Skip to main content

اقبال اور مغربی تہذیب||ڈاکٹر ساجد جاوید||Iqbal r Maghrabi Tehzeeb lecture Dr.Sajid javed

ڈاکٹر ساجد جاوید

 اقبال اور مغربی تہذیب

بزم فکر اقبال پاکستان کے زیر اہتمام "فکر اقبال کورس" کا پندرہواں لیکچر  ''اقبال اور مغربی تہذیب " کے عنوان سے جناب ڈاکٹر ساجد جاوید نے آن لائن گوگل میٹ پہ ۲۷۔اکتوبر ۲۰۲۱ء کو سامعین  کے گوش گزار کیا ۔

ڈاکٹر ساجد جاوید سرگودھا یونی ورسٹی میں تدریسی فرائض سرانجام دے رہے ہیں ویسے تو ان کی پہچان علم لسانیات ہے لیکن وہ اپنے تحقیقی استدلال اور متوازن تنقیدی رائے کی وجہ سے وہ ادب کے بارے میں اچھوتے اور منفرد پہلو سامنے لاتے ہیں ۔ان کا استدلال کئی نئے سوالات کو جنم دیتا ہے جو کہ بطور سکالر ان کو نمایاں مقام دیتا ہے ۔اس لیکچر میں بھی ڈاکٹر صاحب نے اقبال کے یورپی تہذیب کے بارے میں روایتی بیانات سے ہٹ کر ایک نئی صورت دریافت کی ہے ۔

ڈاکٹر صاحب کے مطابق اقبال کا مغربی تہذیب سے پہلا تعارف بطور طالب علم ہوتا ہے۔اقبال ۱۹۰۰ء کے قریب لاہور میں آ چکے تھے جو اس وقت حالی اور آزاد کے ادبی خیالات اور غزل کا کلاسیکی جبہ اتار کے نظم  اور موضوعاتی مشاعروں سے پوری طور پر روشناس ہو چکا تھا اس کے ساتھ ہی لاہور ایک صنعتی مرکز بھی بن رہا تھا ۔۔۔۔۔

اقبال ایک نو آبادیاتی سماج میں سانس لے  رہے تھے اور ان کا مرتب کردہ نصاب پڑھ رہے تھے ان کی تعلیمی اصلاحات سے مستفید ہو رہے تھے  اس وقت ان کا مغرب سے رشتہ ایک علم پسند قوم کے طور پر ہوتا ہے ۔۔۔۔۔

اقبال ابتدائی شاعری میں فطرت پرستی کی طرف مائل نظر آتے ہیں جو مغرب کی رومانوی تحریک سے متاثر ہونے کی وجہ سے تھا  پہلی نظم "ہمالہ" ہی فطرت پرستی کی مثال ہے  ان کی ابتدائی شاعری میں خدا ،فطرت اور انسان کی تکون بنتی ہوئی نظر آتی ہے ۔

اس فطرت پرستی کے ساتھ غالب عنصر بغاوت کا ہے ابتدائی شاعری میں جو کہ خود رومانوِی تحریک کا ہی ایک حصہ ہے ۱۹۰۵ء تک ان کی شاعری کا یہی غالب عنصر نظر آتا ہے ۔۔۔

 اگر آپ ۱۹۰۵ء سے ۱۹۰۸ء تک کی نظموں کا مطالعہ کریں تو بھی اقبال کا مغربی تہذیب کی طرف کوئی جارحانہ یا منفی پہلو نظر نہیں آتا لیکن ۱۹۰۸ء میں مغرب سے واپسی پر اقبال کا نظریہ بدلتا ہے اور وہ ایک تبدیلی سے گزرتے ہوئے نظر آتے ہیں اب وہ بلاد اسلامیہ پر نظمیں لکھتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔اقبال نے یورپی تہذیب کو قریب سے دیکھا اور یورپی معاشرے کے عام انسان اور نو آبادیاتی شکنجے میں جکڑے عام انسان کے ساتھ یورپین حکمرانوں کے ورتارے کو دیکھا انھیں اس میں تفاوق نظر آیا ۔انھوں نے یورپ کے مشرقی قوموں کے متعلق خیالات کو مسترد کیا اور اپنے مشاہیر اور قابل فخر ماضی کو ان کے مقابلے میں پیش کیا ۔۔۔

مشرقی لوگ جاہل ہیں اجڈ ہیں غیر مہذب ہیں یہ وہ تعبیریں تھیں جو وہاں نو آبادکار عوام کے سامنے کرتے تھے اسی لیے بانگ درا کے تیسرے دور مین آپ کو ایسی نظمیں ملتی ہین جن میں اقبال اپنے مشاہیر کی تعریف و توصیف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن ان کا انداز طنزیہ و نفرت کا نہیں تھا ۔

۱۹۱۵ء میں اقبال کی کتاب "اسرار خودی "منصئہ شہود پہ آتی ہے اقبال اس کادیباچہ اردو میں لکھتے ہیں اس دیباچے مین آپ مغرب  اور مشرق کی تہذیبوں کے انجذاب سے ایک تیسرا فلسفہ کھڑا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔اقبال مغرب کی مابعدالطبیعات سے دوری اور سرمایہ دارانہ نظام کو ان کے زوال کا سبب سمجھتے ہیں کیوں کہ مابعد الطبیعات ہی وہ محرک ہے جو قوموں کو شائستہ اور اعلا اقدار کا مالک بناتی ہے:۔

دیار مغرب کے رہنے والو  خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو ،وہ اب زر کم عیار ہو گا

اسی طرح مغرب کی تہذیب جو ایک مخصوص معاشی نظام  پہ استوار تھی اس کے بارے میں لکھتے ہیں:

نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی
یہ صناعی مگر جھوٹے  نگوں کی ریزہ کاری ہے

اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے نظم "ابلیس کی مجلس شوری" کی طرف قارئین کی توجہ دلائی اور اقبال کے فکری عروج پہ ان کے مغربی تہذیب کی طرف  اشارے واضح کیے  ملوکیت و اشتراکیت پر بحث کی ۔۔۔۔انھوں نے یہاں ملوکیت سے مراد غرور کی طاقتوں کو لیا ۔۔۔۔

آخر میں اپنی بحث کو لپیٹتے ہوئے فاضل سکالر نے اقبال کا کسی مخصوص تہذیب کا دشمن ثابت نہیں کیابلکہ اقبال کو ایک علم دوست اور سچائی پسند ناقد کی صورت میں پیش کیا انھوں نے کہا کہ اقبال نے مغرب کی خوبیوں کو بھی سراہا ہے اور خامیوں پر گرفت بھی کی ہے ۔۔۔

رپورٹ قیصر شہزاد ساقی

Comments

Popular posts from this blog

حسن تعلیل||صنعت حسن تعلیل کی مثالیں||اردو کی اہم صنعتیں||urdu ki mashhoor sanatain

  حسن تعلیل اردو لیکچرر کے لیے معاون مواد پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں تعلیل عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے علت یا  وجہ بیان کرنا یا توجیح پیش کرنا ‘’حسن تعلیل شعری صنعت ہے جس میں شاعر کسی واقعے کی اصل منطقی ،جغرافیائی یا سائنسی  وجہ کو نظر انداز کر کے  تخیلاتی جذباتی اور عین شاعرانہ وجہ بیان کرتا ہے ‘’     مثال بے سبب زلزلہ عالم میں نہیں آتا ہے کوئی   بے تاب تہ خاک   تڑپتا      ہو    گا زلزلے کی سائنسی وجہ تو زیر زمیں پلیٹس کے اندر تبدیلی یا ٹکراو کو سمجھا جاتا ہے لیکن  شاعر نے تخیلاتی سطح پہ اس کی شاعرانہ وجہ کسی عاشق کا زیر زمیں تڑپنا بتائی ہے   سب کہاں ؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں غالب نے اس شعر  گل و لالہ کا نمایاں ہونے کی وجہ زیر زمیں پنہاں ہونے والے خوبصورت چہروں کو بیان کیا ہے  امید ہے آپ حسن تعلیل سے آگاہ ہو چکے ہیں مزید مثالوں اور مشق کے لیے یہاں دبائیں

کہانی از ڈاکٹر سعادت سعید

 کہانی پر کیف رات اپنے تبسم میں غم لیے  پسماندگان زیست پر نوحہ کناں رہی  میں حزن بے کراں تھا یا سیل غم حیات  ہر پل مری نگاہ میں اک روشنی رہی!  وہ روشنی کہ جس سے مرااسم زندہ تھا  وہ روشنی بسر کے کسی سے مری رہی! عہد وفا سے ناتہ مراٹوٹ بھی چکا لیکن وہ رفتگی ہے کہ یوں سوچتا ہوں میں  میری کہانی اس کو اگر یاد بھی نہ ہو میری پرستشوں کی نہیں انتہا کوئی  اس کے سلگتے سانس مری دھڑکنوں میں ہیں ! جب رات بھیگنے لگی میں سوگوار تھا!   تب چاندنی نے جھوم کے مجھ سے کہا چلو!  ان بستیوں میں چلتی ہواؤں کے درمیان  جن کا ہر ایک کو چہ لب بام حشر ہے  جن کے ہر ایک خیمے یہ لکھا ہے میرا نام !  نا آشنا ہوائیں ہیں برق نگاہ حسن  ان کی عنائتوں سے ہرے پیڑ جل گئے  ندی کا بہتا پانی بھی  شعلہ نفس ہوا! جی جگمگا اٹھا تھا، جگر جھلملا اٹھا  میرے گماں میں کوند گئی برق شبنمی اس کا جمال اپنی بقا کا بھرم لیے ہر پل مرے خیال سے بچتا رہا کہ میں ارض بہار عشق کا مالک تھا، پراسے محکوم ہو کے مجھ سے محبت نہ ہوسکی ! میرے لہو سے کرب کی چنگاریاں اٹھیں ...

لطائف اقبال/اردو لطیفے||اردو طنزو مزاح||Allama Muhammad Iqabal

لطائف اقبال علامہ اقبال۔۔۔۔۔ساقی نامہ   مغرب کے اہل سیاست اقبال کی نظر میں کیمرج کے زمانہ میں چند ہم عصروں سے مذہب پر بحث چھڑ گئی۔ایک صاحب پوچھنے لگے مسٹر اقبال یہ کیا بات ہے کہ جتنے پیغمبر اور بانیان مذہب دنیا میں آئے وہ بلا استثنا ایشیا میں مبعوث ہوئے۔یورپ میں ایک بھی نبی مبعوث نہیں ہوا؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا۔بھئی شروع شروع میں اللہ میاں اور شیطان نے اپنا اپنا پیترا جما لیا۔اللہ میاں نے ایشیا کو پسند کیا اور شیطان نے یورپ کو۔۔۔اس لیے پیغمبر جو اللہ میاں کی طرف سے آئے ہیں ایشیا میں مبعوث ہوئے ۔وہ صاحب بول اٹھے تو پھر شیطان کے پیغمبر کیا ہوئے ۔انھوں نے جواب دیا:''یہ تمھارے میکائیولی اور مشہور اہل سیاست اس کے رسول ہیں ۔'' [اس پر خوب قہقہہ پڑا ] دنیا میں جنت دوسری گول میز کانفرنس کے زمانے میں انگلینڈ کی مشہور سیاح خاتون مس روزیتا فوریس نے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات  کا شوق ظاہر کیا۔چناں چہ مس صاحبہ نے انھیں اپنے ہاں مدعو کیا۔یہ خاتون شمالی افریقہ اور  اسلامی ممالک میں بہت زیادہ پھری تھیں اور ان پراس سیاحت کا بہت اچھا اثر پڑا تھا۔ڈاکٹر صاحب کے خیال میں ان کا محل جو لندن م...