Skip to main content

فکر اقبال کے ماخذ[لیکچر نمبر ۵]

 لیکچر نمبر :۵

فکر اقبال کے ماخذ[لیکچر نمبر ۵]
فکر اقبال کے ماخذ[لیکچر نمبر ۵]

فکر اقبال کے ماخذ

مقرر:علامہ زید گل خٹک                                                                       

تاریخ:۲۳۔اکتوبر ۲۰۲۱ء

[بزم فکر اقبال کورس کی تفصیل جاننے کے لیے Click Here]

علامہ زید گل خٹک نے اقبال کو زمانہ کو امتزاج کا دور کہا  جہاں ایک تہذیب پر جدید تہذیب اپنے بعض تصرفات کے لحاظ سے غالب تھی۔یہ دور سائنس کی ترقی کا دور ہے جہاں سائنس نے چرچ کو دیوار سے لگا دیاتھااس کے علاوہ یہ عہد عملی ایجادات  اور صنعتی انقلابات کا دور تھا  لیکن اس نکتہ کا شعور ہر طالب علم پہ لازم ہے کہ جدید تہذیب ایک جمود کے مقابل کامیاب ہوئی جو کہ مذہب نہیں  تھا  بلکہ مذہب سے انحراف پر مبنی تھا ۔

علامہ موصوف نے اقبال کی فکر کے لیے دس[۱۰] ماخذات کو اہم بتایا جو کہ مندرجہ ذیل ہیں :

·        الکتاب

الکتاب سے مراد قرآن مجید ہے ۔اقبال کی فکر کی اساس کتاب اللہ ہے  اور قرآن سے اقبال کا استدلال ''شہودی''ہے جس کا مطلب ہے کہ قرآن کے معنی اس طرح بیان کیے جائیں کہ وہ قلب پر شہود/جلوہ کریں۔

ترے ضمیر  پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب

گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف

·        السنہ

السنہ میں نبی پاک سرور کائنات کا عمل ،اقوال اور  طرز معاشرت  آتا ہے  یعنی سنت و حدیث کا کامل مطالعہ اور اس سے زندگی کے مطالب اخذ کرنا۔

·        الآثار

امہات المومنین،اہل بیعت ،صحابہ کرام اور تابعین کے اقوال افعال

·        التعامل

اسلامی فکر کا سلسلہ جو ابتدا سے آج تک منقطع نہیں ہوا بلکہ پوری طرح مربوط اور روشن ہے ۔کتنے ہی سانحوں اور صدموں کا اسلامی تاریخ کو سامنا رہا ہے لیکن فکر کا عمومی رویہ اس سے منقطع نہیں ہوا بلکہ وہ اپنے ماخذ سے مربوط ہے

·        تسلسل

اگر اسلامی تاریخ میں فکری سطح پہ بددیانتی کی گئی یا کسی بڑے  کذاب کا سامنا ہوا پھر بھی اسلام کے فکری نظام کا تسلسل قائم رہا ۔اقبال سارے فتنوں سے متاثر ہوئے بغیر فکر کے مرکزی دھارے سے جڑے ہوئے ہیں جو کہ ایک تسلسل کا نام ہے ۔

·        مفاخر

اقبال مسلم تاریخ کے ہر قابل فخر پہلو سے جڑے ہوئے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں

·        تفکر

بطور مسلمان ہمیں  قرآن  میں غورو فکر کی تلقین کی گئی ہے  اور بطور انسان ہمارے اندر طلب  اور تجسس رکھا گیا گیا ہے جو کہ ایک فطری اور لازمی عنصر ہے ۔اقبال نے غورو فکر کا دامن کبھی نہین چھوڑااور یہی چیز انھیں فلسفی بناتی ہے

·        تشرب

وسیع تر فکر + امتزاج

·        تحرک

تحریک پر مبنی ۔۔۔۔جمود نہیں حرکت سے عبارت ہے

·        تشامل

تفریق نہیں بلکہ اجتماعیت

لیکچر کے اختتام پر علامہ صاحب نے شرکاء کے سوالات لیے اور ان کے موثر جوابات دیے ۔۔۔۔۔۔بزم فکر اقبال ایک موقر پلیٹ فارم ہے جہاں اقبال کی فکر کو نئے سرے سے دریافت کرنے کی سعی کی جا رہی ہے اور نئے عہد کو اقبال سے  روشناس کروایاجا رہا ہے ۔

 رپورٹ : قیصر شہزاد ساقی

Comments

Popular posts from this blog

حسن تعلیل||صنعت حسن تعلیل کی مثالیں||اردو کی اہم صنعتیں||urdu ki mashhoor sanatain

  حسن تعلیل اردو لیکچرر کے لیے معاون مواد پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں تعلیل عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے علت یا  وجہ بیان کرنا یا توجیح پیش کرنا ‘’حسن تعلیل شعری صنعت ہے جس میں شاعر کسی واقعے کی اصل منطقی ،جغرافیائی یا سائنسی  وجہ کو نظر انداز کر کے  تخیلاتی جذباتی اور عین شاعرانہ وجہ بیان کرتا ہے ‘’     مثال بے سبب زلزلہ عالم میں نہیں آتا ہے کوئی   بے تاب تہ خاک   تڑپتا      ہو    گا زلزلے کی سائنسی وجہ تو زیر زمیں پلیٹس کے اندر تبدیلی یا ٹکراو کو سمجھا جاتا ہے لیکن  شاعر نے تخیلاتی سطح پہ اس کی شاعرانہ وجہ کسی عاشق کا زیر زمیں تڑپنا بتائی ہے   سب کہاں ؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں غالب نے اس شعر  گل و لالہ کا نمایاں ہونے کی وجہ زیر زمیں پنہاں ہونے والے خوبصورت چہروں کو بیان کیا ہے  امید ہے آپ حسن تعلیل سے آگاہ ہو چکے ہیں مزید مثالوں اور مشق کے لیے یہاں دبائیں

کہانی از ڈاکٹر سعادت سعید

 کہانی پر کیف رات اپنے تبسم میں غم لیے  پسماندگان زیست پر نوحہ کناں رہی  میں حزن بے کراں تھا یا سیل غم حیات  ہر پل مری نگاہ میں اک روشنی رہی!  وہ روشنی کہ جس سے مرااسم زندہ تھا  وہ روشنی بسر کے کسی سے مری رہی! عہد وفا سے ناتہ مراٹوٹ بھی چکا لیکن وہ رفتگی ہے کہ یوں سوچتا ہوں میں  میری کہانی اس کو اگر یاد بھی نہ ہو میری پرستشوں کی نہیں انتہا کوئی  اس کے سلگتے سانس مری دھڑکنوں میں ہیں ! جب رات بھیگنے لگی میں سوگوار تھا!   تب چاندنی نے جھوم کے مجھ سے کہا چلو!  ان بستیوں میں چلتی ہواؤں کے درمیان  جن کا ہر ایک کو چہ لب بام حشر ہے  جن کے ہر ایک خیمے یہ لکھا ہے میرا نام !  نا آشنا ہوائیں ہیں برق نگاہ حسن  ان کی عنائتوں سے ہرے پیڑ جل گئے  ندی کا بہتا پانی بھی  شعلہ نفس ہوا! جی جگمگا اٹھا تھا، جگر جھلملا اٹھا  میرے گماں میں کوند گئی برق شبنمی اس کا جمال اپنی بقا کا بھرم لیے ہر پل مرے خیال سے بچتا رہا کہ میں ارض بہار عشق کا مالک تھا، پراسے محکوم ہو کے مجھ سے محبت نہ ہوسکی ! میرے لہو سے کرب کی چنگاریاں اٹھیں ...

لطائف اقبال/اردو لطیفے||اردو طنزو مزاح||Allama Muhammad Iqabal

لطائف اقبال علامہ اقبال۔۔۔۔۔ساقی نامہ   مغرب کے اہل سیاست اقبال کی نظر میں کیمرج کے زمانہ میں چند ہم عصروں سے مذہب پر بحث چھڑ گئی۔ایک صاحب پوچھنے لگے مسٹر اقبال یہ کیا بات ہے کہ جتنے پیغمبر اور بانیان مذہب دنیا میں آئے وہ بلا استثنا ایشیا میں مبعوث ہوئے۔یورپ میں ایک بھی نبی مبعوث نہیں ہوا؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا۔بھئی شروع شروع میں اللہ میاں اور شیطان نے اپنا اپنا پیترا جما لیا۔اللہ میاں نے ایشیا کو پسند کیا اور شیطان نے یورپ کو۔۔۔اس لیے پیغمبر جو اللہ میاں کی طرف سے آئے ہیں ایشیا میں مبعوث ہوئے ۔وہ صاحب بول اٹھے تو پھر شیطان کے پیغمبر کیا ہوئے ۔انھوں نے جواب دیا:''یہ تمھارے میکائیولی اور مشہور اہل سیاست اس کے رسول ہیں ۔'' [اس پر خوب قہقہہ پڑا ] دنیا میں جنت دوسری گول میز کانفرنس کے زمانے میں انگلینڈ کی مشہور سیاح خاتون مس روزیتا فوریس نے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات  کا شوق ظاہر کیا۔چناں چہ مس صاحبہ نے انھیں اپنے ہاں مدعو کیا۔یہ خاتون شمالی افریقہ اور  اسلامی ممالک میں بہت زیادہ پھری تھیں اور ان پراس سیاحت کا بہت اچھا اثر پڑا تھا۔ڈاکٹر صاحب کے خیال میں ان کا محل جو لندن م...