ایک شہید بچے کا پیغام
ماما! کبھی نہ رونا، بابا کبھی نہ رونا
جنت میں آ بسا میں، غمگین تم نہ ہونا
اپنی جبیں پہ میں نے ہر وار سہ لیا تھا
خنجر کو بھی گلے سے بے دھار کر دیا تھا
بابا کا ہوں میں بیٹا، نادم کبھی نہ ہونا
صبح سویرے میرا تم ناشتا بنانا
میری ہی عمر کے اک بچے کو پھر کھلانا
اور اس کے پاس رکھنا میرا کوئی کھلونا
جب دوپہر کو میرے آنے کا وقت ہو گا
بابا کے واسطے وہ لمحہ تو سخت ہو گا
لیکن نہ آنسوؤں کی مالا کبھی پرونا
گو دور جا چکا ہوں، آتا رہوں گا اکثر
آتا ہے یاد مجھ کو بابا کے پاس بستر
ماما! بچھا کے رکھناہر شب مرا بچھونا
پروفیسر ڈاکٹر خالد ندیم(صدر شعبہ اردو جامعہ سرگودھا)
Comments
Post a Comment