ققنُس
(اک خیالی پرندہ جس کے
بارے میں مشہور ہے کہ ہر قسم کا راگ گاتا ہے۔ اس کی چونچ میں تین سو ساٹھ سوراخ
ہوتے ہیں۔ جب مرنے کے قریب ہوتا ہے تو سوکھی لکڑیاں جمع کرکے ان میں بیٹھ کر دیپک
راگ گاتا ہے۔ جس سے لکڑیوں میں آگ لگ جاتی ہے اور جل کر راکھ ہوجاتا ہے۔ جب راکھ پر
مینہ برستا ہے تو اس راکھ سے انڈا پیدا ہوتا ہے اور اس میں سے پھر ققنس پیدا ہوتا
ہے)
مِرے ققنسا !
مِرے ققنسا !
وہ جو لاوا تیرے دہَن میں
تھا
وہ جو پارہ تیرے بدن میں
تھا
وہ جو آگ تیرے پَروں میں
تھی
اُسے کون قافِلے لے گئے ؟
اُسے کون قافلے لے گئے ؟
تِرے حلق میں وہ صفیر ِ خواب ِ عظیم تھی
کہ خلاے فکر میں کھو کے
جو
تِری آبرُو کا کفن
بنی
پَس ِ نُور ِ شعلہ ء آگہی
وہ کرامتیں کہ قفس
قفس
وہی آگ تیری چِتا کی تھی
وہی شور تیری صدا کا تھا
وہی گُلخن ِ زر ِ درد تھا
وہی روزن ِ سَر ِ گَرد
تھا
وہ تمازت ایسی بَلا کی تھی
کہ تمام شاہوں کی
نَخوتیں
انہی گدڑیوں کے کرم میں
تھیں
جنہیں ہاتھیوں نے کُچل دیا
ذرا اپنے خول کو توڑ
کر
کہ گلے کے تاروں کو جوڑ
کر
سَر ِ کوہ ِ خوف طلُوع
ہو
کہ تمام شہروں میں دَر
بَہ در
یہ جو زَمہَریر سِتم کا
ہے
یہ جو راکھ طُور ِ الَم
کی ہے
یہ جو مرگ اہل قلم کی
ہے
یہ جو شکل راہ ِ عدم کی
ہے
یہ قصُور کس کا ہے ؟
ققنسا !
یہ قصُور کس کا ہے ؟
ققنسا !
تِری ہڈّیوں میں وہ برف
ہے جو لہُو کو سنگ بنا گئی
تِرے قلب میں وہ گلیشئیر
کہ جو سُورجوں کو بُجھا گیا
تِرے سرد خانوں کی قید سے
جو ہَوائیں چُھوٹ کے آئی تھیں
مِرے دل کی ساری
حرارتیں وہ جِلو میں باندھ کے لے گئیں
ذرا آنکھ کھول کے دیکھ
تو
کہ زمام ِ رَخش ِ حباب ِ
جاں
تِری مُٹّھیوں میں رہی
نہیں
مِری مُٹّھیوں میں رہی
نہیں
Alaa
ReplyDeleteکمال است
ReplyDeleteumar
ReplyDeleteArif
ReplyDelete
ReplyDeleteI '"m nilmini. Good work. Keep it Up up up up... nice
good work.
ReplyDeleteGood work
ReplyDelete