قلب ماہیت
(مشرقی پاکستان کے سانحے پر ایک خود ترحم
پاکستانی شاعر کا اعترافی ملال)
تمھارے سائے مری تمنا کے جنگلوں میں بھٹک گئے ہیں
ابھی ہواؤں کی آستینوں میں
خواہشوں کے کنول دھڑک کر
ہر ایک شے کو
غبار باراں کی ٹھنڈکوں کا لباس دیں گے
ابھی تمھارے نقوش نگراں میں
ریت ہوتے مسافروں کے حواس پھیلیں گے سایہ سایہ
سمندروں سے بھی گہری آنکھیں پلک پلک پر
اداس خوش بو کے آئینوں میں
سکوت آتش ابل پڑے گا
میں زیر لب خامشی میں کھوئے
حروف بیدار جانتا ہوں
جہان تیرہ میں
کرنیں چننے کی آرزو میں
لرزتی شاخوں کا ریزہ ریزہ
فنا کی موجوں میں بہ گیا ہے
یہ میں ہوں جس نے تمھارے ماتھے پہ ہونٹ رکھ کر
تمھارے پورے بدن کی سرخی ذخیرہ کر لی
یہ میں ہوں جس نے تمھارے لفظوں کی سرد جھیلیں
مہیب شعلوں کو سونپ دی ہیں
یہ میں ہوں جس کی رگوں نے پھیلے مہین شیشے
تمھاری سانسوں میں حل کیے ہیں
گلے میں بکھرے ستارے
رخسار چھلنی!!!
اچھا انتخاب
ReplyDelete