عمر اپیلیں کرتے گزری
ہم تو کہنے سے قاصر ہوئے
اور کچھ گر کہیں بھی تو کیا؟
رک بھی جا ؤ زمینوں کو ویران کرتی
سیہ حاشیه ساعتو!!
قافلہ سوے صحرا میں کوئی نہیں
را کھ ہی راکھ ہے اور خیموں میں کوئی نہیں
گدھ ہی گدھ ہیں
گھورتے بوم ہیں اور چمگادڑ یں گھومتی ہیں
مشینی قدم دائروں میں رواں
چمنیاں خوف اگلیں
ہلاکت گجر دم، خموشی سے ماتم
مصائب زدہ داستانیں ہیں پیہم خزینے تمہارے
ہماری وراثت!
کہیں تو یہی دست بستہ ، کہیں ہم
پریشان گلیوں تہی رہ گذاروں ،اجڑتے مکانوں
تحفظ سے آزاد شہروں
لرز تے دلوں ہی
کے آثار دیکھو
دمے پھانکتے ، محنتوں کا ثمر سونگھتے جان در
اپنے اعضا سے اپنے شکم بھر رہے ہیں
ہراک سمت ٹک ٹک
زبوں گوش ہاے تصور
دمادم سزاؤں جزاؤں سے پر
ریڈیا ئی بیانات سننے پہ مجبور
ماتھوں پہ لا سمت تاریخ روشن
شکن در شکن آرزوئیں
کفن در کفن آبروئیں
فراست زدہ ہڈیاں ریزہ ریزہ
تہہ وبالا ہونے لگی ہیں
تگ و تاز کے مرحلے بھی پلٹتے نہیں
دم کی مہلت تو ہو
رک سکو تو ر کو بے اماں ساعتو !!
کون جانے زمانہ ہے کیا؟
کس سے اس کا تعارف ہوا؟
گرسنہ بھیڑیا !اپنے جبڑوں میں سب کو سمیٹے ہوئے
ایسی غراہٹیں حلق سوکھے ہوئے
لمحہ لمحہ رگوں پہ لہور نگ پنجے
تڑپتی ہوئی آہٹیں
ایک لا منتہی انتہا!
ولولے سرد ،تخلیق معدوم ہے
کائناتوں میں امکان مسموم ہے
سرخ روگھنٹیاں اپنے قاصد سے محروم
اوراک محکوم ہے
ایک رکنے کا یارا نہیں
مت رکو دھیرے دھیرے بہو
کچھ سنو ،اے قیامت نما ساعتو!!
دست براں سے کٹتی ہماری زمیں
جس میں بچھتی سرنگیں دھماکے کر یں
شیشه شیشه تماشاگہ آتشیں اور بچے چھنا کے کریں
ہم کہ عاجز بھی ہیں اور قانع بھی میں
کار اضداد ہے اور کچھ بھی نہیں
رک بھی جاؤ ذرا با عمل ساعتو !!
بے عمل اپنے قضیے چکا ئیں گے کیا؟
Comments
Post a Comment