Skip to main content

انتخاب غزل طارق حبیب /ابتدا عشق تھا،انتہا معذرت/ شعروشاعری / Tariq Habib poetry

  

بشارت [انتخاب غزلیات]

از

                                                               طارق حبیب                    

ابتدا عشق تھا انتہامعذرت!

 

ابتدا عشق تھا انتہامعذرت!

کچھ نہ باقی بچا ماسوا معذرت!

 

جھوٹ ہے، جھوٹ ہے، جھوٹ ہے ساقیا

کوئی نشہ نہیں چڑھ سکا ، معذرت!

 

ظلم کے ساتھ میرا گزارا نہیں

میں نہیں مصلحت آشنا ، معذرت!

 

پاؤں میں ساری دنیا بچھا دی گئی

دل نے دیکھا ، ہنسا اور کہا معذرت!

 

پرسش حال کی آپ نے ، شکریہ!

 میرا رنج و الم بڑھ گیا ، معذرت!

 

دل تو پہلے ہی برباد بے حال تھا

تو نے وقت اپنا ضایع کیا ، معذرت!

 

داد بے داد گر! اور دیتا تجھے

میں زیادہ نہیں جی سکا ، معذرت!

 

 عمر بھر کے گلے ساتھ جاتے رہے

 اس نے جاتے ہوے جب کہا ،معذرت!


غزل ۲ 

ہنسنے اور ہنسانے والے مر گئے آخر

ہنسنے اور ہنسانے والے مر گئے آخر

 اپنا درد چھپانے والے مر گئے آخر

 

تو نے ایسی فن کاری سے دل توڑا ہے

تارے توڑ کے لانے والے مر گئے آخر

 

دروازے پر تالا دیکھ کے رونے والے

تیرے ناز اٹھانے والے مر گئے آخر

 

سونا پیڑاور سناٹا اور سہما آنگن

شام ڈھلے آ جانے والے مر گئے آخر

 

سب کا بوجھ اٹھانا طارق ناممکن تھا

سب کا بوجھ اٹھانے والے مر گئے آخر

غزل۳ 

منظر عام پر نہیں آنا

منظر عام پر نہیں آنا

اب ہمیں بام پر نہیں آنا

 

عشق نے مختصر یہ فرمایا

کل سے اب کام پر نہیں آنا


جاہلا! ہم سلام کر کے چلے

تو نے اسلام پر نہیں آنا


 

گالیاں دو برا کہو ہم نے

طرز دشنام پر نہیں آنا

 

اب کسی اور شرط پر بلوا

رنج و آلام پر نہیں آنا

 

پہلے دل میں یقین پیدا کر

 ورنہ ابہام پر نہیں آنا

 

ناقۂ اعتبار بخش ہمیں

گرد اوہام پر نہیں آنا

غزل ۴

 ساتھ نبھاؤں تو مرتا ہوں

ساتھ نبھاؤں تو مرتا ہوں

ہاتھ چھڑاؤں تومرتا ہوں

 

اگلے موڑ پہ موت کھڑی ہے

گر مڑجاؤں تو مرتا ہوں

 

چپ رہنے سے مر جاؤں

حال سناؤں تومرتا ہوں

 

دیکھتے رہنا مرنے جیسا

ہاتھ لگاؤں تو مرتا ہوں

 

غزل ۵ 

ہنسی میں بھی ہمارے دیدہ تر ہیں

ہنسی میں بھی ہمارے دیدہ تر ہیں

محبت ہم ترے زیر اثر ہیں

 

اگر دیکھو بہت پھیلے ہوے ہیں

 اگر سوچو تو کتنے مختصر ہیں

 

انھیں بھی کون آخر پوچھتا ہے

یہاں دو چار جو اہل ہنر ہیں

 

سبھی کچھ تیرے دم سے مل رہا ہے

وگرنہ ہم کہاں کے اہل زر ہیں

 

ہمی مہر سلیمانی کے وارث

ہمی گرودمہار معتبر ہیں


میسر ہے ہمیں نور معظم

کہ ہم وابستہ شمس و قمر ہیں


طلب جن کی فقط ترک طلب ہے

وہی تو بندگان شیرنر ہیں


ہمیں ایسے نہ ڈانٹا کر محبت

ہمارا کون ہے ، دیوار و در ہیں


ہمارا وقت تھوڑا رہ گیا ہیں

ہمارے دن ہوا کے دوش پر ہیں

انتخاب :قیصر شہزاد ساقی 

Tariq Habib
 طارق حبیب جامعہ سرگودھا کےشعبہ اردو  کےساتھ وابستہ ہیں ۔وہ ایک قابل استاد کے ساتھ ساتھ
اچھے شاعر اور نقاد بھی ہیں ۔مشتاق احمد یوسفی پہ ان کی کتاب"یوسفیات'' ایک معتبر حوالہ ہے ۔شاعری
ان کے خمیر میں گندھی ہے  ''ملامت''[نظموں کا مجموعہ] سے شروع ہونے والا کرب ایک ''بشارت'' 
تک پہنچ گیا ہے ۔۔۔۔۔
شاعر سے کتاب رخ پہ ملیےclick Here
 

Comments

Popular posts from this blog

حسن تعلیل||صنعت حسن تعلیل کی مثالیں||اردو کی اہم صنعتیں||urdu ki mashhoor sanatain

  حسن تعلیل اردو لیکچرر کے لیے معاون مواد پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں تعلیل عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے علت یا  وجہ بیان کرنا یا توجیح پیش کرنا ‘’حسن تعلیل شعری صنعت ہے جس میں شاعر کسی واقعے کی اصل منطقی ،جغرافیائی یا سائنسی  وجہ کو نظر انداز کر کے  تخیلاتی جذباتی اور عین شاعرانہ وجہ بیان کرتا ہے ‘’     مثال بے سبب زلزلہ عالم میں نہیں آتا ہے کوئی   بے تاب تہ خاک   تڑپتا      ہو    گا زلزلے کی سائنسی وجہ تو زیر زمیں پلیٹس کے اندر تبدیلی یا ٹکراو کو سمجھا جاتا ہے لیکن  شاعر نے تخیلاتی سطح پہ اس کی شاعرانہ وجہ کسی عاشق کا زیر زمیں تڑپنا بتائی ہے   سب کہاں ؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں غالب نے اس شعر  گل و لالہ کا نمایاں ہونے کی وجہ زیر زمیں پنہاں ہونے والے خوبصورت چہروں کو بیان کیا ہے  امید ہے آپ حسن تعلیل سے آگاہ ہو چکے ہیں مزید مثالوں اور مشق کے لیے یہاں دبائیں

کہانی از ڈاکٹر سعادت سعید

 کہانی پر کیف رات اپنے تبسم میں غم لیے  پسماندگان زیست پر نوحہ کناں رہی  میں حزن بے کراں تھا یا سیل غم حیات  ہر پل مری نگاہ میں اک روشنی رہی!  وہ روشنی کہ جس سے مرااسم زندہ تھا  وہ روشنی بسر کے کسی سے مری رہی! عہد وفا سے ناتہ مراٹوٹ بھی چکا لیکن وہ رفتگی ہے کہ یوں سوچتا ہوں میں  میری کہانی اس کو اگر یاد بھی نہ ہو میری پرستشوں کی نہیں انتہا کوئی  اس کے سلگتے سانس مری دھڑکنوں میں ہیں ! جب رات بھیگنے لگی میں سوگوار تھا!   تب چاندنی نے جھوم کے مجھ سے کہا چلو!  ان بستیوں میں چلتی ہواؤں کے درمیان  جن کا ہر ایک کو چہ لب بام حشر ہے  جن کے ہر ایک خیمے یہ لکھا ہے میرا نام !  نا آشنا ہوائیں ہیں برق نگاہ حسن  ان کی عنائتوں سے ہرے پیڑ جل گئے  ندی کا بہتا پانی بھی  شعلہ نفس ہوا! جی جگمگا اٹھا تھا، جگر جھلملا اٹھا  میرے گماں میں کوند گئی برق شبنمی اس کا جمال اپنی بقا کا بھرم لیے ہر پل مرے خیال سے بچتا رہا کہ میں ارض بہار عشق کا مالک تھا، پراسے محکوم ہو کے مجھ سے محبت نہ ہوسکی ! میرے لہو سے کرب کی چنگاریاں اٹھیں ...

لطائف اقبال/اردو لطیفے||اردو طنزو مزاح||Allama Muhammad Iqabal

لطائف اقبال علامہ اقبال۔۔۔۔۔ساقی نامہ   مغرب کے اہل سیاست اقبال کی نظر میں کیمرج کے زمانہ میں چند ہم عصروں سے مذہب پر بحث چھڑ گئی۔ایک صاحب پوچھنے لگے مسٹر اقبال یہ کیا بات ہے کہ جتنے پیغمبر اور بانیان مذہب دنیا میں آئے وہ بلا استثنا ایشیا میں مبعوث ہوئے۔یورپ میں ایک بھی نبی مبعوث نہیں ہوا؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا۔بھئی شروع شروع میں اللہ میاں اور شیطان نے اپنا اپنا پیترا جما لیا۔اللہ میاں نے ایشیا کو پسند کیا اور شیطان نے یورپ کو۔۔۔اس لیے پیغمبر جو اللہ میاں کی طرف سے آئے ہیں ایشیا میں مبعوث ہوئے ۔وہ صاحب بول اٹھے تو پھر شیطان کے پیغمبر کیا ہوئے ۔انھوں نے جواب دیا:''یہ تمھارے میکائیولی اور مشہور اہل سیاست اس کے رسول ہیں ۔'' [اس پر خوب قہقہہ پڑا ] دنیا میں جنت دوسری گول میز کانفرنس کے زمانے میں انگلینڈ کی مشہور سیاح خاتون مس روزیتا فوریس نے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات  کا شوق ظاہر کیا۔چناں چہ مس صاحبہ نے انھیں اپنے ہاں مدعو کیا۔یہ خاتون شمالی افریقہ اور  اسلامی ممالک میں بہت زیادہ پھری تھیں اور ان پراس سیاحت کا بہت اچھا اثر پڑا تھا۔ڈاکٹر صاحب کے خیال میں ان کا محل جو لندن م...