Skip to main content

عمر اپیلیں کرتے گزری از سعادت سعید

 عمر اپیلیں کرتے گزری

 

ہم تو کہنے سے قاصر ہوئے

 

اور کچھ گر کہیں بھی تو کیا؟

 

رک بھی جا ؤ زمینوں کو ویران کرتی

 

سیہ حاشیه ساعتو!!

 

قافلہ سوے صحرا میں کوئی نہیں

 

را کھ ہی راکھ ہے اور خیموں میں کوئی نہیں

 

گدھ  ہی گدھ ہیں

 

گھورتے بوم ہیں اور چمگادڑ یں گھومتی ہیں

 

مشینی قدم دائروں میں رواں

 

چمنیاں خوف اگلیں

 

ہلاکت گجر دم، خموشی  سے ماتم

 

مصائب زدہ داستانیں ہیں پیہم خزینے تمہارے

ہماری وراثت!

کہیں تو یہی دست بستہ ، کہیں ہم

 

پریشان گلیوں تہی  رہ گذاروں ،اجڑتے مکانوں

 

تحفظ سے آزاد شہروں

 

لرز تے  دلوں ہی کے آثار دیکھو

 

دمے پھانکتے ، محنتوں کا ثمر سونگھتے جان در

 

اپنے اعضا سے اپنے شکم بھر رہے ہیں

 

ہراک سمت ٹک ٹک

 

زبوں گوش ہاے تصور

 

دمادم سزاؤں جزاؤں سے پر

 

ریڈیا ئی بیانات سننے پہ مجبور

 

ماتھوں پہ لا سمت تاریخ روشن

شکن در شکن آرزوئیں

 

کفن در کفن آبروئیں

 

فراست زدہ ہڈیاں ریزہ ریزہ

 

تہہ وبالا ہونے لگی ہیں

 

تگ و تاز کے مرحلے بھی پلٹتے  نہیں

 

دم کی مہلت تو ہو

 

رک سکو تو ر کو بے اماں ساعتو !!

 

کون جانے زمانہ ہے کیا؟

 

کس سے اس کا تعارف ہوا؟

 

گرسنہ بھیڑیا !اپنے جبڑوں میں سب کو سمیٹے ہوئے

 ایسی غراہٹیں  حلق سوکھے ہوئے

 

 

لمحہ لمحہ رگوں پہ لہور نگ پنجے

 

تڑپتی ہوئی آہٹیں

 

ایک لا منتہی انتہا!

 

ولولے سرد ،تخلیق معدوم ہے

کائناتوں میں امکان مسموم ہے

 

سرخ روگھنٹیاں اپنے قاصد سے محروم

 

اوراک محکوم ہے

 

ایک رکنے کا یارا نہیں

 

مت رکو دھیرے دھیرے بہو

 

کچھ سنو ،اے قیامت نما ساعتو!!

 

دست براں سے کٹتی ہماری زمیں

 

جس میں بچھتی سرنگیں دھماکے کر یں

شیشه شیشه تماشاگہ آتشیں اور بچے چھنا کے کریں

 

ہم کہ عاجز بھی ہیں اور قانع بھی میں

 

کار اضداد ہے اور کچھ بھی نہیں

 

رک بھی جاؤ ذرا با عمل ساعتو !!

بے عمل اپنے قضیے چکا ئیں گے کیا؟

 

عمر اپیلیں کرتے گزری از سعادت سعید


Comments

Popular posts from this blog

حسن تعلیل||صنعت حسن تعلیل کی مثالیں||اردو کی اہم صنعتیں||urdu ki mashhoor sanatain

  حسن تعلیل اردو لیکچرر کے لیے معاون مواد پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں تعلیل عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے علت یا  وجہ بیان کرنا یا توجیح پیش کرنا ‘’حسن تعلیل شعری صنعت ہے جس میں شاعر کسی واقعے کی اصل منطقی ،جغرافیائی یا سائنسی  وجہ کو نظر انداز کر کے  تخیلاتی جذباتی اور عین شاعرانہ وجہ بیان کرتا ہے ‘’     مثال بے سبب زلزلہ عالم میں نہیں آتا ہے کوئی   بے تاب تہ خاک   تڑپتا      ہو    گا زلزلے کی سائنسی وجہ تو زیر زمیں پلیٹس کے اندر تبدیلی یا ٹکراو کو سمجھا جاتا ہے لیکن  شاعر نے تخیلاتی سطح پہ اس کی شاعرانہ وجہ کسی عاشق کا زیر زمیں تڑپنا بتائی ہے   سب کہاں ؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں غالب نے اس شعر  گل و لالہ کا نمایاں ہونے کی وجہ زیر زمیں پنہاں ہونے والے خوبصورت چہروں کو بیان کیا ہے  امید ہے آپ حسن تعلیل سے آگاہ ہو چکے ہیں مزید مثالوں اور مشق کے لیے یہاں دبائیں

کہانی از ڈاکٹر سعادت سعید

 کہانی پر کیف رات اپنے تبسم میں غم لیے  پسماندگان زیست پر نوحہ کناں رہی  میں حزن بے کراں تھا یا سیل غم حیات  ہر پل مری نگاہ میں اک روشنی رہی!  وہ روشنی کہ جس سے مرااسم زندہ تھا  وہ روشنی بسر کے کسی سے مری رہی! عہد وفا سے ناتہ مراٹوٹ بھی چکا لیکن وہ رفتگی ہے کہ یوں سوچتا ہوں میں  میری کہانی اس کو اگر یاد بھی نہ ہو میری پرستشوں کی نہیں انتہا کوئی  اس کے سلگتے سانس مری دھڑکنوں میں ہیں ! جب رات بھیگنے لگی میں سوگوار تھا!   تب چاندنی نے جھوم کے مجھ سے کہا چلو!  ان بستیوں میں چلتی ہواؤں کے درمیان  جن کا ہر ایک کو چہ لب بام حشر ہے  جن کے ہر ایک خیمے یہ لکھا ہے میرا نام !  نا آشنا ہوائیں ہیں برق نگاہ حسن  ان کی عنائتوں سے ہرے پیڑ جل گئے  ندی کا بہتا پانی بھی  شعلہ نفس ہوا! جی جگمگا اٹھا تھا، جگر جھلملا اٹھا  میرے گماں میں کوند گئی برق شبنمی اس کا جمال اپنی بقا کا بھرم لیے ہر پل مرے خیال سے بچتا رہا کہ میں ارض بہار عشق کا مالک تھا، پراسے محکوم ہو کے مجھ سے محبت نہ ہوسکی ! میرے لہو سے کرب کی چنگاریاں اٹھیں ...

لطائف اقبال/اردو لطیفے||اردو طنزو مزاح||Allama Muhammad Iqabal

لطائف اقبال علامہ اقبال۔۔۔۔۔ساقی نامہ   مغرب کے اہل سیاست اقبال کی نظر میں کیمرج کے زمانہ میں چند ہم عصروں سے مذہب پر بحث چھڑ گئی۔ایک صاحب پوچھنے لگے مسٹر اقبال یہ کیا بات ہے کہ جتنے پیغمبر اور بانیان مذہب دنیا میں آئے وہ بلا استثنا ایشیا میں مبعوث ہوئے۔یورپ میں ایک بھی نبی مبعوث نہیں ہوا؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا۔بھئی شروع شروع میں اللہ میاں اور شیطان نے اپنا اپنا پیترا جما لیا۔اللہ میاں نے ایشیا کو پسند کیا اور شیطان نے یورپ کو۔۔۔اس لیے پیغمبر جو اللہ میاں کی طرف سے آئے ہیں ایشیا میں مبعوث ہوئے ۔وہ صاحب بول اٹھے تو پھر شیطان کے پیغمبر کیا ہوئے ۔انھوں نے جواب دیا:''یہ تمھارے میکائیولی اور مشہور اہل سیاست اس کے رسول ہیں ۔'' [اس پر خوب قہقہہ پڑا ] دنیا میں جنت دوسری گول میز کانفرنس کے زمانے میں انگلینڈ کی مشہور سیاح خاتون مس روزیتا فوریس نے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات  کا شوق ظاہر کیا۔چناں چہ مس صاحبہ نے انھیں اپنے ہاں مدعو کیا۔یہ خاتون شمالی افریقہ اور  اسلامی ممالک میں بہت زیادہ پھری تھیں اور ان پراس سیاحت کا بہت اچھا اثر پڑا تھا۔ڈاکٹر صاحب کے خیال میں ان کا محل جو لندن م...