجھے آپ کے بہت سے جسمانی اعضا اس وقت نظر نہیں آ رہے۔ یہ آخر تم دائیں ٹانگ بائیں بازو اور دونوں کانوں کے بغیر کیوں سفر کر رہے ہو ؟''

 

لڑکے میاں اس کی بھی بڑی طویل داستان ہے اور میرا سٹاپ بھی اب آنے والا ہے۔ مختصرا سن لو کہ ایک زمانے میں جب میں "بستہ ی" کا بدمعاش ہوا کرتا تھا۔ میری روز کی وارداتوں سے تنگ آ کر پولیس نے میرے یہ تمام اعضا کاٹ ڈالے تھے۔ میں نے اگلے ہی روز ” فلپس کی ٹانگ‘ ’’پینا سونک“ کا بازو اور پانیرکے کان فٹ کروا لئے۔ اب ٹانگ اور بازو کو سفر کے دوران میں بیگ میں رکھتا ہوں اور کان دیسے ہی میں نے سکن کے اندر فٹ کرواۓ ہوۓ ہیں، تمہیں نظر کہاں سے آئیں گے ؟“

[یہ بات مکمل ہوتے ہی اعظم فرنینڈس کا سر ایک طرف ڈھلکنے لگتا ہے اور آنکھیں بند ہونے لگتی ہیں نوجوان اس کے کندھے کو پکڑ کے جھنجھوڑتا ہے اور پوچھتاہے]

ارے میاں ہوش کرو یہ تمہیں کیا ہو رہا ہے ؟"

(اعظم فرنینڈس نحیف آواز میں) ”معاف کرنا یار ! باتوں باتوں میں مجھے یاد ہی نہیں رہا کہ میرے دل کے سیل کی مدت آج بارہ بجے ختم ہونے والی تھی۔ آپ ذرا زحمت کر یں کوچ کے ملٹی بکس سے ایک عدد ہارٹ سیل نکال لائیں۔“

”ارے بھائی ملٹی بکس کو چھوڑو، میرے ہینڈ بیگ میں تین چار فالتو ہارٹ سیل موجود ہیں۔ تم ذرا اپنی اسکن زپ کھولومیں ابھی اس میں سیل لگا دیتا ہوں۔“

 زپ کے کھلنے کی آواز ۔ ساتھ ہی کوچ کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی اکلوتی ہوسٹس کی صدا۔ چاند پر اترنے والی سواریاں گیٹ میں آ جائیں۔"

 گاڑی کے ایک جگہ پر رکنے اور پھر سواریوں کے اترنے کی ہلچل ۔۔۔۔۔ ساتھ ہی ڈرائیور کی کرخت قسم کی آواز۔

''جس سواری نے بھی اترنا ہے۔ یہیں اتر جاۓ۔ ہمارا اگلا سٹاپ مریخ پر ہی ہوگا۔''

 

ایس دوران ہوسٹس کے چند نوجوانوں کو مطمئن کرنے کی دھیمی    دھیمی تکرار .... جو لگتا تھا  کسی تفریحی دورے کے سلسلے میں پلوٹو" پر اترنا چاہتے تھے۔ ۔۔۔۔ ساتھ ہی اڈے والوں کے بیچ بچاؤ کرانے کی صدائیں اس بحث پر غالب آ جاتی ہیں --- گاڑی کا دروازہ بند ہو جاتا ہے ۔۔۔ اور اڈے کا ہاکر گاڑی کی سائیڈ پر زور کا ہاتھ مار کے بلند آواز میں پکار اٹھتا ہے ۔۔۔۔ ڈبل ڈبل''

مشمولہ : ذاتیات 

انتخاب :صبا قیصر 

 !!!''


ٍڈاکٹر اشفاق احمد ورک اردو ادب کا معتبر حوالہ ہیں ۔خاکہ نگاری ان کی پہچان ہے۔۔۔۔پروفیسر، محقق۔۔۔ایف سی کالج لاہور سے وابستہ ہیں 



آپ مزید پڑھ سکتے  ہیں 

[پسندیدہ کیٹیگری پر کلک کریں]







Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

حسن تعلیل||صنعت حسن تعلیل کی مثالیں||اردو کی اہم صنعتیں||urdu ki mashhoor sanatain

  حسن تعلیل اردو لیکچرر کے لیے معاون مواد پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں تعلیل عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے علت یا  وجہ بیان کرنا یا توجیح پیش کرنا ‘’حسن تعلیل شعری صنعت ہے جس میں شاعر کسی واقعے کی اصل منطقی ،جغرافیائی یا سائنسی  وجہ کو نظر انداز کر کے  تخیلاتی جذباتی اور عین شاعرانہ وجہ بیان کرتا ہے ‘’     مثال بے سبب زلزلہ عالم میں نہیں آتا ہے کوئی   بے تاب تہ خاک   تڑپتا      ہو    گا زلزلے کی سائنسی وجہ تو زیر زمیں پلیٹس کے اندر تبدیلی یا ٹکراو کو سمجھا جاتا ہے لیکن  شاعر نے تخیلاتی سطح پہ اس کی شاعرانہ وجہ کسی عاشق کا زیر زمیں تڑپنا بتائی ہے   سب کہاں ؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں غالب نے اس شعر  گل و لالہ کا نمایاں ہونے کی وجہ زیر زمیں پنہاں ہونے والے خوبصورت چہروں کو بیان کیا ہے  امید ہے آپ حسن تعلیل سے آگاہ ہو چکے ہیں مزید مثالوں اور مشق کے لیے یہاں دبائیں

کہانی از ڈاکٹر سعادت سعید

 کہانی پر کیف رات اپنے تبسم میں غم لیے  پسماندگان زیست پر نوحہ کناں رہی  میں حزن بے کراں تھا یا سیل غم حیات  ہر پل مری نگاہ میں اک روشنی رہی!  وہ روشنی کہ جس سے مرااسم زندہ تھا  وہ روشنی بسر کے کسی سے مری رہی! عہد وفا سے ناتہ مراٹوٹ بھی چکا لیکن وہ رفتگی ہے کہ یوں سوچتا ہوں میں  میری کہانی اس کو اگر یاد بھی نہ ہو میری پرستشوں کی نہیں انتہا کوئی  اس کے سلگتے سانس مری دھڑکنوں میں ہیں ! جب رات بھیگنے لگی میں سوگوار تھا!   تب چاندنی نے جھوم کے مجھ سے کہا چلو!  ان بستیوں میں چلتی ہواؤں کے درمیان  جن کا ہر ایک کو چہ لب بام حشر ہے  جن کے ہر ایک خیمے یہ لکھا ہے میرا نام !  نا آشنا ہوائیں ہیں برق نگاہ حسن  ان کی عنائتوں سے ہرے پیڑ جل گئے  ندی کا بہتا پانی بھی  شعلہ نفس ہوا! جی جگمگا اٹھا تھا، جگر جھلملا اٹھا  میرے گماں میں کوند گئی برق شبنمی اس کا جمال اپنی بقا کا بھرم لیے ہر پل مرے خیال سے بچتا رہا کہ میں ارض بہار عشق کا مالک تھا، پراسے محکوم ہو کے مجھ سے محبت نہ ہوسکی ! میرے لہو سے کرب کی چنگاریاں اٹھیں ...

لطائف اقبال/اردو لطیفے||اردو طنزو مزاح||Allama Muhammad Iqabal

لطائف اقبال علامہ اقبال۔۔۔۔۔ساقی نامہ   مغرب کے اہل سیاست اقبال کی نظر میں کیمرج کے زمانہ میں چند ہم عصروں سے مذہب پر بحث چھڑ گئی۔ایک صاحب پوچھنے لگے مسٹر اقبال یہ کیا بات ہے کہ جتنے پیغمبر اور بانیان مذہب دنیا میں آئے وہ بلا استثنا ایشیا میں مبعوث ہوئے۔یورپ میں ایک بھی نبی مبعوث نہیں ہوا؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا۔بھئی شروع شروع میں اللہ میاں اور شیطان نے اپنا اپنا پیترا جما لیا۔اللہ میاں نے ایشیا کو پسند کیا اور شیطان نے یورپ کو۔۔۔اس لیے پیغمبر جو اللہ میاں کی طرف سے آئے ہیں ایشیا میں مبعوث ہوئے ۔وہ صاحب بول اٹھے تو پھر شیطان کے پیغمبر کیا ہوئے ۔انھوں نے جواب دیا:''یہ تمھارے میکائیولی اور مشہور اہل سیاست اس کے رسول ہیں ۔'' [اس پر خوب قہقہہ پڑا ] دنیا میں جنت دوسری گول میز کانفرنس کے زمانے میں انگلینڈ کی مشہور سیاح خاتون مس روزیتا فوریس نے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات  کا شوق ظاہر کیا۔چناں چہ مس صاحبہ نے انھیں اپنے ہاں مدعو کیا۔یہ خاتون شمالی افریقہ اور  اسلامی ممالک میں بہت زیادہ پھری تھیں اور ان پراس سیاحت کا بہت اچھا اثر پڑا تھا۔ڈاکٹر صاحب کے خیال میں ان کا محل جو لندن م...