Skip to main content

میری سرکار از جاوید راز/Javed Raz Punjabi poetry

 پنجابی   کی مقامی شاعری کو  پاکستان کے ادبی منظر نامے میں  اس کے شایان شان توجہ حاصل نہیں ۔۔۔یہ شاعر اور شاعری  بغیر کسی تنظیم یا ادارے کی سرپرستی کے صرف مشاعرے کی حد تک جانے جاتے ہیں لیکن اس شاعری کی اساس ایک مضبوط اقداری  نظام ا ور معاشرتی و  رتارے پر قائم ہے اس کا اپنا ایک تلمیحاتی اور استعاراتی نظام ہے جو کہ عام طبقے کے خوابوں ،احساس سے بھر پور رشتوں اور عشق کی تیز آنچ سے مملوہے  ۔ پنجابی رہتل ،دستار ،دوستی اور عہد کی پاسداری  اس شاعری کاخاصا ہیں۔۔۔۔

جاوید راز کی ایک خوبصورت نظم

میری سرکار میرے  توں رخصت ہوؤ اے

مینوں منتاں تے ترلیاں دے ڈھب پیدا کر

میں عاجز تے توں مسب السبب خدا

اونوں روکن دا مولا سبب پیدا کر

 

 

مینوں چھوڑن تے اس دا نہ دل بن سگے

اپنڑے سگھ تائیں ادی اپنڑی روح آ ونجے

پووے پیراں اچ زنجیر تمنا میری

بنڑ رکاوٹ میری آرزو آونجے

کائی موسم دے وچ ایسی ہلچل مچے

باہر نکلے تاں طوفان نوح آ ونجے

 

اسی جھٹ دے وچ او میری طرف ول آوے

کائی منظر دے وچ او غضب پیدا کر

اونوں روکن دا مولا سبب پیدا کر

 

اللہ حافظ اودے منہ وچ رہ  ونجے

اودی بولن  دی سکت ختم ہو ونجے

مینوں بھلن لگے خود نوں خود بھل ونجے

ہک لحظے دے اندر شدم ہو ونجے

میرے چہرے توں نظراں ہٹاون لگے

نور اکھاں دا بالکل مدھم ہو ونجے

ویہڑا گھر دا میرا پل صراط ہو ونجے

قدم چاوے تاں من من قدم ہو ونجے

نظر انداز کر کے کوتاہیاں میری

توں رحمت دا ذریعہ کوئی جھب پیدا کر

اونہوں روکن دا مولا سبب پیدا کر

 

 

صدقہ تینوں تیری اپنی معراج دا

تیرے محبوب دا در سلامت رہوے

او ونجن دی تکرار نوں بھل ونجے

اونہوں اس فیصلے تے ندامت ہووے

ایہا ہک رات ہووے اٹھارہ ورے

اج پیدا کوئی ایہو جئی کرامت ہووے

 

یا مڑ رازؔ  دی زندگی مختصر کر

جے رخصت تو پہلے قیامت ہووے

 

وقت گزرے وی سہی نالے تھم وی ونجے

کائی ایہو جئی صورت عجب پیدا کر

اونہوں روکن دا مولا سبب پیدا کر

 

javed raz


Comments

Popular posts from this blog

حسن تعلیل||صنعت حسن تعلیل کی مثالیں||اردو کی اہم صنعتیں||urdu ki mashhoor sanatain

  حسن تعلیل اردو لیکچرر کے لیے معاون مواد پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں تعلیل عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے علت یا  وجہ بیان کرنا یا توجیح پیش کرنا ‘’حسن تعلیل شعری صنعت ہے جس میں شاعر کسی واقعے کی اصل منطقی ،جغرافیائی یا سائنسی  وجہ کو نظر انداز کر کے  تخیلاتی جذباتی اور عین شاعرانہ وجہ بیان کرتا ہے ‘’     مثال بے سبب زلزلہ عالم میں نہیں آتا ہے کوئی   بے تاب تہ خاک   تڑپتا      ہو    گا زلزلے کی سائنسی وجہ تو زیر زمیں پلیٹس کے اندر تبدیلی یا ٹکراو کو سمجھا جاتا ہے لیکن  شاعر نے تخیلاتی سطح پہ اس کی شاعرانہ وجہ کسی عاشق کا زیر زمیں تڑپنا بتائی ہے   سب کہاں ؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں غالب نے اس شعر  گل و لالہ کا نمایاں ہونے کی وجہ زیر زمیں پنہاں ہونے والے خوبصورت چہروں کو بیان کیا ہے  امید ہے آپ حسن تعلیل سے آگاہ ہو چکے ہیں مزید مثالوں اور مشق کے لیے یہاں دبائیں

کہانی از ڈاکٹر سعادت سعید

 کہانی پر کیف رات اپنے تبسم میں غم لیے  پسماندگان زیست پر نوحہ کناں رہی  میں حزن بے کراں تھا یا سیل غم حیات  ہر پل مری نگاہ میں اک روشنی رہی!  وہ روشنی کہ جس سے مرااسم زندہ تھا  وہ روشنی بسر کے کسی سے مری رہی! عہد وفا سے ناتہ مراٹوٹ بھی چکا لیکن وہ رفتگی ہے کہ یوں سوچتا ہوں میں  میری کہانی اس کو اگر یاد بھی نہ ہو میری پرستشوں کی نہیں انتہا کوئی  اس کے سلگتے سانس مری دھڑکنوں میں ہیں ! جب رات بھیگنے لگی میں سوگوار تھا!   تب چاندنی نے جھوم کے مجھ سے کہا چلو!  ان بستیوں میں چلتی ہواؤں کے درمیان  جن کا ہر ایک کو چہ لب بام حشر ہے  جن کے ہر ایک خیمے یہ لکھا ہے میرا نام !  نا آشنا ہوائیں ہیں برق نگاہ حسن  ان کی عنائتوں سے ہرے پیڑ جل گئے  ندی کا بہتا پانی بھی  شعلہ نفس ہوا! جی جگمگا اٹھا تھا، جگر جھلملا اٹھا  میرے گماں میں کوند گئی برق شبنمی اس کا جمال اپنی بقا کا بھرم لیے ہر پل مرے خیال سے بچتا رہا کہ میں ارض بہار عشق کا مالک تھا، پراسے محکوم ہو کے مجھ سے محبت نہ ہوسکی ! میرے لہو سے کرب کی چنگاریاں اٹھیں ...

لطائف اقبال/اردو لطیفے||اردو طنزو مزاح||Allama Muhammad Iqabal

لطائف اقبال علامہ اقبال۔۔۔۔۔ساقی نامہ   مغرب کے اہل سیاست اقبال کی نظر میں کیمرج کے زمانہ میں چند ہم عصروں سے مذہب پر بحث چھڑ گئی۔ایک صاحب پوچھنے لگے مسٹر اقبال یہ کیا بات ہے کہ جتنے پیغمبر اور بانیان مذہب دنیا میں آئے وہ بلا استثنا ایشیا میں مبعوث ہوئے۔یورپ میں ایک بھی نبی مبعوث نہیں ہوا؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا۔بھئی شروع شروع میں اللہ میاں اور شیطان نے اپنا اپنا پیترا جما لیا۔اللہ میاں نے ایشیا کو پسند کیا اور شیطان نے یورپ کو۔۔۔اس لیے پیغمبر جو اللہ میاں کی طرف سے آئے ہیں ایشیا میں مبعوث ہوئے ۔وہ صاحب بول اٹھے تو پھر شیطان کے پیغمبر کیا ہوئے ۔انھوں نے جواب دیا:''یہ تمھارے میکائیولی اور مشہور اہل سیاست اس کے رسول ہیں ۔'' [اس پر خوب قہقہہ پڑا ] دنیا میں جنت دوسری گول میز کانفرنس کے زمانے میں انگلینڈ کی مشہور سیاح خاتون مس روزیتا فوریس نے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات  کا شوق ظاہر کیا۔چناں چہ مس صاحبہ نے انھیں اپنے ہاں مدعو کیا۔یہ خاتون شمالی افریقہ اور  اسلامی ممالک میں بہت زیادہ پھری تھیں اور ان پراس سیاحت کا بہت اچھا اثر پڑا تھا۔ڈاکٹر صاحب کے خیال میں ان کا محل جو لندن م...