پردۂ خاک
پر دہ خاک کے اس پارتری محفل میں
کون خوباں ہیں کہ جن کی آنکھیں
تیری باتوں کی مہک میں نم ہیں
پر دہ خاک کے اس پارا کیلے ہم ہیں
خیل درخیل ترے ہجر کے غم ہی غم ہیں
دل یہ کہتا ہے کہ یہ بھی کم ہیں
اجنبی دیس میں کس شہر میں تو رہتا ہے
کیا وہاں بھی یہی دکھ سہتا ہے
کیا وہاں بھی تجھے مجرم ہی کہا کرتے ہیں
وہ رویہ ہی رکھا کرتے ہیں
کون احباب ترے ساتھ رہا کرتے ہیں
تیرےاشعارسناکرتے ہیں
کون سرمایہ انجمن آرائی ہے
کون سامان شکیبائی ہے
کون مہمان سرخوان کرم رہتا ہے
کون مفلس کی زبوں حالی پر
تیرا دل وقف الم رہتا ہے
وہ جو خدمت میں کمر بستہ تھے
تیری الفت میں جگرخستہ تھے
ان کی یادیں تجھے آتی ہیں کبھی
دل کے دروازے کی زنجیر ہلاتی ہیں کبھی
عشق، اس درد کا درماں ہوگا
حسن، ایواں کا درباں ہوگا
رحمتیں نازاٹھاتی ہوں گی
اپنے آغوش محبت میں سلاتی ہوں گی
پر دہ خاک کے اُس پارتری محفل ہے
پردہ خاک کے اس پارا کیلا دل ہے
خواجہ معین نظامی(تجسیم)
Khob ast
ReplyDelete