اقبال کا فلسفہ سخت کوشی
| Prof.Idrees Azad |
جناب پروفیسر ادریس آزاد صاحب نے اقبال کے فلسفہ سخت کوشی پر سیر حاصل گفتگو کی یہ "فکر اقبال
کورس" کا سولہواں لیکچر تھا جو اپنے مندرجات اور تحقیقی استدلال میں گزشتہ تمام
لیکچرز پہ بھاری تھا۔جناب پروفیسر جدید سائنس اور قدیم فلسفہ سے بخوبی واقف ہیں
یہی وجہ ہے کہ اقبال کی فلسفیانہ فکر کے تمام سوتوں تک مکمل رسائی رکھتے ہیں۔۔۔۔
پروفیسر ادریس آزاد کے مطابق اقبال کا فلسفہ سخت کوشی اصل
میں اقبال کا فلسفہ عمل ہے ۔یہ نظریا اقبال کے ہاں کس صورت میں سامنے آتا ہے اس
بات کو واضح کرنے کے لیے ڈاکٹر صاحب نے فلسفہ کی مدد لی ان کے مطابق اقبال نے اپنے
خطبات میں یونانی فلسفے کی روح کو اسلام اور قرآن کے منافی قرار دیا۔علم یا حق تک
پہنچنے کے دو راستے ہیں ایک اہل یونان نے اپنایا انھوں نے صرف عقل کو اپنا رہبر
بنایا اس کے علاوہ حواس خمسہ کو اس میں کوئی اہمیت حاصل نہیں تھی ۔افلاطون کے
مطابق حواس سے حاصل کردہ نتائج درست اور صحیح نہیں اس کے لیے ایک مثال ہے کہ اگر
ایک شخص ٹھنڈے پانی سے ہاتھ نکال کر نارمل پانی میں ہاتھ ڈالے گا تو اسے وہ پانی
گرم محسوس ہو گا جب کہ وہی شخص اگر گرم پانی سے ہاتھ نکال کر نارمل پانی میں ڈالے
گا تو وہ اسے ٹھنڈا محسوس ہو گا ایک ہی
بندہ ایک پانی میں ہاتھ ڈالنے پر دو مختلف نتائج دے رہا ہے جو کہ حقائق کی صحیح
تصویر واضح نہیں کرتا ۔۔۔۔۔دوسرا نظریا یا طریقہ علم تک رسائی کے لیے حواس خمسہ کا
ہے یعنی انسان اپنے محسوسات سے چیزوں کے بارے میں تجربے سے گزرتا ہے اور پھر نتائج
مرتب کرتا ہے قرآن کا یہی نظریا ہے قرآن
مجید میں بارہا کہا گیا کہ زمین کی سیر
کرو اور اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرو؛علم والے وہ ہیں جو پہاڑوں کے مختلف رنگوں پہ
غور کرتے ہیں،زمین کی پستیوںمیں اور آسمان
کی بلندیوں پر جا کر دیکھتے ہیں وغیرہ یعنی اپنے حواس خمسہ سے کائنات کا مشاہدہ
کرتے ہیں اور حقیقت تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب کے مطابق حواس خمسہ سے
علم حاصل کرنا اور لیبارٹری میں تجربہ کرنا ایک ہی جیسا عمل ہے دونوں عوامل میں جز
پہ تجربہ کیا جاتا ہے اور کل کے بارے میں نتائج اخذ کیے جاتے ہیں ۔اقبال کہتے ہیں
کہ سقراط اور افلاطون حسی علوم کے شدید خلاف تھے ۔
یونانیوں میں ہی ایک فلسفہ دان ڈیماکریٹس نے حواس سے علم
حاصل کرنے کو صحیح تصور کیا تو اسے یونانیوں کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا اوروہ اسے
بیٹا[ß] یعنی دوسرے درجے کا فلسفی ہے اور
اس کی کتابیں جلانے کو کہا یہ اسلامک فلسفہ اور یونانی فلسفہ میں مخالفت کا نہیں بلکہ نفی کے تعلق کو واضح کرتا ہے
۔۔۔اقبال کے مطابق اس بات کا پہلی دفعہ احساس امام غزالی کو ہوا اور انھوں نے کتاب
لکھی " تحافةالفلاسفہ " جس کے دیباچے میں امام غزالی نے لکھا کہ میں نے
اب تک کے تمام فلسفے کو پڑھ لیا ہے اور اس
دعوے کے بعد پہلی دفعہ انھوں نے اس بات کا ببانگ دہل اعتراف کیا کہ قران کی روح
یونانیت کے خلاف ہے ۔۔۔۔ان سے پہلے جتنے بھی مسلم فلاسفر تھے معتزلہ ہوں یا اخوان
الصفا ہوں یہاں تک کہ الفارابی بھی اس بات سے بے خبر تھے بلکہ وہ کوشش کرتے رہے کہ
عقلی بنیادوں پر قرآن سے ایسے حقائق نکالیں جو افلاطون کے فلسفہ پہ پورے اترتے ہوں
۔۔۔۔اس پر وہ مسلم فلاسفہ جو یونانی فلسفہ کے زیر سایہ تھے وہ امام غزالی کے خلاف
ہو گئے حالاں کہ ان کی بغاوت یونانی فلسفہ کے خلاف تھی آج بھی یونانی فلسفہ کے زیر
سایہ ہمارے دماغ امام غزالی کے خلاف ہیں۔۔۔ڈاکٹر موصوف نے اس تمہید کو صرف اپنے
جملے نظریا عمل کو واضح کرنے اور اقبال کے ہاں یہ کہاں سے آیا کی نشان دہی کی انھوں نے واضح کیا کہ امام غزالی کا استقرائی عمل [یعنی جز سے کل کی جانب سفر کرنا]
اصل میں قرآن کریم کا طریقہ ہے ۔
ان دو فکری نظاموں کے درمیان جو حد فاصل ہے وہ نبی پاک کی
ذات ہے پہلا عہد جب حواس کو استعمال کرنا ممنوع تھا تو چیزیں الہیاتی مقام پہ کھڑی
تھیں تو چیزیں دیوتا کی سطح پہ متمکن نظر آتی ہیں سورج دیوتا تو کبھی فتح کی دیوی
وغیرہ لیکن دوسرا عہد قرن نبی ہے جس میں
کہا گیا کہ اب تک تم جن چیزون کو پوجتے رہے ہو کیوں کہ تم نے انھیں چھویا نہیں
انھیں سمجھا نہیں انھیں تسخیر نہیں کیا اب تمھارے سامنے سجدہ ریز ہوں گے اب ایک قوی ہیکل اونٹ کی ناک میں نکیل ڈال کے
ایک بچہ گزر جاتا ہے ،پہاڑوں کو ٹھوکر مار کے سونے اگلنے پر مجبور کر دیتا ہے اور
دریاوں کا دست اطاعت دراز ہو جاتا ہے ۔جب انسان اشیاء و مظاہر کو اپنے تجربے میں
لایا تو ان کا عبودیت کا درجہ ختم ہو گیا
اور تسخیر کائنات کا سفر شروع ہوااور یہی قرآن کا حکم تھا کہ کائنات کو تسخیر کرو
،کائنات کی تسخیر اصل میں تقدیر کی تسخیر ہے :
تقدیر کے پابند نباتات و جمادات
مومن فقط احکام الہی کا ہے پابند
اقبال کے نزدیک فلسفہ عمل یہی ہے تقدیر کی تسخیر ۔۔۔۔لیکن
یہ رستہ آسان نہیں اقبال کہتے ہیں کہ ویدانت ،شنکر اچاریہ ،فلاطینوس اور بدھ مت کا
محبت کا درس کہ ہر چیز کے سامنے جھک جاو ہر مظہر ہر وجود اسی مطلق وجود کے تعینات ہیں
اور انھیں تسخیر کرنا دشمنی ہے ۔۔۔۔لیکن اقبال کا نظریا اس کے الٹ ہے وہ کہتے
ہیں کہ یہ کائنات تقدیر ہے اور تقدیر کو تسخیر کرو ۔اقبال اسے دشمن سمجھتے ہیں
لیکن وہ دشمن کے وجود کو ختم کرنے کی ترغیب نہیں دیتے بلکہ ایک مسلسل تصادم کی راہ دکھاتے ہیں جو
کہ ابدی دشمنی ہے اس میں دشمن کو صرف شکست دینی ہے ۔یعنی آپ نے کائنات میں رہتے
ہوئے تقدیر کی طرف سے آپ پر عائد پابندیوں کا مقابلہ کرنا ہے اور انھیں رام
کرنا ہے :
تو اپنی سرنوشت کو
اپنے قلم سے لکھ
خالی رکھی ہے خامہ حق نے تیری جبین
ڈاکٹر صاحب نے علامہ اقبال کے ایک مضمون''رسالت مآب کا ادبی
تبصرہ'' کا حوالہ دیا کہ اس میں لکھتےہیں کہ نبی پاک نے دو عرب شعرا کے بارے میں
کیا رائے دی پہلا شاعر ہے امراءالقیس نبی پاک نے اس کے بارے میں کہا کہ ''وہ
سیدالشعرا ہے لیکن ان کو جہنم میں بھی لے
جانے والا ہے "اقبال نے وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ اگر آپ اس کا دیوان پڑھتے
ہیں تو آپ کو عیش و نشاط کی محفلیں نظر آتی ہیں ،شباب و کباب نظر آتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی آپ کو سستی ،کاہلی اور بے عملی کااظہار نظر
آتا ہے ۔اس کے ہاں تقدیر کی پابندیاں اور
عرب صحراوں کی اداسیاں چھائی ہوئی نظر آتی ہیں ۔یہی وجہ تھی کہ رسول اللہ نے اس کے
بارے میں یہ کہا کیوں کہ اس کی شاعری بے عملی پر مبنی تھی۔
دوسرے شاعر قبیلہ بنو قیس کے عنترہ ہیں جب اس کا شعر جس کا
اردو ترجمہ ہے :
'' میں نے ساری زندگی
محنت و مشقت کی اس کا مجھے جو
انعام ملا وہ تھا رزق حلال''
جب نبی پاک کے سامنے پڑھا گیا تو ''آپ نے کہا اس شاعر کو ملنے اور دیکھنے کی تمنا میرے دل
میں پید اہو گئی ہے'' اقبال نے اس شعر کو پسند کرنے کی وجہ یہ لکھی کہ اس نے محنت
و مشقت کو خوش نما بنا کر پیش کیا ۔۔۔یہی اس لیکچر کا مغز ہے ۔۔سر پکڑ کر نہ
بیٹھیں بلکہ لڑیں اپنے حق کے لیے ۔۔
سخت کوشی اور عمل
کے اس نظریے پر فاضل مقرر نے اقبال کی
شعری مثالیں قارئین کے سامنے پیش کیں اور ان کی وضاحت بھی کی ۔۔۔۔
کانٹا وہ دے کہ جس کی کھٹک لازوال ہو
یا رب وہ درد کہ جس کی کسک لازوال ہو
مجھے سزا کے لیے بھی نہیں قبول وہ آگ
کہ جس کا شعلہ نہیں تندو سرکش و بے باک
وہ نغمہ سردی خون غزل سرا کی دلیل
کہ جس کو سن کے تیرا چہرہ تاب ناک نہیں
آخر میں جناب پروفیسر نے کہا کہ اقبال کے فلسفہ سخت کوشی کو
فلسفہ عمل پڑھا جائے گا اور اس میں کسی بھی سہل پسند طبقے یا کائنات سے امن کا
رشتہ اپنانے والے مکاتب فکر کی کوئی جگہ نہیں بلکہ یہ تسخیر کائنات کا رستہ ہے جس
کے رہنما نبی آخرالزماں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ : قیصر شہزاد ساقی
Comments
Post a Comment