سادہ دل پروفیسر
[خاکہ مشمولہ ماہ نامہ ''نیرنگ خیال'' راولپنڈی ،شمارہ دسمبر ۲۰۲۱ء ص ۲۴ تا ۲۷]
غلام
عباس کے افسانوں کی طرح بالکل سادہ مگر باطن سے گہرے ہیں ۔ گورنمنٹ کالج سرگودھا
میں میں نے ان سے اردو لٹریچر (بی۔ اے ) پڑھا تو منٹو اور غلام عباس کے افسانوں کی
تفہیم کے دوران میں وہ پروفیسر غلام عباس گوندل مجھے غلام عباس افسانہ نگار ہی
معلوم ہوتے تھے۔ ہم بی اے میں اردو پڑھنے والے تین چار طالب علم تھے کبھی کبھار
گورنمنٹ کالج سرگودھا کی ایک چھوٹی سی ڈسپنسری میں بھی کلاس لے لیتے ۔ بیمارطلبا
کو دوا بھی دیتے ۔ ہم بھی ان سے دوائی اور پڑھائی دونوں طرح کی خدمات لیتے تھے۔
کینٹین کے پچھواڑے کالج کی ڈسپنسری کا فائد ہ سموسوں کی صورت ہماری ننھی سی کلاس
کو اکثر ہو جاتا کیوں کہ استاد محترم کنجوس نہیں تھے البتہ بولنے اور لکھنے کا
معاملہ اس سے الگ ہے ۔ ذہن میں خیال آیا کہ یہ ڈاکٹر بھی ہیں اور پروفیسر بھی ہیں
مگر طبیعت اور دل کے بہت سادہ ہیں ۔ بنتے سنورتے نہیں مگر جس دن کا لج بن سنور کر
آتے ہیرو پھر بھی نہیں لگتے تھے کیوں ان کا جسم فربہ اور فالج کے اٹیک کی بدولت
ڈھیلا ڈھالا سا ہے۔ ایک ہاتھ میں کھچاؤ کی بدولت انگلیاں عمومی طور پر سیدھی ہی
رکھتے ہیں آدمی جو سیدھے سادے ٹھہرے۔
بی۔ اے کا امتحان پاس کرنے کے بعد میں ان سے مشورہ لینے
گیا کہ میں اب کیا کروں۔ تب سرگودھا یونیورسٹی بن چکی تھی۔ کہنے لگے " یار
تیری مونچھیں شو چھیں بھی ہیں خوب جوان ہو ایسا کر وایل۔ ایل ۔ پی کر او یا ایم ۔
اے اردو کر لو اچھے رہ جاؤ گے۔ میرے ساتھ میر ادوست نذیر سلطان میکن (وجھ) بھی
تھا۔ مشورہ تو مجھے بہت پسند آیا مگر میں نے ایل۔ ایل۔ بی کا داخلہ اپنے دوست کے کھاتے میں ڈالا اور خود ایم
۔اے اردو میں داخلہ لے کر ایک دفعہ پھر استاد محترم کی شاگردی اختیار کر لی۔ بعد
ازاں معلوم ہوا کہ ان کے مشوروں پر عمل کر نے والے فائدے میں رہتے ہیں۔ ان کے مخلص
مشورے کا احوال پر وفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر کی زبانی سنیے:
"جب میں نے اورینٹل کالج لاہور میں ایم اے اردو کا
داخلہ فارم جمع کروایا تو ساتھ ہی گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم اے سائیکالوجی میں
بھی فارم جمع کروایا۔ میر انام دونوں طرف آ گیا۔ اب فیس کی آخری تاریخ بھی دونوں
جگہوں پر ایک ہی دن تھی تو میں تذبذب کا شکارتھا کہ اب کیا کروں۔ وہاں اور ینٹل کالج لاہور میں
میری ملاقات غلام عباس گوندل سے ہوئی یہ بھی سر گودھاسے تھے تو انھوں نے بڑاخوب
صورت مشور وہ دیا۔ کہنے لگے " سائیکالوجی پڑھ کر دوسرے در جے کا طالب علم بن کر جینے سے بہتر ہے کہ اردو میں داخلہ لے کر اول در جے کا طالب علم بن کر جیا جائے''۔ یوں زاہد منیر
عامر نے غلام عباس گوندل کا مشورہ مان کر اور ینٹل کالج لاہور میں داخلہ لیا اور
اردو ادب کی دنیا میں اپنا نام اور وقار بلند کر کے اپنے مخلص مشیر کی دور اند یشی
کو سچ کر دکھایا۔
مرعوب نہیں ہوتے لیکن اچھے کام کی تعریف کرتے ہیں خوش
بھی ہوتے ہیں مگر کسی چیز کے دلدادہ نہیں ہیں سوائے سرسوں کا ساگ اور بھنے ہوئے
چنے۔
گورنمنٹ کالج سرگودھا بعد ازاں یونیورسٹی میں جہاں ہم
اپنے بہت سے پروفیسر صاحبان کو خوش گپیوں مصروف دیکھتے تھے وہاں ان کو کبھی نہیں
دیکھا۔ ان کو جب بھی دیکھا پر وفیسر منیر حسین بھٹی کے کمرے میں صوفے پر لیٹے سوچ
بچار میں یا پھر اپنے یار خاص منیر حسین بھٹی کے ساتھ خوش تو نہیں البتہ تھوڑی
تھوڑی گپیوں میں دیکھا اور سنا۔ استاد محترم کو شاید عشق کرنے کی فرصت ہی نہیں ملی
تھی اور نہ وہ کسی سندر ناری کے پیچھے بھاگنے کے متحمل ہو سکتے تھے کیوں کہ وہ
بھاگنے کو اچھا نہیں سمجھتے ۔ اس لیے کبھی سکول سے بھی نہیں بھاگے ہوں گے ۔ کم
لوگوں سے متاثر ہوتے ہیں ، مجھے تو ہمیشہ ان کی کل کائنات منیر حسین بھٹی ہی نظر آئی
۔۔ ان کے پیچھے بھی بھاگتے نہیں تھے لیکن سائیکل پر ساتھ ساتھ رہتے تھے۔
مزاجا
سخت ہیں مگر ہر سخت دل آدمی کی طرح دل کے بہت پولے ہیں۔ جہاں بات انا کی آ جائے وہاں سمجھوتہ نہیں کرتے شاید کلام اقبال کی گہری تفہیم کا
نتیجہ ہے۔ غصے میں اپنا نقصان کرتے ہیں کبھی کسی طالب علم کو ان کے غصے کا خمیازہ
نہیں بھگتنا پڑا۔ لڑ کھڑ اتے ضرور ہیں مگر ڈولتے نہیں ہیں۔ یونیورسٹی کے ان چنیدہ
اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں جن کا رویہ لڑکوں لڑکیوں، گوروں، کالوں کے ساتھ مساوی
رہتا ہے ۔ استاد کی عظمت اور حرفت کا پاس انھوں نے ہمیشہ رکھا ہے۔ ایماندار ،سچے
اور کھرے آدمی ہیں۔ بات منہ پر اور دو ٹوک انداز سے کرنے کے قائل ہیں ۔ منافقت اور
منافقانہ چالبازیوں سے شدید نفرت ہے۔ غیر روایتی طرز فکر اور عمیق سوچ کے مالک ہیں
جس کا دم ان کے ہزاروں طالب علم بھرتے ہیں۔ مشورہ اور طلبا کی راہ نمائی مخلص ہو
کر کرتے ہیں مگر کسی طالب علم کا دم نہیں بھرتے ۔ شاگردوں کو یاد رکھنے میں سرگودھا
کی نامور ادبی شخصیت ریاض احمدشاد مرحوم کے قول پر عمل پیرا نظر آتے ہیں کہ ” وہ
شاگر دہی کیا جسے یاد کروانا پڑے“۔ اس لیے ان کے چہیتے شاگر و خود ہی ان کو یاد کر
لیتے ہیں مگر دکھ سکھ کے عالم میں وہ بھی پیچھے نہیں رہتے۔ میل ملاپ کے آدمی نہیں
ہیں ، اپنی ذات میں مگن ،خود ہی محفل خود ہی انجمن ۔ ویسے ان کے کزن پروفیسر عبد
الحئی گوندل سے سنا تھا کہ انجمن ان کی پسند ید واداکار ہ تھی ۔۔۔ میں نے کبھی ان
کو فلمیں ،ڈرامے یا گانے سنتے نہیں دیکھا۔
ایم
۔اے میں ہمیں تنقید کا مشکل مضمون پڑھاتے تھے کہ نیند کی دیوی پوری کلاس پر مہربان
ہونے لگتی مگر ایک لمحے بعد کوئی ایسا جملہ یا پہلو اپنے موضوع سے دلچسپی کا بیان
کرتے ہیں کہ فورا ایک توانائی کلاس کے اندر آ جاتی اور ارسطو کی بوطیقا اور کولرج
کی قوت متخیلہ کا مفہوم آنکھوں تلے پھر جا تا۔ جی !جی ! ہاں جی ہاں جی ! کی تکرار بھی خوب مزہ دیتی۔ دھیما
بولتے ہیں ، لہجے میں دھیما پن ہے ، نہ تیز رفتار نہ تیز گفتار نہ ر نگین مزاج مگر
سوچ کر بولتے ہیں اور گہر ا بولتے ہیں۔ ان کی باتوں کو تولنا پڑتا ہے وہ عمومی سطح
کی نہیں ہوتی ہیں۔ ان کی نگرانی میں لکھے جانے والے مقالہ جات اور طلبا روشن
مستقبل کی طرف گامزن نظر آتے ہیں۔
سر گودھا یو نیورسٹی میں ایک بار شعبہ
اردو ، تیسری منزل پر منتقل ہوا جس کو سر کرتے کرتے سر اکثر ہانپ جاتے تھے، مگر
شعبہ اردو کے طالب علموں کے دلوں کو تسخیر کرنے میں ان کی طبیعت ہمیشہ شاد ہی رہی۔
ان کی طبیعت میں ٹھہراؤ ہی ٹھہراؤ ہے ۔
اگر لیٹے ہوں اور ہزار کا نوٹ جیب سے گر جاۓ
تو اٹھانے کی زحمت گوارا نہیں کرتے پھر کسی لمحے کے لیے موقوف کر دیتے ہیں۔ سچ تو
یہ ہے کہ ان کے نوٹ بھی کوئی نہیں اٹھاتا۔ ولی دکنی کو اس لیے پسند کرتے ہیں کہ یہ
شعر ان کو بچپن میں ہی گھائل کر گیا۔ اس کے بعد ان کی رفتار میں زندگی بھر اعتدال
رہا۔
ہزاروں
لاکھوں خو باں میں سجن میراجوں کے طرح چلے آہستہ آہستہ
ستاروں میں چلے جیوں ماہتاب آہستہ آہستہ
ولی
کو پسند تو کرتے ہیں مگر ولی کی طرح جمال پرست نہیں۔ ہاں باذوق ضرور ہیں کیوں کہ
خود بھی شاعر ہیں۔ مگر اپنے شعر اپنے محبوب کی طرح سنبھال کر رکھے ہیں ۔ میر کی
شاعری کو پسند کرتے ہیں مگر میر کے عہد سے نالاں ہیں۔
ناصر
کا قلمی سے ادبی محبت کرتے ہیں اور مجید امجد کی گہری رمز وں سے اپنے شاعرانہ ذوق
کی تسکین کرتے ہیں۔ حسرت موبانی کی شرافت انھیں پسند ہے، خود بھی شریف النفس ہیں ۔
ان کی شرافت سے پروفیسر ڈاکٹر عامر سبیل ( سابقہ صدرشعبہ اردو ،یونیورسٹی آف
سرگودھا) اس قدر متاثر تھے کہ وہ اکثر کہتے تھے کہ ہمارے شعبہ اردو میں دو گوندل
پر وفیسر ( غلام عباس گوندل ، محمد یار گو ندل ) ہیں مگر دونوں اپنی حرکتوں سے
گوندل بالکل معلوم نہیں ہوتے ہیں کیوں کہ وہ شعبہ میں نہ تو کبھی کسی سے لڑتے ہیں
اور نہ گالیاں دیتے ہیں “۔ ہر طرح کی صورت حال میں گھبراتے نہیں ہیں ۔ اردو کے اس محاورے
” جلدی کام شیطان کا “کو انھوں نے دل پر ایسا لیا کہ زندگی سے جلدی نام اور کام کی
ساری چیز میں ختم ہو گئیں۔ حیرت ہے کہ پھر بھی وہ اپنے امور میں کبھی پیچھے نہیں
رہے۔ صبر کا دامن بھی ہمیشہ ہاتھ میں رکھتے ہیں یا پھر کتاب۔۔۔ اگر اچانک کوئی
بھاگ کر آیا کہ آپ کے ساتھ والے مکان میں آگ لگی ہے تو جائیں گے ضرور مگر اپنی
رفتار سے ۔ کیوں کہ ان کی چال سست اور سمت ہمیشہ درست رہی ہے ۔ غلام عباس کا
افسانوی رنگ اس لیے مجھے محسوس ہو تا ہے کہ جس طرح سالہا سال
ان کے ذہن میں کہانی پکتی رہتی تھی اسی طرح ان کے ذہن کے اندر بھی فکر اور دیگر
امور پر سوچ وبچار کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ وہ زندگی کو ہمیشہ اپنی اور گہری نظر سے
دیکھنے کے قائل ہیں۔ جوڑ توڑ اور دنیا داری کے معاملات ان کی زندگی سے کوسوں دور
ہیں ۔ کپڑے تو بدلتے ہیں کبھی کبھار پینٹ شرٹ پہن کر جو ان بھر نظر آتے ہیں مگر
بال بنانے کا موقع ان کی زندگی میں خال خال ہی آیا ہو۔ کیوں کہ وہ کسی کے لیے باہر
جاتے بھی نہیں ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یو نیورسٹی تک گئے بھی تو عصر کو واپس گھر ۔
گھر بندی کو پسند اور سفر کو انگریزی میں sufferسمجھتے ہیں۔
نہ صرف طلبا بلکہ اپنے
رفیق کاروں کے ساتھ ان کا تعاون اور راہ نمائی ہمیشہ کامیابیوں کے در کھولتی رہی
ہے ۔ ان کی علمی استعداد اور غیر معمولی صلاحیت کا ایک واقعہ نقل کر تاہوں: ''ایک
روز لاہور سے ایک مشہور مزاح نگار اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے کے سلسلہ میں راہ نمائی
لینے اور ملنے ان کے پاس آئے۔ وہ اپنے مقالے کے سلسلہ میں بہت پریشان تھے اور وقت
کی کمی کی بدولت ان کی حالت بری تھی۔ ان کا موضوع تحقیق بھی خاصا وسیع تھا۔ میں
بیٹھا یہ باتیں سن رہا تھا۔ استاد محترم نے ان کو کہا کہ کاغذ، قلم پکڑیں اور بیس منٹ میں ایسے مشورے اور راہ نمائی فرمائی کہ جو
روتا ہوا آیا تھا وہ ہنستے ہوئے چلا گیا ''۔
اپنے دوستوں کی مقالاتی غفلت بھی برداشت نہیں کرتے۔ ڈاکٹر فیاض احمد
فیضی جب تحقیقی مقالے سے جی چرانے لگے تو انھیں کہاکہ بوریا بستر اٹھا کر میرے گھر
آجائیں اور یوں بر وقت ان سے مقالہ مکمل کروایا۔ یہی سلوک ڈاکٹرتنویر الرحمن سے بھی
کیا۔
زیادہ ہنسنے سے دل مر دہ ہو
جاتے ہیں اس لیے استاد محترم کم کم موقعوں پر زیادہ ز یادہ ہنس لیتے ہیں مگر ایسے
مواقع بھی خال خال آتے ہیں ۔ شاید وہ بڑے لوگوں کی طرح خود پر ہنستے ہوں۔ ان کی
ذہانت و فطانت کا چرچا ان کے طالب علم ہی نہیں ان کے استاد بھی کرتے ہیں ۔ راقم کو
ایک مضمون( انتظار حسین کی کالم نگاری ) کے ضمن میں راہ نمائی در کار تھی تو کسی
نے کہاڈا کٹر سہیل احمد خان سے ملیے چناں چہ میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، لاہور ان
کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جب میں نے بتایا کہ سرگودھا سے آیا ہوں تو انھوں نے فورا
کہا ''وہاں غلام عباس سے مل لیتے “۔
اردو ادب کے ہر پہلو پر بات کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اور
تیار نہ بھی ہوں تو لیٹے لیٹے بھی گفتگو کرلیتے ہیں ۔ مجھے کئی بار ان کے ہاں جانے
کا اتفاق ہوا تو جس موضوع پر راہ نمائی در کار ہوئی استاد محترم بیماری کی صورت
میں بھی لیٹے لیٹے بولتے جاتے اور میں لکھتا چلا جاتا۔ ان کے مطالعے کی وسعت اور
گہری علمی و ادبی دسترس ان کے طلبا کے منہ سے ہمہ وقت سننے کو ملتی ہے۔ سوچتے اور
پڑھتے زیادہ ہیں مگر لکھتے کم ہیں۔ اسلامیہ یونیورسٹی ، بہاول پو رے " قواعد
" کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل کی تو نگران مقالہ ڈاکٹر محمد شفیق نے
اپنے اس ہونہار شاگر د پر فخر کیا ہے ۔ استاد محترم سے بھی اپنے شفیق استاد کا ذکر
اتنی دفعہ سنا کہ ڈاکٹر شفیق احمد سے ملاقات کو جی چاہتا ہے ۔ کم لکھا مگر اچھا
اور معیاری لکھا پھر وہی افسانہ نگار غلام عباس کی روش( مقدار نہیں، معیار )۔
لوگ عہدوں کے حصول کے لیے نہ جانیں کیا کیا پاپڑ بیلتے ہیں مگر ساری
زندگی ان کی منطق انو کھی ہی رہی کہ وہ صاحب بننے سے کتراتے رہے۔ ایک وقت آیا کہ انھیں صاحب بننا
پڑا اور یونیورسٹی آف سرگودھا میں دہ ڈین آف آرٹس کے عہدے پر مامور ہوئے ۔ عام لوگ
اقتدار ملتے ہی اپنا آپ ظاہر کر دیتے ہیں مگر استاد محترم ڈین آف آرٹس وہی رہے ان
میں رتی برابر فرق نہ آیا۔ کہنے لگے " میرا جی کر تا ہے کہ ریٹائرمنٹ پر یو
نیورسٹی کو پچاس ہزار کتب ( سافٹ کاپی ) کا تحفہ دوں۔ ایسی سوچ بہت کم لوگوں کو
نصیب ہوتی ہے۔ ایک روز ڈین آفس میں کام میں مصروف تھے کہ ایک طالبہ آئی اور ایم اے
اردو میں فیس کے کسی معاملے میں بات کرنے لگی۔ وہ اپنی بات نہ سمجھا سکی تو اس نے
اپنا چالان فارم ان کے سامنے رکھ دیا۔ استاد محترم جو اس وقت یونیورسٹی کے ڈین ہیں
انھوں نے ایک کاغذ اٹھایا اور اس طالبہ کی درخواست لکھنے لگ گئے۔ میری حیرت کی
انتہا نہ رہی کہ یونیورسٹی میں ایک کلرک کے عہدے پر بیٹھا ہوا شخص بھی کسی طالب
علم کو خود درخواست لکھ کر نہیں دیتا۔ یقینی طور پر استاد محترم جس کرسی پر
براجمان ہیں وہ اس عہدے کاوقار ہے۔
میں نے ان کے اوسان کو ہمیشہ بجا پایا ہے۔ حاضر جواب آدمی ہیں سوالات سے خوش ہوتے
ہیں اور طلبا کو تسلی بخش جو اب بھی دیتے ہیں۔ انھوں نے ارسطو کے تنقیدی نظریات
میں پڑھا تھا کہ آدھا علم مکالمے میں ہے ۔ حسن عسکری کے تنقیدی نظریات کو بھی گھول
کر جوانی میں ہی پی لیا تھا اور کبھی کبھار پروین شاکر اور فہمید وریاض کی شعری
کتب کو بھی ٹٹول لیتے ہیں۔ ان کی راۓ میں ہچکچاہٹ
نہیں ہوتی ہمیشہ دوٹوک جواب دیتے ہیں مگر "لارا نہیں لگاتے کبھی کبھی پنجابی
والا جواب بھی دے جاتے ہیں۔ لفظ ” ڈاکٹر کی حرمت شناسی پر بھی پورا اترتے ہیں ۔
اگر کوئی ادب کا سوال کرے تب بھی، کوئی میڈ یسن کابپوچھ لے تب بھی حتی کہ کوئی ہو میو پیتھک میں امان
ڈھو نڈے تب بھی ڈاکٹر صاحب کو ادھر ادھر کھسکنا نہیں پڑتا۔ عالم آدمی کے قدر دان
ہیں مگر ہر کسی کی محبت کا دم نہیں بھرتے البتہ مؤدب شاگردوں کی طرح میں
نےانھیں اپنے اساتذہ بالخصوص سجاد باقر رضوی ڈاکٹر سہیل احمد خان، محمد فخر الحق
نوری، تحسین فراقی ، ڈاکٹر خواجہ زکریا اورڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی محبت کا دم
بھر تے خصوصی طور پر دیکھا ہے ۔ ان میں فرشتوں جیسی صفات تو موجود نہیں ہیں البتہ
انسانی دردمندی کے مظاہرے کا میں بیس بائیس برس سے شاہد ہوں۔ ان کی سادگی ان کی زندگی
کا اسلوب ہے ۔
umar
ReplyDeleteArif
ReplyDeletenicework
ReplyDeleteI '"m nilmini. Good work. Keep it Up up up up... nice
ReplyDeletegood one interest in reading.
ReplyDeleteGood interested
ReplyDelete